کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: 58ممالک نے بھارت سے5مطالبات کردیئے

  • بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے،کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے، مواصلات نظام کی بحالی یقینی بنائی جائے ، سیاسی قیدیوں کو رہا اور بین الاقوامی میڈیا ،انسانی حقوق کی تنظیموں کو دورے کی اجازت دی جائے
  • مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ جبکہ نہتے مظاہرین پر پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے، مشترکہ اعلامیہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کمشنر میچل بشلٹ سے ملاقات

جنیوا(صباح نیوز) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس کونسل میں 58 ممالک نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کردئیے۔اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے پناہ گزین کے تحت (ہیومن رائٹس کونسل)کے غیرمعمولی اجلاس میں 58 ممالک نے مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کئے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں پہلا مطالبہ ہے کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے۔ دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلسل 37 روز سے جاری کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے۔تیسرے مطالبے میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاﺅن کی تصدیق کرچکا ہے اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔چوتھے مطالبے میں کئی ذیلی مطالبات رکھے گئے ہیں جن کے تحت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے۔اسی کے ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دورے کی اجازت دی جائے۔ پانچواں اور اہم مطالبہ یہ کہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حل کےلیے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کی کمشنر میچل بشلٹ سے بھی ملاقات کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند، کرفیو اور لاک ڈان کے خاتمے کا مطالبہ کرنے پر میچل بشلٹ کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناءوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں تعینات سفرا ،نمائندگان ، مستقل مندوبین اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں تعینات سفرا کو بھارت کی جانب سے 5 اگست کو اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات اور ان کے مضمرات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات ، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔ وزیر خارجہ نے سفرا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے نہتے لوگ بھارتی استبداد سے نجات کے لئے عالمی برادری کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں انسانوں کو بھارتی بربریت سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو فوری طور پر اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا ۔

Scroll To Top