سال میں وہ کام کئے جو سابق حکومتیں سالوں نہ کر سکیں، عثمان بزدار

صلاح الدےن کی پولیس تشدد سے ہلاکت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، مستقبل میں اس طرح کا حادثہ برداشت نہیںکیا جائے گا

حکومت آپ کےساتھ کھڑی ہے ،ہرممکن مدد کرےگی‘وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس تشدد سے جاں بحق ہونیوالے صلاح الدین کے اہلخانہ اور وکلاءسے ملاقات


لاہور( این این آئی)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے وزےراعلیٰ آفس مےں رحیم یار خان میں پولیس تشدد سے جاں بحق صلاح الدین کے والد محمد افضال، دیگر اہل خانہ اور وکلاءنے ملاقات کی ۔وزیراعلیٰ نے غمزدہ والد محمد افضال سے بیٹے کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر دکھ اور افسوس کا اظہارکےا اورصلاح الدین کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت کی ۔ وزےراعلیٰ نے صلاح الدےن کے والد اوراہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے کی پولیس تشدد سے ہلاکت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور ایسا واقعہ مستقبل میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے نئے ایس او پیز بنائے جائیں گے اوررولز اور قوانین میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔اس ضمن مےں محکمہ داخلہ کو ہداےات جاری کردی گئی ہےں۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ پراسیکیوشن کے ہر مرحلے میں آپ سے پورا تعاون کریں گے کےونکہ آپ کو انصاف دلانا میری ذمہ داری ہے۔ میں اور پنجاب حکومت آپ کے ساتھ کھڑے ہیںاور حکومت آپ کی ہرممکن مدد کرے گی اورآپ کے خاندان کا پورا خیال رکھا جائے گا۔یہ آپ کا کیس نہیں بلکہ ہمارا کیس ہے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ آپ کو انصاف دیں گے اور انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ قصور وار کو اس کے کئے کی کڑی سزا ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے صلاح الدین کے والد اور دیگر اہل خانہ کے مطالبے پر کیس کی انکوائری ڈی آئی جی کے عہدے کے افسر سے کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری رپورٹ کے بعد انسداد دہشت گردی کی دفعات لگانے کا فیصلہ کیا جائے گاجبکہ دو بارہ پوسٹ مارٹم کرانے کے حوالے سے حکومت آپ سے تعاون کرے گی اوراس ضمن مےں فوری طورپر ضروری اقدامات کےے جائےںگے۔ انہوںنے کہا کہ میں نے اس واقعہ پر فوری نوٹس لیا اور انکوائری کا حکم دیا۔ افسوسناک واقعہ کے بارے میں مزید شواہد سامنے آنے پر عدالتی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اوراس ضمن میں لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرارکو باقاعدہ درخواست کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی بیٹے کی موت کا جو بھی ذمہ دار ہے، وہ سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ ڈی پی او رحیم یار خان کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ اقدام بھی اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ انصاف کی راہ میں کوئی حائل نہ ہو۔ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے نتیجہ میں جو بھی قصوار پایا گیا ، اس کے خلاف بلاتفریق قانونی کارروائی ہوگی۔عدالتی کمیشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات سے آپ کے بیٹے کی موت کے حقائق سامنے آئیں گے۔انہوںنے کہا کہ عدالتی کمیشن کے فیصلے سے عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔واقعہ کے ذمہ داروں کو قانو ن کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔میری اور پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں۔وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والو ںمیںصلاح الدین کے ماموں ریاض احمد ، بھائی ظہیرالدین بابر، دیگر اہل خانہ منظور احمد، خالد محمود، عبیداللہ، وکلاءاسامہ خاور، خدیجہ صدیقی اور حسن نیازی شامل تھے۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری اطلاعات اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے ملاقات کی۔ محمد بشارت راجہ نے محکمہ قانون و پارلیمانی امور کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے محکمہ قانو ن و پارلیمانی امورکی شاندار کارکردگی پر محمد بشارت راجہ اور ان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ

Scroll To Top