پتھاری داروں اور رسہ گیروں کی سیاست گردی

  • ہر انتخابی شکست کسی نہ کسی بے چہرہ سازش کے سر تھونپنے کا کلچر!
    خود جیتو تو الیکٹڈ، دوجا جیتے تو سلیکٹڈ۔ یہ کسے بے وقوف بنا رہے ہیں
    ملک گیر مقبولیت کے دعویدار مگر مینار پاکستان کے زیر سایہ مل کر بھی ایک جلسہ کرنے کی ہمت نہیں
    نان ایشوز کو ایشوز بنا کر پیش کرنا کوئی ان مداریوں سے سیکھے

اپوزیشن جماعتیں بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہیں۔
بڑھکیں، پھڑکیں، تیس مار خانیت اور شیخ چلی پن البتہ ہمارے ہاں کے بازار سیاست کے مقبول چالو سکے ہیں۔
وڈیروں، زرشاہوں، ملاشاہوں اورٹھگوں نوسربازوں نے ہمارے ہاں کا سارا سیاسی کلچر ہی جھوٹ، منافقت، لوٹ کھسوٹ اور کرپشن سے آلود کررکھا ہے۔ یہ اسی آلودگی کا سبب ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور قیادتیں عوام کوکبھی حقیقت حال سے باخبر نہیں کرتیں، وہ بھی عوامی پسندیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑھک بازی اور تیس مار خانیت کا مظاہرہ ہی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک وہ اپنی شکست کا کھلے بندوں اعتراف کرلیں تو وہ سمجھتے ہیں عوام ان سے دور بھاگ جائیں گے چنانچہ وہ اپنی ہر حماقت اور شکست کو کسی دوسرے کی سازش یا انتخابات میں مات کی صورت میں دھاندلی، جھرلو اور بدعنوانی کے سرتھوپ دیں گی۔
آج بھی اپوزیشن پارٹیاں جو ایک انتہائی کمزور وکٹ پر کھڑی ہیں مگر ان کے وعدے کوہ ہمالیہ کو تسخیر کرلینے کے ہیں۔ مثلاً خواجہ آصف، پسروری بقراط، احسن اقبال اور شہباز شریف وغیرہ وغیرہ گلے پھاڑ پھاڑ کر بڑھک مارتے ہیں کہ ہم چاہیں تو پلک جھپکنے میں عمران حکومت کو چاروں شانے چت کرکے رکھ دیں گے یا یہ تو مانگے تانگے کی حکومت ہے اس کی کوئی بنیاد ہے نہ حیثیت ہے۔ عمران تو سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے۔ وہ عوام کا نمائندہ ہے ہی نہیں۔
کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ الیکشن کرانے والی اتھارٹی یعنی الیکشن کمیشن آف پاکستان تو وہی تھی جس کی زیر نگرانی عمران خان سمیت ان سب نے انتخابات میں حصہ لیا جس طرح وہ کامیاب ہوئے اسی طرح عمران خان کی جیت ملی۔ آپ میں تو کوئی ایک بھی ایسا طرم خان نہ تھا جس نے ملک بھر میں پانچ مختلف مقامات سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور سبھی جگہ کامیاب رہے۔ ایسے شخص پر سلیکٹڈ وزیر اعظم کی پھبتی کسنا خود ایسا کہنے والوں کے لئے باعث شرم ہونی چاہئے۔ اب جس طرح ان کا جیت جانا الیکشن کمیشن کے انتخابی عمل کا مرہون منت ہے تو بالکل اسی طرح عمران خان اور ان کے ساتھی کامیاب ہو کر اپنی اکثریت کے بل بوتے پر برسراقتدار آئے ہیں۔ اس کے بعد اپوزیشن بطورخاص پی پی پی اور نون لیگ کی طرف سے عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہنا یا یہ دعویٰ کہ ہم چاہیں تو عمران خان حکومت کو پلک جھپکنے میں گھر چلتا کریں گے، سراسر خلاف حقیقت اور تیس مار خانیت کے مترادف ہے۔
اس صورتحال کو ایک اور انداز سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اپوزیشن قائدین بطور خاص نا شریف برادران اور زرداری گردنوں تک کرپشن الزامات کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ اور ان ایام میں کرپشن کے شکنجے میں ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ایسے میں ان کی سب سب سے بڑی ترجیح ہی یہ ہے کہ عمران خان حکومت کو جلد از جلد چلنا کیاجائے۔ مگر اس میں ایسا کرنے کا کوئی دم ہی نہیں۔ سو جو بڑھکیں ماری جا رہی ہیں وہ سب گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔ مگر جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں اپوزیشن فی الوقت بے حد کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔ اس حالت میں وہ کوئی چوکا چھکا لگانا تو کجا وکٹ پر کھڑی بھی رہ جائے تو معجزہ ہوگا۔
سو یہ حقیقت اب دلیل کے ساتھ سامنے آ چکی ہے کہ اگر اپوزیشن کے ہاں رتی بھر بھی دم خم ہوتا تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر عمران حکومت کا تختہ کرچکی ہوتی۔ چونکہ وہ اپنی تمام تر انتہائی ضرورت کے باوجود ایسا نہ کر سکی تو یہ اس امر کا پختہ تر ثبوت ہے کہ اپوزیشن کے ستو بک چکے ہیں۔
اب دوسری طرف آیے۔ پچھلے چھ ماہ کا ریکارڈ دیکھئے نون لیگ اور زرداری لیگ اپنی عوامی قوت کے مظاہرے کے لمبے چوڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ اس سلسلے میں وہ کوئی ایک عملی مظاہرہ بھی کر سکے ہوں۔ لاہور میں مینار پاکستان کا وسیع و عریض میدان مقبولیت عامہ کی ہر دعویدار سیاسی پارٹی کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ماضی قریب میں جب اس کے اقتدار میں آنے کے کوسوں دور دور کوئی امکانات تک نہ تھے، مینار پاکستان میں ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اور اس جم غفیر میں بلاشبہ انسانوں کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر کی تشبیہ فٹ بیٹھتی تھیں۔ پس اس حقیقت کو جان لیجے کہ نون لیگ کو اپنی عوامی مقبولیت کی حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔ اس لئے بھرپور عوامی طاقت کے بھرپور مظاہر کی بجائے صرف میڈیا یا پارلیمانی چار دیواری کے اندر بڑھکوں ، نعروں اور دعوﺅں سے کام چلایا جا رہا ہے۔

Scroll To Top