جاتی عمرہ۔۔۔ جعلی اور مسروقہ امارت کا جھوٹ سچ

  • اربوں روپے کی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کو جواز دینے کیلئے جاتی عمرہ کے ناشریفوں کے جدی پشتی امیر زادے ہونے کے دعوے کی قلعی کھول گئی
    بھارتی صدر گیانی ڈیل سنگھ نے صدر ضیاءالحق اور نوازشریف کی موجودگی میں بتایا کہ اس کا پردادا امرتسر کے ۔۔۔۔۔۔بازار میں ہوکا لگا کر موتیے کے
    ہار بیچا کرتا تھا جبکہ دادا رمضان عرف جانا کنوئیں سے پانی کی ٹنڈ بھی نکالا کرتا تھا۔ خود شریف اور محمد شفیع1936 ءمیں لاہور میں رام گلی نمبر6 میں ایک ہندو کی لوہے کی بھٹی پر آٹھ آنے (آدھا پیسہ) روز پر مزدوری کرتے تھے۔ میاں کا سابقہ انہوں نے بہت عرصہ بعد اختیار کیا تھا۔

لاﺅ دکھاﺅ پکڑاﺅ
لہجہ کیا تھا، ایک طنطنہ تھا اور دبدبہ بھی
بدن لولی تھی کہ ہلاکو اور ہٹلر کی سفاکی کو شرمسار کرے۔
”الحمد للہ،، ہماری سب جائیدادیں، ساری فیکٹریاں جائز، قانونی اور ہر اخلاقی معیار کے مطابق ہیں۔ ہمارا بزرگ اور آباﺅ اجداد نہایت امیر کبیر تھے۔ انہی کے مالی اثاثوں کو ہمارے والدین اور ہم نے خون پسینے کے ساتھ ترقی دی۔ حریف جلتے ہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ پھر بھی ہم کسی احتساب وساب سے نہیں ڈرتے۔ اگر کسی کے پاس ہمارے خلاف کوئی بددیانتی کا ثبوت ہے تو میرا چیلنج ہے اور میں اسے کہتا ہوں کہ لاﺅ، دکھاﺅ، پکڑاﺅ، مگر مجھے معلوم ہے ایسا کچھ بھی نہ ہوگا۔
یہ سب کچھ شوباز نواز شریف کا بیٹا سلیمان میڈیا کے روبرو بتا اور جتا رہا تھا۔
مگر پھر اک عالم نے دیکھا کہ کچھ عرصہ بعد جب احتسابی اداروں کا شکنجہ سلیمان اینڈ کمپنی کی سریا لگی گردنوں میں تنگ ہونے لگا تو یہ بڑھک بازی خلیفہ شوبازناشریف کسی پتلی گلی سے بیرون ملک راہ فرار اختیار کرگیا۔ اور پاکستان کے غڑیبوں کی خون پسینے کی کمائی کو مال مفت دل بے رحم کے مصداق کی نگل جانے والا یہ ناہنجار شیر کا بچہ کسی پدی چوہے کی طرح لندن کی بلوں میں گھسا چھپا بیٹھا ہے۔
اور صرف اکیلا وہی نہیں اس کا بہنوئی علی عمران ، کزن حسن اور حسین یہ سب بھی قانون کو مطلوب ہیں مگر یہ کل تک پاکستان کے مالے خان بنے بیٹھے چوہے لندن اور یورپی عشرت کدوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔
اور اب تازہ ترین پیش رفت کے مطابق نیب نے ان ناشریفوں کی حرام پائیوں کے جو نئے جرائم دبوچے ہیں ان کے بعد زرداری کے اربوں روپے کے جعلی بنک کھاتوں کے قصے تو بہت بچگانہ معلوم ہوتے ہیں۔ حمزہ اور سلمان اور ان کی والدہ محترمہ اور بہنوں کے نام پر جو اربوں روپے کی ”آمدروفت،، پکڑی گئی ہے اور جس طرح سے کسی منظور پاپڑ والے کسی اللہ وقار ریڑھی والے اور کسی مرحوم پھتے کے بنک کھاتوں سے کروڑوں اربوں کی رقوم حمزہ اور سلمان کے کھاتوں میں مستقل رہتی رہیں اور ان سے ملک بھر میں مہنگی جائیدادیں خریدی جاتی رہیں۔ وہ سب تفصیلات آنے والے ایام میں آپ تک پہنچائی جاتی رہیں گی۔
آج کی نشست میں البتہ میں سلمان اور حمزہ کے ان دعوﺅں کی قلعی کھولنے کی کوشش کروں گا۔جن کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے آباﺅ اجداد نہایت امیر کبیر کاروباری لوگ تھے۔ ذرا دل تھام کر سنئے پڑھیئے۔
