انسانی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ! (حصہ دوم)

 

کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی تصنیف ” محمدﷺ۔۔۔ہمارے عہد کا پیغمبر“ (Mohammad-Prophet of our Time)میں لکھا ہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں اور یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ )حضرت (محمد ﷺ واقعی خدا کے پیغمبر تھے۔ لیکن پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ حجاز کے اس بطلِ جلیل کی پوری زندگی قتاّل و جدّال کی اس سرزمین کو ایک جدید پرامن مملکت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد میں گزری تھی۔ جس مغربی تہذیب نے اپنے مادیت پسندانہ مقاصد کے حصول کے لئے بیسویں صدی کی عالمی جنگوں میں بیس کروڑ انسان موت کے گھاٹ اتروا دیئے اس کے علمبرداروں کو محمدﷺ پر یہ الزام نہیں لگانا چاہئے کہ وہ جنگجو تھے۔ انہوں نے پوری زندگی میں جتنی بھی جنگیں لڑیں ان میں پانچ چھ ہزار سے زیادہ انسانی جانیں تلف نہیں ہوئیں۔ ان جانوں کے عوض حجاز کو وہ امن نصیب ہوا جس کی تلاش اسے صدیوں سے تھی۔ یہ امن ایک معجزہ تھا جو حضرت محمدﷺ نے کیا۔ اور یہ آپﷺ کا واحد معجزہ نہیں تھا۔ آپﷺ نے اپنی زندگی میں اتنے سارے لوگوں کی کردار سازی کی کہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ آپﷺ کے ساتھیوں میں ہر شخص پیغمبرانہ خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ آپ کا دوسرا معجزہ تھا ۔ آپﷺ کا تیسرا معجزہ تھا وہ کتاب جسے ہم قرآن کے نام سے جانتے ہیں۔ میں نے جس قدر بھی ریسرچ کی ہے اس کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ اسلام کو پھیلانے کا سہرا صرف اور صرف قرآن کے سر پر ہے۔ میں عربی نہیں جانتی تھی مگر جب بھی میں نے قرآن کی قرآت سنی مجھے یہی لگا جیسے کوئی آسمانی آواز ہم سے مخاطب ہو!“
میں نے یہاں کیرن آرمسٹرانگ کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ خاتون موجودہ دور کی سب سے مستند محقّقہ ہیں۔
جب آپﷺ اس دنیا سے گئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی جماعت چھوڑ گئے جس کے سپرد دنیا کو دارالکفر سے دارالاسلام بنانے کی ذمہ داری تھی۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اُمتِ رسولﷺ درحقیقت ایک اُمت بھی ہے اور ایک جماعت بھی۔ اس جماعت کے ہوتے ہوئے کسی بھی مسلم ملک میں کسی دوسری جماعت کا موجود ہونا ایک بڑی بدعت ہے۔
اس جماعت کے اندر افکار اور نظریات کی بنیاد پر اختلاف ممکن ہے۔ پہلا اختلاف تو آپﷺ کے وصال کے فوراً ہی بعد آپ کی جانشینی کے معاملے پر سامنے آگیا تھا۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ اس اختلاف کی بنیاد پر اُمتِ محمدیﷺ تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ جب حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) اُمت ِ محمدیﷺ کے امیر بنائے گئے تو یکے بعد دیگرے ساری اُمت نے آ پ (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کی بنیاد اُسی وقت رکھ دی گئی تھی۔
ایک روایت کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) اکثر کہا کرتے تھے کہ ” میں آپﷺ کے جان نثاروں میں سب سے افضل نہیں ہوں ۔ آپﷺ کی صحبت نے ایسے ایسے باکمال لوگ پیدا کئے کہ میں اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھتا ہوں۔ لیکن اسے میں خدا کی مہربانی سمجھتا ہوں کہ اس کے نبیﷺنے مجھے امامت کے قابل جانا , اور نبیﷺ کی اُمت نے مجھے اپنی قیادت کے منصب پر فائز کیا۔

Scroll To Top