صرف استعفیٰ منظور کرنا کافی نہیں ’ غداری کا مقدمہ بھی چلنا چاہئے 19-08-2015

مشاہد اللہ نے جو انٹرویو بی بی سی کو دیا اس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ کپکپا دینے والی ہیں۔ انہوں نے براہ راست آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر ایک خوفناک سازش کے ذریعے بغاوت بپا کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ باغی وزیراعظم ہاﺅس پر قبضے کی مکمل تیاری کے ساتھ نکلنے والے تھے۔
میں یہاں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا۔ میرے خیال میں تفصیلات کا مطالعہ خود وزیراعظم صاحب کو کرناچاہئے۔ ان کی یہ وضاحت کافی نہیں کہ وہ کسی ایسی ریکاڈنگ سے لاعلم ہیں جس کاذکر مشاہد اللہ صاحب نے فرمایا ہے۔ ان کا مشاہد اللہ سے استعفیٰ طلب کرنا اور اسے منظور کرنا بھی کافی نہیں۔ مشاہد اللہ صاحب صرف سنگین غیر ذمہ داری کے ہی مرتکب نہیں ہوئے ان پر سنگین نوعیت کی غداری کرنے کا الزام بھی لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے ایک ایسی فوج کے بارے میں قصداً گمراہ کن تاثرات پھیلانے کی کوشش کی ہے جس کا نظم و ضبط مثالی ہے اور جس کے بارے میں کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتاکہ اس کے سپہ سالار کے خلاف بغاوت کرنے کا خیال تک کوئی دوسرا جنرل اپنے ذہن میں لاسکتاہے۔
وزیراعظم اگر خود اس سارے مکروہ کھیل کے پیچھے نہیں تو انہیں مشاہداللہ کے استعفیٰ پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔ انہیں اپنی جماعت سے بھی نکال دینا چاہئے ان کی سنیٹر شپ بھی ختم کردینی چاہئے اور ان پر ملک اور اس کی فوج کے خلاف سازش کرنے کے جرم میں مقدمہ چلانا چاہئے۔
یہ وقت خود وزیراعظم کی فرض شناسی اور ملک سے محبت کا امتحان ہے۔ خواجہ آصف کے بیانات سب کو حفظ ہوچکے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ملک کا وزیر دفاع ملک کی فوج کے بارے میں کیسے خیالات رکھتا ہے۔ اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ خواجہ آصف کو وزیر دفاع خود وزیراعظم نے بنا رکھا ہے۔
میں اپنی آج کی بات میں جناب وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہماری فوج کیسے عمران خان کو کنٹینر سے اٹھا کر سیدھا پرائم منسٹر ہاﺅس میں اتار سکتی تھی۔
عمران خان صرف ایک راستے پر چل کر و زیراعظم بن سکتے ہیں۔ اور وہ راستہ انتخابات کا راستہ ہے۔ فوج نے جب بھی مداخلت کی وہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لئے نہیں براہ راست تمام حکومتی امور اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے کرے گی۔
اگر آج ریفرنڈم کرایا جائے تو ملک کی بہت ہی بھاری اکثریت تمام اختیارات جنرل راحیل شریف کو سونپنے کے حق میں ووٹ دے گی !

Scroll To Top