دھرتی کے ناسُور

  • وہ صرف ایک محدود ارضی ہی کے نہیں ساری دھرتی کے ناسور ہیں۔ لاریب انہوں نے اپنے اخلاقی اور معاشی جرائم کے ارتکاب کے لئے پاکستان کی سرزمین کا انتخاب کیا مگر ان کی شیطنت صفت وارداتوں اور گھاتوں کے زہریلے اثرات نے دنیا کے کئی دوسرے ممالک کو بھی کسی نہ کسی درجے پر متاثر کیا۔ پاکستانی قوم کی بدنامی الگ ہوتی رہی ۔ مگر تابہ کے، الہٰی قانون مکافات عمل کو ایک نہ ایک روز حرکت میں آنا ہی تھا۔ سو یوں جانئے یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور دھرتی کے ناسور اپنے انجام بد کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے،
بمبینو سینما کراچی کا سابق ٹکت بلیکیا، مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہنڈرنڈ پرسنٹ کا سفر طے کرنے والا، اپنے کارندے کی ٹانگوں سے بم باندھ کر حریف کو بلیک میل کرنے کا رسیا، اور طاقتوروں کی اینٹ سے اینڈ بجا دینے کی دھمکی دینے اور بڑھک مارنے کے بعد کسی تھڑولے میراثی کی طرح کئی مہینے تک دبئی کی سیون سٹار کھُڈ اور بِل میں جا دبکنا، سرے محل، حرام کمائی سے خریدی گئی بیش قیمت جائیداد ۔۔ مگر جب قانون کا ہتھوڑا چلنے لگا تو بھول جانے کی شدید ذہنی بیماری کا سر ٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرکے سزا سے بچ جانا مگر جب حالات و معاملات سازگار ہونے لگے تو ایک اور میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں داخل دفتر کرا دینا جس کے مطابق نسیان کی بیماری سے صحت یابی کی سند پیش کر دینا۔۔۔۔ اور اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے لئے زمانے بھر کی عیاری، چالاکی اور مکاری کا بے صحابہ استعمال یہ ہیں وہ چند خصائص۔ جو یکجا ہو جائیں تو ایک ایسا پیکر معرض وجود میں آجاتا ہے جسے دنیا میں آصف زرداری کہا جات اہے۔ بلوچستان کے سندھ سے متصل ایک قبیلے کے حاکم زرداری عرف حاکو ڈاکو کا بیٹا اور نیکلس فیم وزیر اعظم کا مجازی خدا۔ جسے بیگم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں سیاست سے یکسر بید خل کر کے ایک معین مفہوم میں ”بے بی سسٹر“ یعنی بچوں کی نگہداشت کرنے والی آیا بنا رکھا تھا۔ مگر جو اپنی بگیم کے پر اسرار قتل کے بعد ایک عرف عام میں جعلی وصیت کے تحت پیپلز پارٹی کا شریک چیئرمین بن بیٹھا۔ جس نے اپنے بیٹے بلاول کو بلاوجہ بھٹو بنا دیا مگر جو بھٹو کے محلوں کے گردونواح میں بسنے والے خواجہ سراو¿ں سے بھی بدتر شخصی ساخت کا حامل تھا، اور اب کہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے وہ اپنی مقتول بیگم اور پھانسی اور چڑھاتے گئے سسر کی قبروں کی سیاسی مجاوری کرتے ہوئے سیاست گردی کے دھندے میں دھنسا ہوا ہے۔ زرداری جس نے کل تک اپنے چمچوں کرچھوں کے ذریعے خود کو ”ایک زرداری سب پر بھاری، کے ڈھکوسلے سے آراستہ کر رکھا تھا آج خالق کائنات کے قانون مکافات عمل کی پکڑ سے آچکا ہے اور سب پر بھاری پڑنے والا یہ ناہنجار حاکو ڈاکو زادہ اپنے ہی گناہوں اور معاشی جرائم کے بوجھ تلے دبا زمین میں دھنسا جارہا ہے۔ اور ڈوبتے ہوئے جہاز کی طرح ملا فضلو جیسے تنکوں کے سہارے کا محتاج بن چکا ہے۔
ملا فضلو کا ذکر ہوا تو کچھ حقائق اس سیاسی بروکر کے بارے میں سامنے آجائیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اس سیاسی وچولے کو عمران خان یا عمران خان یا عمران حکومت سے کیا بغض ہے۔ بس ایک ہی عناد اور فساد کی جڑ ہے جس نے مفتی محمودکے اس صاحبزادے کے دن کا آرام اور رات کا چین چھین رکھا ہے۔ وہ اسلام آباد سے محروم ہو چکا ہے اور عمران خان کے ہوتے ہوئے اسے اقتدار میں حصے داری کو کوئی چانس نظر نہیں آتا۔بے نظیر، نواز شریف اور زرداری ادوار میں اسے اقتدار کی ہڈی میسر آتی رہی گاہے پارلیمانی کمیٹی برائے امور خارجہ کی سربراہی اور گاہے امور کشمیر کی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی۔ بھاری بھر تنخواہیں، مالی مراعات، وزارتی پروٹوکول، بنگلہ، بیرونی دورے، نوکروں چاکروں کی فوج ظفر موج اور سب سے زیادہ چمکیلی، رسیلی وزارتوں کے موج میلے، مگر اب ملا فضلو ان تمام عیاشیوں سے محروم ہو چکا ہے ۔ اس کے برعکس اللہ کے قانون مکافات عمل کا کوڑا اس پر برسنے ہی والا ہے۔ اس کا صاحبزادہ ملتان میں مقبوضہ سرکاری زمین پر غیر قانونی پچاس مکانوں سے محروم ہو چکا ہے جبکہ خود ملا جی اپنی مالیاتی حرام پائیوں کے سبب سے قانون کے کٹہرے میں کھڑے کئے جانے ولاے ہین۔
اور باقی بچا اس تھیلی کا تیسر چٹا بٹا۔ نواز نا شریف جس کے بارے میں آج کی نشست میں صرف اتنا کہنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں کہ یہ وہ ذات نا شریف ہے جس نے اپنے وسیع و عریض محلات میں دولت و ثروت کے اسقدر انبار اور پہاڑ کھڑے کردیئے کہ وہاں عزت رکھنے کی کوئی جگہ ہی نہ بچی۔
نواز نا شریف کی طرح اس کا چھوٹ بھائی شوباز نا شریف بھی اس سے دو ہاتھ آگے، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا مرتکب ہوتا رہا ہے اور اب وہ اور اس کا سارا گھرانہ قانون کے شکنجے سے بچنے کے لئے یا تو ملک سے باہر فرار ہو چکا ہے یا بھر احتسابی عمل سے گزر رہا ہے۔
ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے۔
جنہوں نے ”رل کے کھا رج کے کھا“ کے مصداق ملک کو لوٹا مگر اب اسی مثال کے تحت دل کے قانون مکافات عمل کی پکڑ میں آچکے ہیں۔
صرف چندے انتظار اور پھر دیکھئے قانون مکافات عمل کس طرح اس دھرتی کے ہر ناسور کو حرف غلط بنا کر رکھ دے گا۔ اور ایک نیا روشن پاکستان طلوع ہو کر رہے گا۔

Scroll To Top