کاش کہ پاکستان کا آئین لکھنے والے اکابرین ابن خلدون کو پڑھ لیتے! (حصہ دوم)

جن ” نقیبانِ انقلاب“ کی میں بات کررہا ہوں صرف وہی نہیں ’ ہمارے ” ثنا خوانانِ جمہوریت“ بھی یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ قوموں کا عروج وزوال ایک بڑے ہی عام اور آسان ” سچ“ سے منسلک ہے۔ اور وہ سچ یہ ہے کہ ان قوموں کو تباہی و بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا جو اپنی قیادت ایسے افراد کے سپرد کردیا کرتی ہیں جو دنیائے کاروبار و تجارت سے تعلق رکھتے ہوں اور جن کی اخلاقی قدریں ” مال و زر“ کی ” آمدورفت“ سے جڑی ہوئی ہوں۔
ابن خلدون نے کہا تھا کہ جس ملک قوم اور معاشرے میں اقتدار سے حاصل ہونے والے اختیارات اور تجارتی عمل سے منسلک مفادات ایک ہی فرد یا افراد کے ایک ہی گروہ میں مرتکز ہوجاتے ہیں اس ملک ’ اس قوم اور اس معاشرے میں بداعمالی ’ بدعنوانی ’ بدقماشی اور اقدار کی پامالی کا ایسا طوفان اٹھتا ہے جو طاقتور سے طاقتور قوموں کو بھی شکست وریخت اور تباہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
ابن خلدون نے اس عمرانی و سیاسی سچ کی وضاحت ایک ضخیم کتاب میں کی تھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس سچ کی تصدیق کے لئے پاکستان پر روز اول سے قابض قوتوں پر نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔
جس پارلیمانی نظام کو ہم کامل جمہوریت قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت دولت پیدا کرنے والے وسائل پر قابض طبقوں کے مقدر میں دائمی حاکمیت لکھ دینے کا نظام ہے۔
اس نظام کے تحت صرف وہ لوگ پارلیمنٹ میں جاکر ملک کی تقدیر اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں جو انتخابات کے مہنگے عمل پر سرمایہ کاری کرنے کے وسائل رکھتے ہوں۔ اور یہ بات سمجھنے کے لئے افلاطون کی دانش رکھنا ضروری نہیںکہ جب سرمایہ کاری کی جاتی ہے تو صرف ایک مقصد کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جائے۔
اگر میں یہ کہوں کہ پارلیمانی جمہوریت ہمارے ملک میں ایک ایسا ” بزنس“ بن گئی ہے جس میں حاصل کیا جانے والا منافع سمگلنگ ذخیرہ اندوزی اور جوے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے اور وہ یہ کہ متذکرہ تمام منافع بخش ” کاروبار“ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر زیادہ کامیابی اور اعتماد کے ساتھ کئے جاسکتے ہیں۔
میرے اس تجزیے کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ” سلطانی ءجمہور“ کے عظیم تصور کو حقیقت کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔
میں صرف اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ” سلطانی ءجمہور“ کا قیام ” اقتدار و زر“ کو ایک ہی فرد یا افراد کے ایک ہی گروہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے روکے بغیر ممکن نہیں۔
ہم نے 1973ءکے جس آئین کو اپنا رکھا ہے اس کا سرچشمہ 1935ءکا وہ آئین تھا جو برطانوی سامراج نے ہم پر امراءکی حاکمیت مسلط کرنے کے لئے تیار کیا۔1935ءکا آئین 1919ءکے اس ایکٹ کی توسیع تھا جس کا مقصد حکمران طبقوں کی حاکمیت کو یقینی بنانا تھا۔ اور 1919ءکا ایکٹ لارڈمیکالے کے اس فلسفے کی توسیع تھا کہ رعایا کو چھوٹی چھوٹی حلقہ بندیوں میں تقسیم کرکے ایسے چھوٹے چھوٹے حکمرانوں کے ر حم و کرم پر چھوڑ دیا جائے جو احکامات تاجِ برطانیہ سے حاصل کریں۔
میں پورے تیّقن کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ بانیءپاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ برطانیہ کے عطا کردہ اس پارلیمانی نظام حکومت کے حق میں نہیں تھے۔اور اس ضمن میں ان کے جو تحفظات تھے وہ اس قدر شدید تھے کہ انہوں نے اپنے نوٹس (notes)میں ایک مرتبہ لکھا۔
” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ برطانوی نظام ہمارے ملک میں کیسے چلے گا۔؟“
یہ بڑا ہی وسیع اور وضاحت طلب موضوع ہے جس کا احاطہ میں آئندہ کروں گا۔

Scroll To Top