محمدی انقلاب کی شرطِ اول

  • تقریباً پونے چھ سال قبل شائع ہونے والا یہ کالم آج بھی ملک کے حالات سے بھرپور مطابقت رکھتا ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ وقت نے اس کالم کا ایک ایک لفظ سچ ثابت کردیا ہے

آج کے زمینی حقائق میں جوبات ناقابلِ تردید لگتی ہے اورروزِ روشن کی طرح عیاں ہے وہ یہ ہے کہ اگر موجودہ سیاسی نظام اور اس کے ساتھ منسلک جماعتی ڈھانچہ اسی طرح قائم رہا تو اگلے کئی برس تک ملک کی حکمرانی میاں نوازشریف کے پاس نہ رہی تو جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں جائے گی ¾ اور اگر جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں نہ جاسکی تو جناب عمران خان کی گرفت میں آجائے گی۔اگر کوئی چوتھا آپشن موجود ہے تو وہ روایتی سیاست کی سٹیج پر نظرنہیں آرہا۔باقی سیاسی لیڈروں میں جناب الطاف حسین ¾ خان اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمان وغیرہ بھی قابلِ ذکر ہیں لیکن ان میں سے کسی کے پاس اقتدار صرف کسی بڑے معجزے کے نتیجے میںجاسکتاہے۔ ایک بات ضرور ممکن ہے اور وہ یہ کہ جناب زرداری ¾ میاں نوازشریف یا جناب عمران خان کسی مصلحت کے تحت خود پس منظر میں رہنے کا فیصلہ کرلیں اور سامنے اپنے کسی ” معتمد “ کو لے آئیں۔پاکستان میں ایسی کسی روایت کے جنم لینے کا امکان نہیں کہ جماعتوں کے اندر قیادت تبدیل ہوسکے یا کی جاسکے۔
یہ خصوصیت صرف مغربی جمہوریتوں میں نظر آتی ہے کہ سیاسی جماعتوں پر شخصیات کا قبضہ نہیں ہوتا۔ دس برس قبل جارج بش اور ٹونی بلیئر کی کیا حیثیت تھی ¾ اور آج وہ کہاںہیں ؟
آج کی تحریر کے لئے میں نے یہ تمہید ایک نہایت اہم سوال اٹھانے اور اس کاجواب تلاش کرنے کی خاطر باندھی ہے۔
یہ سوال شعوری طور پر شایدآپ کے ذہن میں نہ ہو لیکن آپ کے لاشعور میں ضرور موجود ہوگا۔
کیا مندرجہ بالا تینوں لیڈروں میں سے کوئی بھی ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کی اہلیت صلاحیت یا قابلیت رکھتاہے ؟
اس اہم سوال کو ایک دوسرے انداز میں بھی پوچھا جاسکتاہے۔ کیا مذکورہ تینوں لیڈروں میں سے کسی کے پاس بھی ایسی ٹیم موجودہے جو اُن تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کا ” جوہر“ رکھتی ہو جو ملک و قوم کی تقدیر تبدیل کرنے کے ” عظیم مقصد “ کے ساتھ خود بخودمنسلک ہوجاتے ہیں۔؟
جہاں تک زرداری صاحب اور ان کی پارٹی کا تعلق ہے ¾ ان کے اندازِ حکمرانی اور ان کی صلاحیت اور کارکردگی کا بھرپور ادراک قوم کو ہوچکاہے۔ پی پی پی کو ملک میں حکمرانی کرنے کا موقع چار مرتبہ ملا ہے۔ اگر پانچویں مرتبہ بھی اقتدار اس کی جھولی میں گرنے کا معجزہ ہوجاتا ہے تو اس کے لیڈر وہی کچھ کریں گے جو کچھ انہوں نے ماضی میںکیا۔
یہی بات میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔یہ درست ہے کہ میاں صاحب کو مرکزی سطح پر اقتدار زیادہ مدت کے لئے نہیں ملا مگر اقتدار کے ایوانوں میں زندگی بسر کرتے انہیں تقریباً تین دہائیاں ہوچکی ہیں۔ انہیں اور ان کی جماعت کو حکمرانی کا تجربہ شاید سب سے زیادہ طویل ہے۔ ایک خیال یہ تھاکہ وزارت عظمیٰ سے قید خانے جانے اور اس کے بعد کئی برس جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے عمل نے نئی سوچ اور نئی پختگی عطاکردی ہوگی اور وہ اپنے موجودہ عہدِ اقتدار میں ایک مختلف وزیراعظم نظر آئیں گے ۔ لیکن اس خیال کے خام ثابت ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیںہوگی کہ ملکوں اور قوموں کی تقدیر تبدیل کرڈالنے والی قیادتیں بڑے بڑے فیصلے کرنے اور ان فیصلوں پر آہنی ارادوں کے ساتھ عمل درآمد کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا کرتیں۔ دوسری بڑی خوبی ایسی قیادتوں کی یہ ہوتی ہے کہ وہ تاریخ بننے کی نہیں تاریخ بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتی ہیں۔ ان کے اندر تاریخ سازی کا شعور کوٹ کوٹ کر بھراہوتا ہے ¾ اور اس شعور کو ناقابلِ تسخیر قوت ان کی نظریاتی یکسوئی اور فکری شدت سے ملتی ہے۔
کیا میاںنوازشریف کے اندر اچانک کوئی ایسی تبدیلی رونماہوسکتی ہے جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں میں تاریخ سازی کا جوہر پیدا کرسکے ؟
