کامران خان اور عمران خان 11-08-2015

کامران خان ہماری تاریخ کے سب سے مہنگے میڈیا پرسن ہیں۔ گزشتہ دس برس کے عرصے میں ہمارے اینکر پرسنز اور مبّصروں کے معاوضوں میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے وہ عام آدمیوں کو ناقابلِ یقین لگتا ہوگا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم یا صدر بھی سرکاری طور پر اتنی تنخواہیں نہیں لیتے۔ مگر پروفیشنل جانتے ہیں کہ ٹی وی کے جو پروگرام مقبولیت حاصل کرتے ہیں ان پر اشتہارات کی کس قدر بھرمار ہوتی ہے۔ اگر ایک پروگرام میں صرف 25لاکھ روپے کے اشتہار بھی ہوں اور اگر صرف 5فیصد بھی معاوضے میں اینکر پرسن کو دے دیا جائے تو اس کی روزانہ آمدنی سوا لاکھ بنے گی۔
اتنی بڑی بڑی تنخواہیں دینے والے ٹی وی مالکان پاگل نہیں ہوتے۔ نقصان کا سودا کرنا انہیں آتا ہی نہیں۔
لیکن بات میں کامران خان کی کررہا ہوںجو اگر چہ آج کل متنازعہ حیثیت حاصل کرچکے ہیں لیکن کسی زمانے میں ان کی مقبولیت عروج پر تھی۔ میں خود انہیں کافی عرصے تک نہ سمجھ سکا۔ اور جب وہ سمجھ میں آئے تو بہت اچھی طرح آگئے۔ کامران خان ان ذہین اور ” محنتی “ لوگوں میں سے ہیں جو تنخواہ کسی ایک کھاتے سے وصول نہیں کرتے۔
جب میں نے کامران خان کو سمجھنا شروع کیا تو سب سے پہلے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ان کی دریافت کردہ ” غضب کرپشن “ کی ہر ” عجب کہانی “ کا تعلق پی پی پی سے ہوتا ہے۔ انہیں نون لیگ میں کبھی کوئی کرپشن نظر نہ آئی۔ پھر ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ وہ جسٹس افتخار چوہدری کے پرستار اس لئے تھے کہ جسٹس چوہدری نون لیگ کے فرنٹ مین تھے۔
7مئی 2013ءکو جب عمران خان ایک خطرناک حادثے میں شدید زخمی ہوگئے تو 8مئی سے ہی کامران خان نے بڑے ” ہمدردانہ “ انداز میںیہ تاثر پھیلانا شروع کردیا کہ ” عمران خان کتنے بڑے لیڈر تھے۔ اب اگر وہ خدانخواستہ معذور ہوگئے تو ان کے نئے پاکستان کا خواب کون پورا کرے گا۔“ کامران خان نے اپنے تین پروگراموں میں یہ تاثر بڑی مہارت سے دیا کہ عمران خان کی ریڑھ کی ہڈی جواب دے چکی ہے!
مقصد پی ٹی آئی کے ووٹروں کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلنا تھا تاکہ وہ 11مئی کو ووٹ دینے کے لئے باہر نکلنے کی زحمت نہ کریں۔
اب پھر دنیا نیوز کے پلیٹ فارم سے کامران خان اپنی بندوقوں کا رخ پی ٹی آئی کی طرف کرچکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نون لیگ کے راستے میں دو بڑی سیاسی رکاوٹیں پی پی پی اور پی ٹی آئی ہی ہیں۔ پی پی پی کو تو زرداری صاحب خود ہی ” آدھا “ دفن کرچکے ہیں۔ باقی رہی پی ٹی آئی تو اس کا بھی کوئی نہ کوئی بندوبست ضرور ہوجائے گا۔
کامران خان نے اپنے بارے میں یہ تاثر پھیلا رکھا ہے کہ وہ فوج کے آدمی ہیں۔ اس تاثر کے فائدے وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔
ویسے دنیا نیوز کا لب و لہجہ عمومی طورپر عمران خان کے کافی خلاف ہوچکا ہے۔ حبیب اکرم جیسے لوگ تو مسلسل زہراگلتے رہتے ہیں۔ ہارون رشید بھی عمران خان کو ایک سیدھا سادہ بے وقوف دیہاتی ثابت کرنے کے لئے اپنی پوری ذہانت استعمال کرتے ہیں۔
صحافی عمران خان کی کمزوری رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے حسن نثار سے بھی کورٹ شپ کی تھی۔ پھر حسن نثار نے ایک دور میں پی ٹی آئی کو الماس بوبیوں کی پارٹی قرار دے دیا۔ اب پھر کورٹ شپ جاری ہے۔ اکتوبر2011ءکے جلسہ ءلاہور کے بعد مجیب الرحمان شامی سمیت بہت سارے صحافی عمران خان کے حلقہ احباب میں آگئے۔
عمران خان اپنے ملک کے صحافیوں کو بھی اسی پیمانے پر پرکھتے ہیں جس پیمانے پر وہ ان غیر ملکی صحافیوں کو پرکھتے رہے ہیں جو آج بھی اُن کے دوست ہیں۔ اب شاید عمران خان کی سمجھ میں یہ بات آچکی ہے کہ اکثر صحافی صحافت کو بزنس کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ” ناسمجھ“ ہونے کے طعنے برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔۔۔

Scroll To Top