پبلک سیکٹر میں نہ چلنے والے اداروں کو پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کر لیا، مشیر خزانہ

  • 20اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں
  • معیشت بحران سے نکل کر استحکام پر پہنچ چکی، روپے کی قدر اب مستحکم ہے ، اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے، ہم صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں تاہم ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی، عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد (الاخبار نیوز)معیشت بحران سے نکل کر استحکام پر پہنچ چکی، مشیر خزانہنیشنل بینکآف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی پریس کانفرنس اسلام ا?باد: وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس ریونیو کیلئے 5 ہزار 500 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، پچھلے سال کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ بہت تباہ کن تھا لیکن کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں کمی لائی گئی، پچھلے سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لائی گئی جس کے باعث کرنٹ اکاو¿نٹ خسارےمیں 73 فیصد کمی کی گئی۔
’عمران خان سیاست سے ریٹائر ہوجائیں تو ملکی معیشت ٹھیک ہوجائے گی‘انہوں نے کہا کہ ڈالر کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں دوست ملکوں نے بھر پور تعاون کیا، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 6 لاکھ اضافہ ہوا، جب حکومت آئی تو 19 لاکھ ٹیکس فائلرز تھے جو اب 25 لاکھ ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ریفنڈ کا نیا نظام شروع ہوچکا، اب ریفنڈ فوری طور پر ہوں گے اور 100 فیصد ہوں گے، ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیاں کردی گئیں اور اب کوئی واجب الادا نہیں۔
حفیظ شیخ کے مطابق معیشت بحران سے نکل کر استحکام پر پہنچ چکی ہے، روپے کی قدر اب مستحکم ہے اور اسٹاک مارکیٹ بھی اب بہتر ہے، ہم صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں تاہم ٹیکسز کے معاملے پر کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر میں نہ چلنے والے ادارے پرائیوٹ سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کیا، 10 نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہار دیے گئے ہیں، 20 اداروں کی تشکیل نو اور 10 اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ لائف کو بھی فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن کی جانب لانے کا سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہینے گردشی قرضے میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، نان ٹیکس آمدنی کے تحت 2 سیلولر کمپنیوں سے 70 ارب روپے وصول ہوئے، ایک اور سیلولر کمپنی سے 70 ارب روپے اضافی ملنے کی امید ہے۔

Scroll To Top