آرٹیکل370 کی منسوخی ،بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

  • مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 42 واں روز
  • جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے سپریم کورٹ میں مودی کے اقدام کے خلاف رٹ دائر کردی،پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کشمیر کا علیحدہ آئین تھا، بھارتی صدر کو کشمیری مقننہ کی منظوری کے بغیر وادی کی سیاسی شکل بدلنے کا اختیار حاصل نہیں
  • بھارتی قابض انتظامیہ نے مسلسل کرفیو، لاک ڈاﺅن، مواصلاتی رابطوں کی بندش سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی، جنازوں میں شرکت مشکل ہوگئی، شوپیاں کی45 سال کی خاتون کو والد کے انتقال کی خبر تک نہ ملی، درخواست میں موقف

سری نگر ( مانیٹرنگ ڈیسک )کرفیو کا 42واں دن، آرٹیکل 370 بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج،ومقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے مسلسل کرفیو اور لاک ڈا ﺅن کو 42 روز ہوگئے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں، مسلسل کرفیو، لاک ڈاﺅن، مواصلاتی رابطوں کی بندش کو 42 روز گ±زر گئے، کشمیریوں کی جنازوں میں شرکت مشکل ہوگئی، شوپیاں میں45 سال کی خاتون نصرت جبیں کو سری نگر میں اپنے والد کے انتقال کی خبر تک نہ ہوئی۔نوبل انعام یافتہ خواتین کی مودی کو ایوارڈ نہ دینے کی درخواست،ان کے ایک رشتے دار کا کہنا ہے کہ 75 سال کے بزرگ رحمٰن 24 اگست کو اپنے گھر کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔وہ آدھے گھنٹے تک سڑک پر بے یار و مددگار پڑے رہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے اور خون زیادہ بہہ جانے سے انتقال کرگئے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل370 کی منسوخی کے خلاف پٹیشن دائر کردی۔زاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم کا فیصلہ تسلیم کرلیا۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کشمیر کا علیحدہ آئین تھا، بھارتی صدر کو کشمیری مقننہ کی منظوری کے بغیر وادی کی سیاسی شکل بدلنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

Scroll To Top