موت کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر زندگی بسر کرنے کی رواےت 08-08-2015

گزشتہ دنوں حسن نثار نے اپنے اےک پروگرام مےں ےہ سوال اٹھاےا کہ ملک مےں عمران خان سے بھی زےادہ مقبول شخص کون ہے۔ ؟ پھر خود ہی اس سوال کا جواب دے دےا۔
جنرل راحےل شرےف
جنرل راحےل شرےف پہلے جرنےل نہےں جنہےں غےر معمولی عوامی مقبولےت حاصل کرنے کی سعادت نصےب ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جنرل اےوب خان اور جنرل پروےز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے اےک دو برس بعد تک عوامی قبولےت مےں نہاےت بلند مقام حاصل کرنے کا اعزاز اپنے پاس رکھا۔ جنرل اےوب خان اس وقت تک ملک کی سب سے زےادہ مقبول شخصےت رہے جب تک انہوں نے سےاست دانوں سے اپنے آپ کو دور رکھا۔
ےہی بات جنرل پروےز مشرف کے بارے مےں بھی کہی جاسکتی ہے مےں سمجھتا ہوں کہ جنرل مشرف اگر رےفرنڈم 2002کی بجائے2000مےں کراتے تو انہےں کامےابی کے لئے ناپسندےدہ طور طرےقے اختےار نہ کرنے پڑتے، ہماری تارےخ کے المےے شروع ہی اس وقت ہوئے اور ہوتے رہے ہےں جب مطلق العنانی مےں جمہورےت کی آمےزش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بات آمرےت اور جمہورےت کی نہےں ، بات عوامی امنگوں کی ہے جنہےں جب بھی امےد کی کرن نظر آتی ہے ان کی آنکھےں چمک اٹھتی رہی ہےں۔
اسلام اور جمہورےت۔ ۔۔ ےہ دونوں بڑے ہی اعلیٰ وارفع تصورات ہےں ، مگر اسلام کے تصور کے ساتھ خود بخود مولانا فضل الرحمان کا چہرہ سامنے آجاتا ہے اور جب جمہورےت کی بات ہوتی ہے تو زرداری صاحب اور مےاں صاحبان کے چہرے نظروں کے سامنے ناچنے لگتے ہےں ، ان دو خوبصورت لفظوں کی عصمت دری جس انداز مےں ہمارے سےاست دان اور نام نہاد علما کرتے رہے ہےں اس کے بعد عوام کی پر امےد نظروں کا جرنےلوں کی طرف اٹھ جانا اےک فطری امر ہے۔
مغربی تہذےب مےں سول اور ملٹری کی تقسےم صدےوں سے چلی آرہی ہے لےکن رےاستِ مدےنہ نے اس تقسےم کو ختم کر دےا تھا۔
ہمارے نبی خدا کے آخری رسول ہونے کے ساتھ ساتھ اےک عظےم جرنےل اور اےک عظےم رےاست ساز تھے۔ آپ کی زندگی کے آخری نو برس دشمنانِ خدا کے ساتھ جہاد کرتے مےدانِ جنگ مےں گزرے۔
اسلام مےں سپاہی کی زندگی کو بڑا بلند مقام حاصل ہے اگرچہ بعد مےں سپاہےانہ زندگی کو اےک پےشہ ور حےثےت دے دی گئی لےکن اپنے فرض کی ادائےگی مےں جان دےنے کا تصور ہمےشہ اےک سپاہی کی بنےادی شناخت رہا ہے۔
6اگست کو مانسہرہ مےں ہےلی کاپٹر کا جو المناک حادثہ پےش آےا اس مےں ہونے والی شہادتوں نے اےک بار پھر قوم کو ےہ بات ےاد دلا دی ہے کہ اےک سپاہی کی زندگی کےسے لمحہ بہ لمحہ موت کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر گزرتی ہے۔
کاش کہ ہمارے سےاست دان بھی سپاہےانہ زندگی کے اسرارورموز سے آشنائی حاصل کرسکتے !
ےہاں مےں اےک بات ضرور کہنا چاہوں گا اور وہ ےہ کہ اےک حقےقی جنرل بھی بنےادی طور پر اےک سپاہی ہی ہوتا ہے وہ جنرل راتوں رات نہےں بن جاتا!

Scroll To Top