افغان امن عمل خطرے میں: ٹرمپ کا طالبان کیساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

  • یہ کیسے لوگ ہیں جو سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں،اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں ، امریکی صدر کا ٹوئیٹر پیغام
  • امریکہ سے مذاکرات پایہ تکمیل کو پہننے والے تھے ، معاہدے پر دستخط کی تاریخ 23ستمبر طے تھی ، مذاکرات ختم کر نے کے نقصان کا ذمے دار خود امریکہ ہوگا ، افغان طالبان کا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات معطل کر نے پررد عمل

واشنگٹن /کابل (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل حملے کو جواز بنا کر طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنماﺅں سے اتوارکو ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کردی ہے اورکہاہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے ۔اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں جبکہ افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کر نے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے ، معاہدے پر دستخط کی تاریخ 23ستمبر طے تھی ، مذاکرات کر نے سے سب (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر2
سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا ، اس پر اعتبار نہیں رہے گا ،اب بھی مفاہمت کی پالیسی کے موقف پر قائم ہیں ،یقین ہے امریکہ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائےگا ۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہاکہ یہ بات شاید کسی کو بھی نہیں معلوم کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر علیحدہ علیحدہ مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات کرنے والے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان امریکا آرہے تھے، بدقسمتی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارا ایک عظیم سپاہی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں امن مذاکرات معطل کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔اپنے ٹویٹر پیغام پر امریکی صدر نے کہا کہ جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں۔خیال رہے کہ کابل میں گاڑی کے حملے میں امریکی سپاہی اور رومانیہ کے سروس رکن ہلاک ہوگئے تھے۔حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی جبکہ ان کے امریکی وفد سے مذاکرات بھی جاری تھے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کر نے پر رد عمل کا ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ طالبان اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان انتہائی مفید مذاکرات ہونے کے بعد امن معاہدہ مکمل تیار تھا ۔امریکی مذاکراتی ٹیم سات ستمبر تک ہونے والی پیشرفت سے راضی تھی اور اچھے ماحول میں مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے دونوں فریقین معاہدے کے اعلان اور دستخط کےلئے تیاریوں میں مصروف تھے ۔معاہدے پر دستخط اور باضابطہ اعلان کے بعد 23ستمبر کو بین الافغانی مذاکرات کےلئے تاریخ طے ہوگئی تھی ۔خطے اور دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے اس مذاکراتی عمل کی حمایت کی تھی ۔اب جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل روک لیا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا اس پر اعتبار کو نقصان پہنچے گا ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کا امن کے خلاف موقف دنیا پر ظاہر ہوجائیگا ان کے جان و مان کے نقصان میں اضافہ اور سیاسی معاملات میں ان کا کر دار متزلزل ہو جائیگا ۔مذاکرات جاری رکھنے سے طالبان نے دنیا پرثابت کر دیا کہ لڑائی ان پر زبردستی تھونپی گئی ہے اور یہ کہ لڑائی کو سیاسی عمل سے ختم کر نے کا معاملہ ہو تو طالبان اپنے اس موقف پر قائم ہیں ۔ معاہد ے کے اعلان سے پہلے کابل میں ایک دھماکے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل روکنا غیر منطقی سوچ کو ظاہر کرتا ہے ۔بیان میں کہاگیاکہ کابل میں دھماکے سے پہلے امریکی اور ان کے حمایتی افغان سکیورٹی فورسز نے بہت سے حملوں میں سینکڑوں افغانوں کو شہید کیا ۔صدر ٹرمپ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان کو اگست مہینے کے آخر میں امریکہ کے دورے کی دعوت دی گئی تھی لیکن طالبان نے معاہدے پر دستخط تک یہ دعوت معطل رکھی تھی ۔طالبان کی غیر متزلزل اور پختہ موقف ہے کہ ہم نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی اور آج بھی اس موقف پر قائم ہیں ، ہمیں یقین ہے کہ امریکہ بھی دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائےگا ۔طالبان نے کہاکہ گزشتہ اٹھارہ سال سے ہماری جدوجہد نے امریکہ پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم غیر ملکی جارحیت کو ختم کر کے دم لینگے اس بڑے مقصد کےلئے ہم نے مسلح جدوجہد جاری رکھی ہے اور اسی راستے پر ہمارا مکمل یقین ہے ۔

Scroll To Top