”کشمیر کو بولنے دو“ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مہم شروع کردی

  • دنیا بھر میں مقیم ہزاروں کشمیری اپنے گھر فون بھی نہیں کر سکتے ،خطے کے 80 لاکھ باسی ایک ماہ سے گھروں میں محصورہیں
  • موجودہ صورتحال میں پہلے انسانیت کو دیکھنا ہوگا،مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال مواصلاتی لاک ڈاﺅن ختم کریں، تنظیم کا مطالبہ

نیویارک (این این آئی +صباح نیوز)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ”کشمیر کو بولنے دو“مہم شروع کردی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایاکہ دنیا بھر میں مقیم ہزاروں کشمیری اپنے گھر فون بھی نہیں کر سکتے ،خطے کے 80 لاکھ کشمیری ایک ماہ سے گھروں میں محصورہیں ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کرفیو، طاقت کے استعمال اورمواصلاتی رابطے منقطع ہونے سے باہر مقیم رشتہ پریشان ہیں ،دہائیوں سے جاری تنازع کے باعث کشمیری بری طرح متاثر ہوئے ،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں پہلے انسانیت کو دیکھنا ہوگا،مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال مواصلاتی لاک ڈاﺅن ختم کریں ،بھارتی حکومت کو بتادیںدنیاسب دیکھ رہی ہے۔ دریں اثناءایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور مکمل لاک ڈاون کو اجاگر کرنے کے لیے نئی آن لائن مہم کا آغاز کردیا۔اس ضمن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر نئی مہم بعنوان انسانیت کو اولیت دو، کشمیر کا لاک ڈاون ختم کرو مہم کا آغاز کردیا ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران 80 لاکھ کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں اور پوری وادی میں مواصلاتی نظام مکمل درھم برھم ہو چکا ہے۔اس کے مطابق مقبوضہ وادی میں جوان، بچے اور بوڑھے ایک ماہ سے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں۔ بلیک آوٹ کی انسانیت کو قیمت چکانا پڑ رہی ہے جو نظر انداز نہیں کی جاسکتی.ادارے نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جابرانہ قوانین کے نفاز سے مواصلاتی نظام مکمل بند ہوچکا ہے، لامحدود پابندییوں کی وجہ سے لوگ اپنے خاندانوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں، ایک ماہ سے عوام اپنے پیاروں کی خیریت اور سلامتی سے آگاہ نہیں۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کے مطابق پابندیوں کی وجہ سے بیمار اور مصائب میں گھرے کشمیریوں کی مدد کرنے والے ڈاکٹروں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے ورکرز کا کام بہت زیادہ متاثر ہوا ہے.ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سب درحقیقت کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور مقبوضہ وادی کی صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت اور قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانیت کو اولیت دیتے ہوئے کشمیریوں کی زبان بندی فوری طور پر ختم کی جائے

Scroll To Top