یہ دنیا کمزوروں کی قبر اور طاقتور وںکا گہوارہ ! )حصہ اول(

پاکستان کے تقریباً تمام ہی سیاسی حلقے اس بات پر خاص زور دیا کرتے ہیں کہ موجودہ نظام بوسیدہ ہوچکا ہے اور اس کی موجودگی میں نہ تو کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی معاشی اور معاشرتی فلاح کے راستے کھل سکتے ہیں۔ مگر نہ تو کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی کوئی سیاسی قیادت یہ وضاحت کرنے کے لئے تیار ہے کہ ” موجودہ نظام “ سے مراد کیا ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ وطنِ عزیز میں یا تو فوجی ڈکٹیٹر شپ یعنی مطلق العنانی ” موجود “ رہی ہے یا پھر جمہوریت کے نام پر ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی امراءشاہی ۔ آج جس سیاسی منظر نامے کا سامنا وطنِ عزیز اور اس میں بسنے والی قوم کو ہے اس میں یہ سوال اٹھنا ایک فطری امر ہے کہ ” کیا ہمارے سامنے کوئی تیسرا آپشن موجود ہی نہیں یا اگر ہے تو ہم اس سے نظریں چرانے کے عادی ہوگئے ہیں؟“
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ¾ اُسی آئین کو ہی سامنے رکھ لینا چاہئے جس کی شق نمبر6کے تحت جنرل )ر(پرویز مشرف پر ” غداری “ جیسے سنگین الزام کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
اس آئین کی آرٹیکل 2کہتی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب یا دین اسلام ہوگا۔ اِس آرٹیکل کی مزید وضاحت کے لئے آرٹیکل 2Aمیں کہا گیا ہے کہ آئین کے دیباچے میں پورے آئین کی روح قرار پانے والی قراردادِ مقاصد کے متعین کردہ تمام اصول پاکستان میں پوری طرح نافذ ہوں گے۔
گویا آئینِ پاکستان نے اپنا آغاز ہی عوام اور حکمرانوں دونوں کو اللہ کی حاکمیت کا مکمل طور پر پابند بنا کر کیا ہے۔ اگر کسی شخص کے ذہن میں آتا ہے کہ اسلام کے ریاستی دین ہونے کا مطلب خدا کی حاکمیت پر ایمان کھنے کے علاوہ کچھ اور ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ اسلام کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کرنے کے لئے کسی ایسی درسگاہ سے رجوع کرے جہاں مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح کیا جاتا ہو۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ جس تیسرے )بلکہ حقیقی(آپشن سے نظریں چرائی جاتی ہیں و ہمارے آئین میں بڑی واضح ترجیحی بنیادوں پر موجود ہے۔ پاکستان پر حاکمیت نہ تو کسی فوجی آمر کی قابلِ قبول ہے او ر نہ ہی اُن امراءکی جو ایک متنازعہ انتخابی عمل کے نتیجے میں اقتدار حاصل کیا کرتے ہیں۔ پاکستان پر حاکمیت صرف اور صرف قادرِ مطلق کی ہونی چاہئے او ر اس حاکمیت کا نفاذ قرآن حکیم میں وضاحت سے پیش کئے جانے والے قوانین اور خدا کا آخری پیغام خلقِ خدا تک پہنچانے والے پیغمبر کی حیاتِ مبارکہ کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔قرآن حکیم خدا کا کلام ہے۔ جس شکل اور انداز میں یہ اُترا اسی شکل اور انداز میں آج بھی ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے او ر تا قیامت رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ قرآنی تعلیمات کے بارے میں تنازعات کھڑے کرتے ہیں او ر ایسا کرکے عام مسلمانوں کے ذہنوں میں ابہام اور انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں ¾ وہ لوگ حقیقی معنوں میں عبداللہ ابن ابی کے پیروکار ہیں۔ جہاں تک آنحضرت کی حیاتِ مبارکہ کا تعلق ہے اس کا مطالعہ کرنا آج کے دور میں کسی بھی پڑھے لکھے شخص کی پہنچ سے دور نہیں ہونا چاہئے۔ ہم تو الحمد اللہ مسلمان ہیں اور خود کو آپ کی اُمت قرار دیتے ہیں میں یہا ں ذکر ” مائیکل ایچ ہارٹ “ کا کروں گا جو مشہور کتاب “The 100″کا مصنف ہے۔ اِس کتاب میں ہارٹ نے تاریخ کے ایسے ایک سو بڑے آدمیوں کی درجہ بندی کی ہے جنہوں نے انسانی تہذیب یا تہذیبوں پر سب سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کئے۔ اگرچہ ہارٹ نے اپنی ” درجہ بندی “ میں سب سے اوپر پیغمبر اسلام کا نام ہی رکھا لیکن میں پھر بھی اسے تعصب سے پاک قرار نہیں دوں گا۔ کیایہ بات ناقابل فہم نہیں کہ جس تہذیب و تمدن یا دین نے دنیا پر سات آٹھ صدیوں تک اتنابھرپور غلبہ قائم رکھا جتنا بھرپور غلبہ مسلمانوں کو یرموک وقادسیہ سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ کے زمانہ ءعروج تک کے درمیانی عرصے میں دنیا پر حاصل رہا اس تہذیب و تمدن کی تاریخ میں ہارٹ کو آنحضرت کی ذاتِ مبارکہ کے علاوہ صرف حضرت عمر فاروق ؓ کی شخصیت The 100میں جگہ پانے کے قابلِ نظر آئی۔؟ حضرت عمر فاروق ؓ کو بھی ہارٹ نے 51ویں نمبر پر رکھا جس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ہارٹ نے یا تو تعصب کی عینک چڑھا رکھی تھی ¾ یا پھر اس نے مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ بڑی سرسری نظر سے کیا تھا۔
لیکن پھر یہ بات ہارٹ کے کریڈٹ میں جائے بغیر نہیں رہتی کہ اس نے تاریخ میں حضرت محمد کا مقام متعین کرتے وقت صرف اور صرف زمینی حقائق کو سامنے رکھا۔
)جاری ہے(

Scroll To Top