کیا 1973ءکے آئین کی اجڑی ہوئی کوکھ ہمیں انقلاب آفرین قیادت دے سکے گی ؟ (حصہ اول)

تقریباً پونے نو سال قبل شائع ہونے والا یہ کالم آج بھی ملک کے حالات سے بھرپور مطابقت رکھتا ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ وقت نے اس کالم کا ایک ایک لفظ سچ ثابت کردیا ہے

جو قوتیں کل تک کھل کر ” نظریہ ءپاکستان“ کے خلاف برسرِپیکار تھیں اگر آج درپردہ طور پر ” مملکت ِپاکستان“ کے خلاف کام کررہی ہیں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ نظریہ ءپاکستان کی مخالفت جن قوتوں نے کی تھی وہ تاریخ پر سرسری سی نظر رکھنے والوں سے بھی پوشیدہ نہیں۔ ان قوتوں کی مخالفت کے باوجود جب نظریہ ءپاکستان یعنی دو قومی نظریہ ایک سیاسی و جغرافیائی حقیقت بن گیا اور مملکتِ پاکستان نے ایک وفاق کی حیثیت سے جنم لے لیا تو اس مملکت کے بانی سے زیادہ بہتر طور پر کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ اپنے وجود کو ابتداءمیں ہی ٹھوس بنیادیں مہیا کرنے اور ہر گزرتے دن ہفتے مہینے اور سال کے ساتھ مستحکم اور ناقابل ِشکست بنانے کے لئے اس مملکت کے سامنے کیسے کیسے طوفانوں میں سے راستہ بنا کر آگے بڑھنے کا چیلنج تھا ۔ قائداعظم ؒ جانتے تھے کہ جن قوتوں نے دو قومی نظریہ اور قیامِ پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا وہ ہار مان کر خاموشی سے نہیں بیٹھ جائیں گی۔
ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ جس بطلِ جلیل نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا تھا اور جس کے ساتھ ہماری یہ امیدیں بھی وابستہ تھیں کہ وہ ہمیں اس کو چلانے والے نظام کا واضح نقشہ بنا کر بھی دے گا` اسے ڈاکٹر یہ بتا چکے تھے کہ تمہارے پھیپھڑوں کو چاٹنے والی بیماری تمہیں جینے کے لئے چند ماہ سے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔ قائداعظم ؒ کی بیماری ایک ایسا را ز تھی جس کا علم اگر نظریہ ءپاکستان کے مخالفین کو 1947ءکے اوائل میںہوجاتا تو اس مملکت کے قیام کا راستہ روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جاتا۔ اور میںاس نقطہءنظر کے ساتھ اتفاق کرتاہوں کہ جس مسلم لیگ کو ہم قائداعظم ؒ کی میراث قرار دیتے ہیں قائداعظم ؒ کی ذات کے بغیر پاکستان بنوانے کی اہلیت اس میں موجود ہی نہیں تھی۔ قائداعظمؒ کے بغیر مسلم لیگ کیا تھی اس کا اندازہ ان کی وفات کے فوراً ہی بعد ہونا شر وع ہوگیا تھا۔ صرف چند برس کے اندر مشرقی پاکستان میںجگتوفرنٹ بنا جس نے انتخابات میں 319میں سے 313نشستیں جیت کر وہاں مسلم لیگ کا نام و نشان مٹا دیا ۔ ملک کے مغربی بازومیں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی ` جب اقتدار مسلم لیگ سے چھین کر ایک نئی پارٹی (ری پبلکن) کے حوالے کردیا گیا جس کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس کی سربراہی وہی ڈاکٹر خان صاحب کررہے تھے صوبہ سرحد میں جن کی حکومت کو برطرف کرنا قائداعظمؒ کاپہلا بڑا اقدام تھا۔
قائداعظمؒ نے بے وجہ یہ بات نہیں کہی تھی کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔وہ جانتے تھے کہ جو کچھ کرنا ہے انہوں نے خود ہی کرنا ہے اور ان کے پاس کچھ کرنے کے لئے وقت بالکل نہیں تھا۔
جس آ ہنی عزم و ارادے کے ساتھ قائداعظم ؒنے اپنے نحیف لاغر اور تیزی کے ساتھ اجل کی طرف بڑھتے وجود کو قیام پاکستان کے بعدچند مہینوں تک اپنے پاﺅں پر کھڑا رکھا ` جس مضبوطی کے ساتھ انہوں نے اس مملکت کو آگے بڑھانے کے لئے بنیادی فیصلے کئے ` اور جتنی لگاتار محنت انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے کی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کو آئین یا اس کا کوئی واضح خاکہ وہ اس لئے نہ دے سکے کہ وقت ان کے ساتھ نہیں تھا اور وہ جانتے تھے کہ جس قسم کا آئین وہ پاکستان کے لئے مناسب سمجھتے تھے اس کی مخالفت میں وہ تمام ” فیوڈل لارڈ“ اٹھ کھڑے ہوں گے جنہوں نے انگریزوں کی حکمرانی کے آخری دور میں پارلیمانی جمہوریت کے تحت اقتدار کی برکات سے فیضیاب ہونے کا مزہ لوٹ لیا تھا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top