ہم سب بڑی شدت سے چاہیں گے کہ کاش ایساہو سکتا لیکن برف کے سینے میں الاﺅ نہیں بھڑک سکتا ہے۔ میاں صاحب جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح زرداری صاحب جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ اگر بیانات اور تقریروں سے تبدیلی آسکتی تو زرداری صاحب کے دور میں ہی پاکستان سے مایوسیوں کے اندھیرے چھٹ جاتے۔
اگر اقتدار جناب عمران خان کومل جاتا ہے تو کیا وہ اس تبدیلی کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں گے جس کا ذکر وہ کئی برس سے کررہے ہیں ؟
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب پر ملک کے جمہوری مستقبل کا انحصار ہے۔
یہ سوال بذات خود ایک مفروضے پر قائم ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ بالآخر عمران خان حقیقی اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
مفروضہ کوئی بھی حقیقت بن سکتاہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو خیبر پختونخوا میں جس انداز سے کامیابی حاصل ہوئی ہے اور جس تیزی کے ساتھ ان کا ووٹ بنک کراچی میں بڑھاہے اسے سامنے رکھاجائے تو اس امکان کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ اگلے عام انتخابات )جب بھی ہوں(میں تحریک انصاف مرکز میں بھی ایک فیصلہ کن قوت کی حیثیت سے ابھرسکتی ہے ۔
اگر یہ امکان حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو کیا عمران خان وہ سب کچھ کرپائیں گے جو وہ کرناچاہتے ہیں ¾ اور جسے کئے بغیر تبدیلی کا وہ سفر شروع ہی نہیں کیاجاسکتا جس کی منزل ’نیا پاکستان ‘ ہوگی۔؟
میری اور بہت سارے لوگوں کی نیک خواہشات عمران خان کے ساتھ ہوں گی۔ میں عمران خان کو کافی قریب سے جانتاہوں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قائدانہ صلاحیتوں سے نوازنے میں بڑی فیاضی سے کام لیا ہے۔ لیکن تن تنہا انقلاب لانے کے لئے )حضرت(محمد ﷺ ہونا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ایک محمد پیدا کیا ۔ نہ تو محمد سے پہلے کوئی محمد آئے اور نہ ہی محمد کے بعد کوئی محمد آئیں گے۔ میں آپ کی پیغمبرانہ حیثیت کو الگ رکھ کر بات کرناچاہتاہوں۔ آپ کمالات کا مجموعہ تھے۔ لیکن جس کمال کا ذکر میں یہاں کرناچاہتاہوں دنیا کی تاریخ اسی کمال کے نتیجے میں تبدیل ہوئی ہے۔
آپ کے حسنِ انتخاب اور آپ کی کاملانہ تربیت کے نتیجے میں جہالت اور طاغونیت کی آماجگاہ کہلائی جانے والی ایک سرزمین پر ایسے باکمال اور عہد ساز اکابرین کی فصل اُگی جن میں سے ہر ایک اپنے عہد کا سکندر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ میں یہاں حضرت ابوبکر ؓ کانام لوں یا حضرت عمرؓ کا ¾ حضرت عثمان ؓ کانام لوں یا حضرت علی ؓ کا ¾ حضرت خالد بن ولید ؓ کا نام لوں یا حضرت سعد بن وقاص ؓ کا ۔۔۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ ایک مختصر مدت میں اس قدر قدآور شخصیات اتنی تعداد میں پیداہوسکتی ہیں۔
ہم آپ کی اُمت ہیں۔ انقلاب کا سبق ہم نے آپ سے ہی سیکھاہے۔ سیکھا نہیں پڑھا ہے۔ اگر سیکھا ہوتا تو آج یہ قوم اپنی بدنصیبیوں پر نہ رو رہی ہوتی۔
یہ بات میں نے عمران خان کے حوالے سے اس لئے لکھی ہے کہ وہ بھی اکثر محمدی انقلاب کی بات کیا کرتے ہیں۔میں اُن سے بڑا سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
کیا محمدی انقلاب ایسی ٹیم کے ساتھ ممکن ہے جس کے ارکان میں ہر ایک کا فکری قبلہ مختلف ہو ۔؟
ہر انقلاب کی ایک ” کور ٹیم “ ہوا کرتی ہے۔ اگر عمران خان تبدیلی کا سفر شروع کرنے سے پہلے اپنی ” کور ٹیم “ کو تشکیل دے چکے ہوتے تو اُن کے لئے اس ملک اور اس قوم کی تقدیر تبدیل کرنا مشکل کام نہ ہوتا!
آخر میں یہاں میں ایک بنیادی سوال اٹھاﺅں گا۔ یہ سوال دو حصوں پر مشتمل ہے۔
نمبر ایک: کیا ہم واقعی محمدی انقلاب چاہتے ہیں ؟
نمبر دو: اگر چاہتے ہیںتوکیا محمدی انقلاب ایک ایسے نظام کے تحت آسکتا ہے جو محمدی انقلاب کے ہر تقاضے کی نفی کرتاہے ۔؟
اپنے اِن سوالوں کے پیچھے چھُپے ہوئے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے میں یہاں ایک آسان سا سوال مغربی جمہوریت کے پرستاروں سے پوچھوں گا۔
اگر سنہ622عیسوی میں مکہ اور مدینہ میں عام انتخابات کرائے جاتے تو کیا کامیابی ابوجہل اور عبداللہ بن ابی کے نامزد کردہ امیدواروں کو حاصل نہ ہوتی ؟
سبق اِس سوال میں یہ پنہاں ہے کہ پہلے ہمیں اس ” نظام ِ خرابی “ سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے بعد محمدی انقلاب کے لئے راستہ ہموار ہوگا۔

Scroll To Top