حسینیت کے پیروکار کشمیری بھارتی جابر حکومت کو للکار رہے ہیں: فردوس عاشق اعوان

  • وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں باطل مودی کو شکست ہو گی ، کشمیری جذبہ ایمانی سے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں ،اپنے حق کی آواز بلند کر رہے ہیں
  • حکومت نے کئی دہائیوں سے بیمار پڑے صنعتی یونٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کا فائدہ صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان نے اٹھایا

سیالکوٹ(صباح نیوز) معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے، کشمیری جذبہ ایمانی سے اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں ،کشمیری ایمان کی طاقت سے اپنے حق کی آواز بلند کر رہے ہیں، حسینیت کے پیرووکار کشمیری بھارتی جابر حکومت کو للکا ررہے ہیں ۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں باطل مودی کو شکست ہو گی، کشمیری اپنا حق خودارادیت جلد حاصل کریں گے، حکومت نے کئی دہائیوں سے بیمار پڑے صنعتی یونٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کا فائدہ صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان نے اٹھایا، مزدور (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر5
کے حقوق پر کسی طور پر بھی سمجھوتہ نہیں ہو گا ، بین الاقوامی لیبر قوانین اور اقوام متحدہ کے کنونشنز کے تحت مزدوروں اور محنت کشوں کوتحفظ فراہم کیا جائے گا، اسحاق ڈار کو واپس لانے کیلئے قانونی طریقہ اختیار کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سیالکوٹ میں پریس کانفرنس اور ”حسینؓ رب کا، حسینؓ سب کا“ کے موضوع پر امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت قائد اعظم کے پاکستان کی پاسبان بن کر سب کے حقوق کو تحفظ دیگی۔ سیالکوٹ دنیا میں صنعتی لحاظ سے جانا پہچانا شہر ہے۔وزیراعظم نے کاروبار میں آسانیاں پید کرنے کیلئے اقداما ت کیے ہیں۔صنعتوں کے فروغ کیلئے حکومت نے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بند صنعتوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت مزدوروں کے حقوق کا ہرممکن تحفظ کرے گی۔صنعتیں نہیں چلیں گی تو برآمدا ت کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ بے روزگار ی اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہےہیں کاروباری طبقے کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے میں ٹیکسٹائل کے شعبے کا اہم کردار رہا ہے۔ حکومت نےجب معیشت سنبھالی تو سب سے بڑا چیلنج دیوالیہ ہونےسے بچنا تھا، حکومت نے جب معیشت سنبھالی تو سب سے بڑاچیلنج دیوالیہ ہونے سے بچنا تھا۔ٹیکسٹائل صنعت کی بحالی کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرینگے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد سے ملکر روڈ میپ ترتیب دینگے۔ تاریخ کا سب بڑا قرض اور تجارتی خسارہ حکومت کو ورثے میں ملا۔ حکومت نے 2200ارب روپے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کیے ہیں۔ حکومت کو مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کو درپیش مسائل کا ادراک ہے۔ صحت انصاف کارڈ منصوبے میں میڈیا ورکرز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اخبار فروشوں کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت دی جائے گی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کو واپس لانے کیلئے قانونی طریقہ اختیار کرینگے، ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے کفایت شعاری کو اپنانا ہوگا جب کہ طعنے دینے والوں نے اس معیشت کو زہر کا ٹیکا لگایا ہے۔ سیالکوٹ پوری دنیا میں صنعتی ترقی کے حوالہ سے جانا جاتا ہے اور اپنی ایک خصوصی پہچان اور شناخت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور صنعتوں کے فروغ کے لیے جو حکومت نے عملی اقدامات اٹھائے ہیں ۔ وزیر اعظم نے اپنی سربراہی میں ملک میں کئی دہائیوں سے بیمار پڑے صنعتی یونٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دو لاکھ 26ہزار چھ سو صنعتی یونٹس ہیں ان میں سے 55’435یونٹس صنعتی ترقی میں فعال نہیں ہیں جبکہ مزدوروںکے تحفظ کو یقینی بنانے والے ادارے ای او بی آئی کے ساتھ صرف 63’500یونٹس رجسٹرڈ ہیں ۔ جبکہ مزدور کی سوشل سیکیورٹی، صحت، تعلیم اور زندگی میں دیگر سہولیات فراہم کرنے کی جس ادارے کی ذمہ داری ہے اس کے ساتھ 77’448یونٹس رجسٹرڈ ہیں، جبکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ جو ان تمام محکموں کو چینلائز کرتا ہے اس کے ساتھ 22’475یونٹس رجسٹرڈ ہیں ۔ اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کا فائدہ صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان نے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کے حقوق پر کسی طور پر بھی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور بین الاقوامی لیبر کے حوالہ سے قوانین اور اقوام متحدہ کے کنوینشنز کے تحت مزدوروں اور محنت کشوں کو حکومت تحفظ دینے جارہی ہے ۔کہاں تحفظ دیا جائے گا جہاں صنعت ہو گی اور اگر صنعت نہیں چلے گی تو مزدور کے گھر کا چولہا نہیں چلے گا ،صنعت نہیں چلے گی تو پاکستان کی معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا ،صنعت نہیں چلے گی تو پاکستان کا برآمدات کا ہدف حاصل نہیں ہو گا اور جب صنعت نہیں چلے گی تو ملک کا تجارتی خسارہ کم نہیں ہو گا تو اس کا نقصان یہ ہو گا کہ ملک کے روپے پر دباﺅ رہے گا اور مہنگائی بڑھے گی اور جب افراط زر بڑھتی ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے اور جب مہنگائی بڑھتی تو پھر اس کے ساتھ بیروزگاری بڑھتی ہے ۔بیروزگاری اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے وہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام صنعتی یونٹس کے اندر انسپیکٹر لیس رجیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے ساتھ حکومت ملی تھی،حکومت نے کوئی ایسا قرضے نہیں لیا، روپے پر دباﺅ آنے کے بعد اس سال 5 ہزار ارب سے تجاوز کیا ،سابق وزیر خزانہ اس وقت میں لندن میں مقیم ہیں اسحاق ڈار کو واپس لانے کیلئے قانونی طریقہ اختیار کرینگے، ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے کفایت شعاری کو اپنانا ہوگا جب کہ طعنے دینے والوں نے اس معیشت کو زہر کا ٹیکا لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ہیلتھ کارڈ، سوشل سکیورٹی، آسان قرضے اور زراعت سے جڑے افراد کے لیے سہولیات کا آغاز کیا گیا ، وزیر اعظم کا ترقی کا خواب عوام کے ساتھ ملکر پورا ہوگا۔بعد ازاں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں محرم الحرام کے سلسلے میں اہل بیتؓ کی عظیم قربانی کے عنوان سے منعقد ،، حسینؓ رب کا، حسینؓ سب کا ،، کے عنوان سے امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب کا اپنا اپنا انداز ہے۔ حق کے راستے میں ہمیشہ مشکلات ہوتی ہیں۔حق و باطل کی لڑائی میں ہمیشہ حق ہی غالب آ تا ہے ۔ مقصد کیلئے تن ، من ، دھن قربان کرنیوالے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں حق ،اتحاد اور یکجہتی کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ واقعہ کربلا سے درس لینے والے ہمیشہ سرخرو ہوئے۔ رضائے الہی کو فوقیت دینا ہی فلسفہ حسینی ہے۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ کشمیری جذبہ ایمانی سے اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں ۔کشمیری ایمان کی طاقت سے اپنے حق کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ حسینیت کے پیرووکار کشمیری بھارتی جابر حکومت کو للکا ررہے ہیں ۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں باطل مودی کو شکست ہو گی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کشمیری اپنا حق خودارادیت جلد حاصل کریں گے۔کشمیریوں سے بنیادی آئینی، جمہوری اور انسانی حقوق چھین لیے گئے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں

Scroll To Top