خواہ استعفوں کی تعداد 342تک جاپہنچے ! 20-08-2015

منگل کے روز بہت سارے واقعات رونما ہوئے ۔ اس روز کے سورج نے یہ ناقابلِ یقین منظر دیکھا کہ مولانا فضل الرحمان ” آئین کی کسی شق “ کی سربلندی کے لئے جناب الطاف حسین کے نائن زیرو میں رونق افروز ہوئے۔ یہ بالکل ایسی بات تھی کہ ” نعوذباللہ“ بھارتی وزیراعظم حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوجائیں یا پھر کوئی بڑا عالم دین کسی مندر میں جاکر عبادت کرے۔ مجبوریاں انسان سے کیا کیا نہیں کرواتیں؟ اور جو لوگ اپنے پیٹ یا اپنے نفس کی خاطر جیا کرتے ہیں ان کی مجبوریاں بھی مولانا طاہر اشرفی جیسی دیو قامت ہوا کرتی ہیں۔
دوسرا منظر اس روز کے سورج نے یہ دیکھا کہ دو ” شہسوار“ موٹر سائیکل پر آئے اور الطاف بھائی کے سابق نمکخوار رشید گوڈیل کو گولیوں سے چھلنی کرکے چلتے بنے۔ سابق کی اصطلاح میں نے اس لئے استعمال کی ہے کہ اگر وہ ” سابق “ نہ بنائے جاچکے ہوتے تو نائن زیرو میں مولانا کے استقبال کے لئے وہ بھی موجود ہوتے”تھے “ اور ” تھے بن گئے “ کا کلچر خود ہی بولتا ہے کہ اس کی جڑیں کہاں ہیں۔
لیکن میرے خیال میں سب سے اہم واقعہ اس روز جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نوازشریف کی ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ملاقات تھی۔
کچھ لوگ اسے دو بڑوں کی ملاقات کہیں گے اور کچھ کہیں گے کہ بڑا تو وزیراعظم ہی ہوتا ہے ‘ آرمی چیف بہرحال ایک ادارے کا ” مقرر کردہ “ سربراہ ہے۔
لیکن حقیقت کیا ہے یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں۔
جنرل راحیل شریف نے ڈیڑھ گھنٹہ وزیراعظم کی خیریت دریافت کرنے میں صرف نہیں کیا ہوگا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی بھارتی ” ناگ دیوتا “ سے طے شدہ ملاقات بھی زیر بحث آئی ہوگی اور جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر وزیراعظم کو یاد دلایا ہوگا کہ بھارت روزانہ کنٹرول لائن پر ہمارے معصوم شہریوں کو شہید کررہا ہے۔ اور یہ بھی کہ کشمیر کو سرد خانے میں رکھنے کی ” کاروباری عیاشی “ موجودہ حالات میں ” افورڈ“ نہیں کی جاسکتی۔
آرمی چیف نے میاں صاحب سے پوچھا ہوگا کہ ” ان سارے قصوں کے پیچھے اصل معاملہ کیا ہے۔ خواجہ صاحب کے بیانات کا معاملہ ۔۔۔ مشاہد اللہ کے انکشافات کا معاملہ۔۔۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کا معاملہ۔۔۔ مولانا کو امن کا سفیر بنانے کا معاملہ ۔۔۔ ؟“
آرمی چیف کے سوالات کو وزیراعظم صاحب نے کتنا پسند فرمایا ہوگا۔۔۔ یا ان کے جوابات سے آرمی چیف کتنے مطمئن ہوئے ہوں گے ۔ یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔
مگر یہ ہم سب جانتے ہیں کہ 20اگست کو کراچی میں ” اے پی سی “ کی جو میٹنگ ہورہی ہے اس میں تمام بڑے موجود ہوں گے اور ڈی جی رینجرز کی منشاکے عین مطابق اس عزم وارادے کا اعادہ کیا جائے گا کہ کراچی میں آخری دہشت گرد اور ٹارگیٹ کلر کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔۔۔ خواہ استعفوں کی تعداد342تک جا پہنچے!

Scroll To Top