وادی کشمیر بدستور دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی: ترجمان دفتر خارجہ

  • مودی سرکار کے اقدامات کا مقصد وادی کی عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو ختم کرنا اور اس کے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے
  • عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بدستور انسانی تذلیل کو نمایاں کررہی ہیں، کشمیریوں کے حق میں آوازیں اٹھارہی ہیں، ڈاکٹر محمد فیصل

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال معمول کے مطابق بحال دکھانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی بدستور دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے۔دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے بھارتی قومی سلامتی کونسل کے مشیر کی حالیہ بریفنگ سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال کو معمول کے مطابق دکھانے کے جھوٹے تاثر اور بھارتی کوششوں کو مسترد کردیا ہے’۔ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر بدستور دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنا ہوا ہے جہاں 5 اگست کو یک طرفہ اور غیر قانونی اقدام کے بعد بھارتی فورسز کی بھاری تعداد کو تعینات کردیا گیا ہے’۔بھارتی اقدامات کے حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنا اور اس کی جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘بھارتی دعووں کے باوجود کرفیو جاری ہے، کشمیری قیادت بالخصوص حریت قیادت بدستور نظر بند یا گرفتار ہیں’۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بدستور انسانی تذلیل کو نمایاں کرری ہیں آوازیں اٹھارہی ہیں، بے گناہ کشمیریوں کی گرفتاری، بھارتی فورسز کی جانب سے سیکڑوں نوجوانوں کا اغوا، مواصلاتی رابطے منقطع کرنے اور میڈیا کی آزادی کو صلب کیا گیا ہے’۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ان کا کہنا تھا کہ دکانیں بدستور بند ہیں، کشمیری مساجد میں نماز نہیں پڑھ پارہے ہیں اس کے علاوہ غذائی اجناس کی شدید قلت سمیت بچوں کی خوراک اور ضروری ادویات کی کمی کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں۔بھارتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ ‘قابض فورسز معصوم کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائی کررہی ہیں ہیں اور پیلٹ گنز کا استعمال جاری ہے اور بھارت اس بات کی وضاحت دینے میں ناکام ہوا ہے کہ کشمیری اپنے پیاروں کے ساتھ رابطے کرنے میں کیوں ناکام ہیں اور 5 اگست 2019 سے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کا رابطہ غیر انسانی انداز میں دیگر دنیا سے منقطع ہے’۔ترجمان دفترخارجہ نے اپنے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘عالمی برادری اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسان حقوق کی تنظمیں بھارت کے معمول کے حالات کے دعووں سمیت بھارت کے اپوزیشن رہنماﺅں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے سے روکنے کے معاملے پر سوال کرے۔

Scroll To Top