پاکستان کی ظالمیہ اور مظلومیہ

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

”ایک طرف کمزور ہیں دوسری طرف زوراور، ایک جانب فاقہ کش ہیں تو دوسری طرف بسیار خور تنو مند، اِدھر مظلوم ہیں اُدھر ظالم پھیلے ہوئے ہیں، یہاں نیک معاشیہ تو وہاں بدمعاشیہ، اور ظلمت و روشنی، اندھیرے و سویرے اور ظالم و مظلوم کے مابین جاری یہ چپقلش،کشمکش اور آویزش کو آخری تجزیے میں مظلوم کے حق میں نتیجہ خیز ہو کر رہنا ہے، یہی الٰہی عدل ہے، میرے اللہ سوہنے کا وعدہ ہے“

سیاسی المیہ جیسے آخری تجزیے میں طربیہ بنتا ہے
ایک طرف عوامیہ دوسری طرف ظالمیہ
ادھر نیک معاشیہ، ادھر بدمعاشیہ
اور نیک و بد کے مابین جاری یہی چپقلش یہی کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی
یہی جہد حیات ہے یہی سفر زندگی ہے۔
زندگی ایک سفر ہی ہے تبھی تو کتاب کی ابتداءہی میں ہمیں صراط مستقیم کی دعا اور ہدایت دی گئی ہے۔ یعینی نیکیوں بھرا راست ہجس پر چلتے ہوئے ہم اللہ کریم کے ان بندوں میں شمار ہونے لگیں جن پر خالق کائنات کا فضل ہوا۔ اس کی رحمتیں، برکتیں اور نعمتیں ان لوگوں کا نصیبہ ٹھہریں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی ذات میں چھپی ان برائیوں، کمیوں کجیوں سے ڈرنا چاہئے جو ہمیں اللہ پاک کی واضح ہدایت کریمہ سے دور لے جاتی ہیں۔ اور ہمیں ڈرنا چاہئے ان خوفناک نتائج سے جو ہماری غلطیوں اور گناہوں کے نتیجے میں ہمیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دینے والے ہوتے ہیں۔ ہمارا کوئی رہبر، کوئی رہنما، کوئی استاد یا بزرگ یا والدین ہمیں کسی ایسی راہ بابت خبردار کرتے ہیں جو کسی گہرے گڑھے کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے تو اس عمل کو اس ہدایت کو ایک خوبصورت پیرائے میں دیکھنا چاہئے کہ ہمیں ہدایت دینے والی ہستی ہماری خیر خواہ ہے۔ وہ ہماری زندگی کو ہماری صحت کو اور ہماری سلامتی کو برقرار رکھنے کی متمنی ہے اور اسی لئے ہمیں کسی جسمانی، روحانی یا مادی گزند ،صدمے، نقصان اور خسارے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔
کتاب میں ہے کہ تم لوگوں میں عدل کیاکرو
عدل کیا ہے
ہرشے کا درست زاویے اور سمت کے ساتھ اپنے اصل مقام پر توازن بدوش پیرائے میں قائم ہونا موجود ہونا عدل کہلاتا ہے۔ عدل کا الٹ اور مخالف ظلم ہے۔ ظلم یعنی اشیاءاقدار و معاملات کا اپنی جگہ نہ ہونا، کسی دوسری جانب کھسک جانا، مستحق سے دور ہو جانا اور غیر مستحق کے قرب میں سمٹ جانا ظلم کہلائے گا۔
عدل کے حوالے سے ایک اور وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ اکثر لوگ قانون کو عدل کے مترادف سمجھ لیتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اگر ایک قانون اپنے دامن میں عدل کے تمام جوار خصائص اور اوصاف رکھتا ہے تو ایسا قانون ، عادلانہ قانون کہلائے گا اور مستحق ہوگا۔ انسانی سماج میں اللہ کریم اپنے بندوں سے ایسے ہی عادلانہ قانون کی منشاءو مرضی رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی قانون میں عدل کانور نہیں ہوگا تو وہ قانون منشائے الٰہی سے یکسر متصادم ہوگا جیسے فرعون کا وہ قانون جس کے مطابق حضرت موسیٰ کے قبیلے کے ہر بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
میرا خیال ہے میری ان معروضات سے معاشرے میں عدل، انصاف اور نیک و بد کے حوالے سے معاملات کی تفہیم کافی آسان ہو جائے گا۔
اب اگر ان نظری، فکری اور اصولی بیانیے کی روشنی میں ہم اپنے ملکی حالات و واقعات اور معاملات کا تجزیہ کریں تو ہمارے سامنے ایک ایسا منظرنامہ کھلتا ہے جو ایکر حسین و جمیل اور جنت نظیر باغ باغیچے، اور گلستان سے آراستہ ہے مگر جہاں وہ گروہ انسانی آپس میں ستیزہ کار یعنی برسرپیکار ہیں۔ ایک طرف کمزور ہیں دوسری طرف زوراور، ایک جانب فاقہ کش ہیں تو دوسری طرف تنو مند، ایک سمت میں مظلوم سمٹے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ظالم پھیلے ہوئے ہیں۔
بیشتر لوگ علمی کمی کے سبب ظالم کے ظلم کو اپنا مقدر سمجھ کر اس سے مفاہمت کر لیتے ہیں، کئی ایک خود ظالم بن جاتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ظلوم سے مفاہت، موافقت یا مطابقت پیدانہیں کرپاتے۔ ان پران کے اللہ کی ہدایت ان کے یقین، ایقان اور ایمان کا حصہ بن چکی ہوئی ہے۔ شکرالحمد اللہ خالق کائنات ہمارے اللہ سوہنے کی مرضی و منشا کے تحت پاکستان میں ایک بطل جلیل اور رجل رشید جناب عمران خان کی صورت میں برسر آرائے سلطنت ہو چکا ہے۔ دیانت، امانت، صداقت اور اصابت اور سب سے بڑھ کر اللہ رحیم و کریم کی رحمت، برکت اور نعمت اس کا سب سے بڑا ورثہ اور اثاثہ ہے اور وہ اسی کے ذریعے ظلم و ستم، جبر و قہر اور شیطانی طاغوت سے معروف ستیزکار ہے۔ رمضان کریم میں لیلتہ القدر کی سلامتی والی ساعتوں کے ساتھ قائم ہونے والے چمنستان پاکستان کو ایک بار تو ظلم کے درندوں اور کارندوں سے نجات پانی ہے۔ ظالم و مظلوم کی چپقلش، آویزش اور کشمکش کو مظلوم کے حق میں نتیجہ خیز ہو کر رہنا ہے کہ اقبال بھی اس ضمن میں کہہ گئے ہیں۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویٰ سے شراربو لہبی

Scroll To Top