جنرل ضیاءالحق اپنے عہد اقتدار میں بھارت گئے۔ تو وہاں ایک ضیافت کے موقع پر انہوں نے اپنے ہم منصب صدر گیانی ذیل سنگھ سے اپنے وفد کے ارکان سے ملاقات کرائی۔ ان میں تب پنجاب کے نوجوان وزیر خزانہ نوازشریف بھی شامل تھے۔ ضیاءالحق نے صدر گیلان کو بتایا کہ نوازشریف کے آباﺅ اجداد کا تعلق بھی امرتسر کے گاﺅں جاتی عمرہ سے ہے۔ صدر گیلانی نے تجسس بھرے لہجے میں بات آگے بڑھائی، جب نوازشریف نے صدر گیانی کو بتایا کہ ان کے دادا کا نام رمضان تھا۔ گیانی نے ایک دو مزید استفسارات کے کئے جواب ملنے پر انہوں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور نوازشریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ”اوئے کاکا توں جانے (رمضان) ٹنڈا والے دی گل کر رہیا واں،، (ارے بچے تم اس رمضان کی بات کر رہے ہو جو کنوئیں کی رہٹ چلایا کرتا تھا) نوازشریف اس پر جھنیپ گئے۔ اس پر صدر گیلانی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا ” میں تو آپ کے پردادا سے پجھے( پ ھ ج ے ) کو بھی جانتا ہوں جو ناچ گانے والیوں کے عملے میں پھیری لگا کر موتیے کے پھولوں کے ہار اور گجرے بیچا کرتا تھا۔
کہا جاتا ہے یہ انکشافات سن کر نواز شریف کی حالت دیدینی تھی۔ اپنی اصل خاندانی اوقات کے اس بے رحمانہ انکشاف کی دہلیز کسی طور توقع نہ تھی۔
قارئین کرام ، سماج میں کسی بھی سطح پر رزق حلال کمانای کوئی برائی نہیں مگر اسے چھپانا اور وہ بھی اس غرض سے کہ کوئی موجودہ ناجائز دولت کے انباروں کی چیلنج ہونے والی قانونی حیثیت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے اپنے آباﺅ اجداد کی جھوٹی اور مصنوعی امارات کی رام کہانیاں گھڑنے کا کاروبار شروع کر دیں۔
میں اپنے موقف کی تائید میں مزید کہتا ہوں کہ 1936 ءمیں جانے ٹنڈاں والے یعنی نوازشریف کے داد نے غریبی اور فاقہ کشی سے تنگ آکر اپنے دو بڑے فرزندوں میاں شریف (نوازشریف) کے والد اور میاں شفیع (نوازشریف کے تایا) کو لاہور بھیجا۔ جہاں دونوں بھائیوں نے لاہور ریلوے سٹیشن کے قرب میں واقع کیلیاں والی سڑک بعد میں برانڈرتھ روڈ کی گلی نمبر6 میں واقع ایک ہندو کی بھٹی پر دیہاڑی داری شروع کی۔ دونوں بھائیوں کو سخت گرمی میں آگ میں دہکتے ہوئے لاہوے کی دن بھر کوٹنے کے بدلے شام گئے ایک روپیہ مزدوری ملتی تھی۔ وہ بارہ آنے واپس جاتی عمرہ اپنے گھر والوں کو بھجوا دیتے اور خود چار آنوں سے سرائے سلطان میں دو وقت کی روٹی اور رات کو سونے کے لئے ایک چار پائی کے کرایے کے طور پر خرچ کرتے۔ میرے پاس دور کی ایک نادر تصویر موجود ہے جس میں نوازشریف کے والد محمد شریف آگ کی بھٹی پر بیٹھے دستی پہیہ چلاتے ہوئے لوہا بھی کوٹ رہا ہے۔ انہوں نے غریب مزدوروں جیسا پہناو ا پہن رکھا ہے جبکہ ہندو مالک کی خوشنودی کیلئے سر پر ہندوﺅں جیسی کپڑے کی روپلی ٹوپی پہنچ رکھی ہے۔
رزق حلال کمانا ایک انتہائی محترم کام ہے پر بعد میں اگر کسی بزرگ کی اولاد اپنی بھٹگی کی دولت کے جواز کے لئے اپنے آباﺅ اجداد کی جعلی اور جھوٹی امارت کے قصے گھڑے تو پھر ایسے عناصر کو آئینہ دکھائے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا (جاری ہے )

Scroll To Top