دنیا کو پاک ،بھارت جنگ کا نقصان انکی سوچ سے بھی بڑھ کرہوگا: عمران خان

  • کشمیر کی صورتحال شام سے زیادہ کشیدہ ہے، بھارت مقبوضہ وادی میں جو کررہا ہے اسکے نتائج پورے برصغیر پر ہوں گے، 1962کے بعد 2جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہیں، تنازعہ جوہری جنگ میں تبدیل نہ ہو،عالمی برادری مداخلت کرے، روسی چینل کو انٹرویو
  • کشمیر کا سفیر بن کر پوری دنیا میں جاﺅں گا اور مودی کو بے نقاب کروں گا،مودی بچپن سے ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کا ممبر ہے،دنیا بھر میں کشمیریوں پر ظلم کیخلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، وزیر اعظم کا مظفر آباد میں کشمیریوں سے خطاب

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا کشمیر کی صورتحال شام سے زیادہ کشیدہ ہے، دنیا کو پاک بھارت جنگ کا نقصان ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہوگا، بھارت جو مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے نتائج پورے برصغیر پر ہوں گے ، یہ ایٹمی ہاٹ اسپاٹ بن جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روسی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کوئی بھی سمجھدارشخص جوہری جنگ کی بات نہیں کرسکتا، دنیا کو پاک بھارت جنگ کا نقصان ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہوگا، دنیا کو تنازع کے حل کیلئے مداخلت کرنا ہوگی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1962 کے بعد 2جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہیں، تنازع جوہری جنگ میں تبدیل نہ ہو،عالمی برادری مداخلت کرے، تقسیم کے وقت ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہو جانا چاہئے تھا۔عمران خان نے کہا اقوام متحدہ نے کشمیرمیں ریفرنڈم کیلئے قراردادپاس کی، مقبوضہ کشمیرپربھارت نے یکطرفہ ایکشن لیا، بھارت مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے،مکمل بلیک آو¿ٹ ہے، بھارت کشمیریوں سے فیصلہ منوانے کیلئے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے، اقوام متحدہ نے بھی کشمیرمیں مظالم کی رپورٹ جاری کی، پوری کی پوری کشمیر کی سیاسی قیادت نظر بند اور جیلوں میں ہے۔وزیراعظم نے کہا مودی سرکارنےمتنازع اقدامات سےعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، ناصرف عالمی قوانین بلکہ شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی گئی، کشمیریوں سے ان کی خصوصی حیثیت چھین لی گئی، ڈر ہے بی جے پی حکومت طاقت استعمال کرکے نسل کشی کرے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت نےاپوزیشن رہنماو¿ں کو سری نگرجانےسےروک دیا، دنیا کو معاملے پر اس سے زیادہ ردعمل دینا چاہیے تھا، افسوس ہے معاملے پر جیسا ردعمل دینا چاہیے تھا ویسا نہ ا?یا۔انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے، کسی بھی علاقے کی ا?بادی کا تناسب بدلنا بڑا جرم ہے، 4 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کرکے وادی سے منتقل کر دیا گیا، کشمیر کی صورتحال شام سے زیادہ کشیدہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بی جےپی حکومت جو کررہی ہے ویسا کسی جمہوری ملک میں نہیں ہوتا، بی جے پی حکومت انتہا پسندانہ سوچ آرایس ایس کے نظریے پر چل رہی ہے۔عمران خان نے کہا ا?رایس ایس پربھارت میں 3 مرتبہ پابندی لگائی گئی، جیسا نازیوں نے جرمنی پرقبضہ کیا ویسا ہی کشمیر میں ہورہا ہے، بھارتی حکومت ا?رایس ایس کے ایجنڈے پر چل رہی ہے، ا?رایس ایس وہ جماعت ہے جو عالمی قوانین کو نہیں مانتی۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے صرف کشمیریوں نہیں بھارت میں موجود مسلمانوں کی بھی فکر ہے، یہ انتہاپسندانہ سوچ پورے بھارت میں پھیل رہی ہے، یہ نہرو اور گاندھی کا بھارت نہیں، فاشسٹ، انتہا پسندانہ سوچ نے بھارت پرقبضہ کرلیا ہے۔وزیراعظم نے کہا مودی ا?رایس ایس کےنظریے سےتعلق رکھتاہے، گجرات میں جوہواوہ بھی اسی نظریےکےتحت ہوا، مجھے لگتا ہے پاکستان کو بھارت سے خطرہ ہے، بھارت دنیا کی کشمیرسے توجہ ہٹانے کے لیے جعلی آپریشن کرسکتاہے اور پہلے کی طرح جعلی آپریشن سے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ فروری میں بھارت نے کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے حملہ کیا، بھارت نے پلواما حملے کا الزام پاکستان پر لگایا، جب پاکستان نے ثبوت مانگے تو بھارت نے حملہ کردیا۔انھوں نے کہا کشمیر اگر بھارت کا حصہ ہوتا تو ان کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر متنازع علاقہ ہے، جب مذاکرات کی کوشش کی توبھارت نے کہا اندرونی معاملہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت جو مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے نتائج پورے برصغیر پر ہوں گے ، یہ ایٹمی ہاٹ اسپاٹ بن جائے گا، ہم نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دوسرے ملکوں سے ثالثی کا کہا، جب بھی کوئی ملک ثالثی کا کہتا ہے بھارت انکار کردیتا ہے۔عمران خان نے کہا مسئلے کا حل جنگ نہیں عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا، عالمی برادری بھارت پر پابندی لگائے، تجارت روکے، نظر انداز کرنے سے معاملہ ٹلے گا نہیں، برطانیہ،فرانس،جرمنی،روس معاملے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا امریکا سپر پاور ہے، کشمیر کا معاملہ حل کرسکتا ہے، امریکا اقوام متحدہ پر زور ڈالے۔ دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں، پھر بتاوں گا لائن آف کنٹرول کب جانا ہے، دنیا بھر میں کشمیریوں پر ظلم کیخلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کشمیر اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، مودی جتنا مرضی ظلم کرلے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،بزدل انسان ہی عورتوں اور بچوں پر ظلم کرتا ہے جو آج نریندر مودی اور اس کی جماعت آر ایس ایس کشمیر میں کر رہی ہے، آر ایس ایس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے، بھارت صرف ہندوﺅں کے لیے ہے اور یہاں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے،دنیا ہندوستان کے ہٹلر کو روکے، کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کا ردعمل آئےگا، مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے،مودی نے کوئی حرکت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کشمیریوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا میں کشمیریوں کا سفیر بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر بن کر جاﺅں گا اور آر ایس ایس کی سوچ سے آگاہ کرونگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گزشتہ چالیس روز سے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور خواتین کو گھروں میں قید کرکے رکھ دیا گیا ہے لیکن ان مظالم کے باوجود کشمیریوں میں موت کا ڈر ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی! تم کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ صرف بزدل آدمی ایسا ظلم کرتا ہے جیسا کشمیر میں ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایک دلیر انسان کبھی عورتوں اور بچوں پر یہ ظلم نہیں کرسکتا، جو نریندر مودی اور اس کی جماعت آر ایس ایس مقبوضہ وادی میں کررہی ہے۔تم جتنا مرضی ظلم کرلو تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میں مودی اور بھارت کو کہنا چاہتا ہوں کہ میں ساری دنیا میں کشمیر کا سفیر بن کر جاﺅں گا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بچپن سے ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کا ممبر ہے، جس کے اندر مسلمانوں کیخلاف نفرت بھری ہوئی ہے۔ آر ایس ایس کے بانی ہٹلر کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔وزیراعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ سلامتی کونسل میں50سال بعد کشمیر ایشو پر بات ہوئی۔ یورپی یونین نے پہلی بار کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔58ملکوں نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ او آئی سی نے بھی کہا کہ بھارت کرفیو اٹھائے جبکہ امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں مداخلت کرے۔عمران خان نے کہا کہ ظلم جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو انسان فیصلہ کرتا ہے کہ ذلت کی زندگی سے موت اچھی، مودی نے کوئی حرکت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ یہ قوم آخری دم تک تمھارا مقابلہ کرے گی۔ مودی سن لو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کا جہاز گرایا،پائلٹ واپس بھجوانے پر مودی نے کہا دیکھو پاکستان ڈرگیا ہے، مودی کان کھول کر سن لو ایمان والا موت سے نہیں ڈرتا، بھارت کاپائلٹ ڈر کر نہیں امن کے لیے واپس کیا۔انہوں نے کہا کہ میں عالمی دنیا کو کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت کے ہٹلر کو روکے۔ جو یہ کشمیر میں کر رہے ہیں اس کا ردعمل آئے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ نوجوان لائن آف کنٹرول کی جانب جانا چاہتے ہیں لیکن نوجوانوں کو میں بتاﺅں گا کہ کب جانا ہے، جب تک میں آپ کو نہ کہوں ایل او سی کی طرف نہیں جانا۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر ہر پلیٹ فارم کو استعمال کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا پر اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔ کشمیر کا سفیر بن کر پوری دنیا میں جاﺅں گا اور مودی کو بے نقاب کروں گا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی وجہ سے انتہا پسندی اٹھے گی کیونکہ ظلم جب انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو انسان فیصلہ کرتا ہے ذلت کی زندگی سے موت اچھی ہے۔عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہندوستان صرف ہندوﺅں کے لیے ہے جس کے بعد لوگ ہندوستان کے خلاف کھڑے ہوں گے اور انتہا پسندی بڑھے گی کیونکہ آر ایس ایس کے غنڈے جس مسلمان کو چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں اور کوئی عدالت ملزم کو سزا نہیں دیتی،انہوں نے کہا کہ 100سال پہلے بننے والی جماعت کے 2مقاصد تھے کہ بھارت صرف ہندوں کے لیے ہے، باقی مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو برابر شہری نہیں سمھجتے تھے۔عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے کہ اگر مسلمانوں نے یہاں حکومت نہ کی ہوتی تو ہندو قوم نجانے کتنی بڑی سپر پاور ہوتی، ان خیالات کی وجہ سے آر ایس ایس ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف تھی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کی وجہ سے پلوامہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن نریندر مودی نے اپنی غلطی چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام عائد کر دیا۔ نریندر مودی کان کھول کر سن لے ایمان والا آدمی موت سے نہیں ڈرتا۔ پائلٹ اس لیے واپس نہیں کیا کہ ہم ڈر گئے تھے بلکہ ہم امن چاہتے ہیں۔مظفر آباد جلسے میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر دفاع پرویز خٹک ، وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان ، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر بریسٹر سلطان محمود چوہدری اور سابق کپتان شاہد آفریدی بھی شریک ہوئے ۔

Scroll To Top