یہ دنیا کمزوروں کی قبر اور طاقتور وںکا گہوارہ ! )حصہ دوم(

یہاں آج ہارٹ کے اپنے دیباچے کے چند اقتباسات پیش کروں گا۔
” یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ کسی شخصیت کو کس مقام پر رکھوں میں نے اُس تحریک کو پورا وزن دیا ہے جس سے وہ شخصیت وابستہ تھی یا ہے۔ اِس بات کی وضاحت میرے اس فیصلے سے ہوتی ہے کہ میں نے )حضرت (محمد ﷺ کو )حضرت(عیسی )علیہ السلام ( پر فضلیت دی ہے۔ اور میرے اس فیصلے کی سمجھ میں آنے والی آسان وجہ یہ ہے کہ میری رائے میں مسلمانوں کے دین یعنی اسلام کی تشکیل اور اس کے فروغ میں )حضرت (محمد ﷺ کا ذاتی کردار اور ذاتی حصہ عیسائیت کی تشکیل اور فروغ میں حضرت عیسٰی ؑ کے ذاتی کردار اور ذاتی حصے سے کہیں زیادہ تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار اس بات کا مطلب یہ نہ لیں کہ میں نے پیغمبرِاسلام کو اُن پر فضلیت دی ہے۔ میرا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا میں کسی بھی فرد نے اپنی شخصیت کے اثرات اتنے گہرے مرتب نہیں کئے اور نہ ہی اتنے گہرے چھوڑے ہیں جتنے گہرے اثرات پیغمبرِ اسلام نے مرتب کئے اور چھوڑے۔“
ہارٹ کے اِن الفاظ ے ان دانشوروں کی ” دانش “ پر سے پردہ ہٹ جاناچاہئے جو اپنے آپ کو او ر ساتھ ہی دوسروں کو بھی یہ باور کرانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں کہ آج کی دنیا میں اسلام اور خدانخواستہ پیغمبر اسلام دونوں irrelevant ہوچکے ہیں ۔ اگر آنحضرت کی عظمت صرف ایک دین کے بانی ہونے میں ہوتی تو چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی یہ قوم ” قوم ہاشمی “ نہ کہلاتی ۔ میری حقیر رائے میں آنحضرت کی حقیقی عظمت آپ کی شخصیت کی ” ہمہ جہتی “ میں پائی جاتی ہے۔ آپ ایک طرف تو ایک دین کے بانی تھے لیکن دوسری طرف آپ نے اس دین کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اِس دین کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق ایک ریاست قائم کی جو ابتداءمیں صرف مدینہ نام کی ایک بستی تک محدود تھی لیکن پھر اس طوفانی رفتار کے ساتھ پھیلنا شروع ہوئی کہ اس کی پیشقدمی کے سامنے قیصر و کسریٰ کی تمام ترو سعتیں بھی سکڑ کر رہ گئیں۔
یہاں یہ سوال اٹھے بغیر نہیں رہتا کہ ” کیا یہ حقیقت تو نہیں کہ اسلام واقعی بزورِ شمشیر پھیلا۔؟“
اس سوال کے جواب میں دو مختلف باتیں کہیں جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دین اسلام میں کوئی جبر نہیں۔ مسلمانوں نے شاید ہی اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں غیر مسلمانوں کواپنی طاقت کے بل بوتے پر ” قبولِ اسلام “ پر مجبور کیا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو ہندوستان پر سات آٹھ سو برس تک غالب قوت کے ساتھ حکومت کرنے کے باوجود مسلمان ہندوﺅں کے مقابلے میں اتنی بڑی اقلیت میں نہ رہتے۔
یہی بات ہم ہسپانیہ پر مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دورِ حکومت کا حوالہ دے کر کہہ سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے کبھی بھی ہسپانیہ میں اپنے آپ کو جبر کے ذریعے واضح اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر انہوں نے بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کئے ہوتے جو فرڈی نینڈ اور ازابیلانے یا اُن کے جانشینوں نے Inquisitionنام کی بدنامِ زمانہ تحریک کے ذریعے سقوطِ غرناطہ کے بعد استعمال کئے تو ہسپانیہ کبھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ نکلتا۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ بدی کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے مسلمانوں نے بھی اپنے دین کی اس بنیادی تعلیم سے انحراف نہیں کیا کہ اسلام میں کوئی جبر نہیں۔
پھر اسلام حجاز کی سرحدیں عبور کرکے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کیسے پہنچا؟
اس سوال کے جواب میں اِس حقیقت کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی باک محسوس نہیں کرناچاہئے کہ ہم نے کرہ ءارض کی وسعتوں کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں کے سامنے سمٹ جانے پر مجبور کردیا تھا۔
اسلام کے اس عسکری پہلو کی وضاحت میں ایک سادہ سی مثال کے ذریعے کرتا ہوں۔ اگر کسی اراضی پر آپ کو کوئی فصل اگانا مقصود ہو تو اس کی پہلی اور لازمی شرط اِس اراضی پر آپ کامکمل قبضہ ہوگی۔ دنیاکی پوری تاریخ اسی اصول کی بنیاد پر آگے بڑھتی رہی ہے۔
ہمارے لئے ہر وہ لفظ اہم ہے جو آپ کی زبانِ مبارک سے نکلا مگرزیادہ اہم آپ کی حیات ِ مبارکہ کا ایک ایک عملی لمحہ ہے۔
آپ کی زندگی کے قبل ازنبوت کے برس کیسے گزرے اس کی ایک الگ تفصیل ہے۔ لیکن آپ کی نبوت کے 23برس کیسے گزرے وہ ہمارے لئے نشانِ راہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہجرت کے سفر سے پہلے آپ محض ایک پیغمبر تھے۔ خدا کے آخری پیغمبر۔ مگر ہجرت کے بعد آپ کی زندگی ایک سپاہی ¾ ایک سپہ سالار اور ایک ریاست ساز کی زندگی میں بھی تبدیل ہوگئی۔ آپ کی زندگی کا یہ دور زیادہ تر اونٹ یا گھوڑے کی پیٹھ پر گزرا۔
جو لوگ آپ کی زندگی کے اس تاریخ ساز دور سے اپنے لئے ہدایت اور تقلید کی روشنی حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ¾ وہ اسلام کی حقیقی روح کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔جو مسلمان اسلام کا بازوئے شمشیرزن نہیں وہ آنحضرت کا حقیقی پیروکار اور نام لیوا بھی نہیں۔
یہ دنیا روزِ اول سے ہی کمزوروں کی قبر اور طاقتوروں کا گہوارہ بنتی رہی ہے۔

Scroll To Top