قوم ان ڈاکوﺅں کا انجام دیکھنے کی منتظر ہے ! 07-08-2015

بدھ کے روز راولپنڈی میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر خان نیازی کا گھر کے اندر قتل اس المناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ معاشرے میں انصاف دینے کی ذمہ داری جن اصحاب کو سونپی گئی ہوئی ہے ان کی زندگیاں بھی عام شہریوں کی زندگیوں کی طرح غیر محفوظ ہیں۔ چند موٹر سوار آئے اور جج صاحب کو گولیوں کا نشانہ بنا کر چلتے بنے۔
یہ کیس ایک بار پھر ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ دہشت گردوں ٹارگٹ کلرز اور سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے دیگر لوگوں کو سول عدالتوں میں سزائیں کیوں نہیں ہوتیں۔ یہ درست ہے کہ کرپشن کا زہر عدلیہ کے جسم میں بھی سرایت کرچکا ہے اور انصاف خریدا بھی جاتا ہے اور بکتا بھی ہے۔ لیکن جو جج انصاف کے تقاضوں کو دیانت داری کے ساتھ پورا بھی کرنا چاہیں انہیں بھی یاد دلا دیا جاتا ہے کہ ” کچھ اپنی جان اور اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچیں۔“
فوجی عدالتوں کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہماری سِول عدالتیں خوف اور لا لچ کے اُس ماحول کا مقابلہ نہیں کرسکتیں جو آدمی کو زندگی لینے کے عمل کو اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھنے والے شقی القلب مجرموں نے پیدا کر رکھا ہے۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ اگر فوجی عدالتیں مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا شروع کردیتی ہیں لیکن بالائی عدالتوں میں ہونے والا جوڈیشل ریویو پھر مجرموں کو اپنا اثر و رسوخ یا اپنا خوف استعمال کرنے کا موقع عطا کردیتا ہے تو پھر کیا ہوگا۔؟
فوجی عدالتوں کا حقیقی فائدہ صرف اس صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ سزا پانے والے مجرموں کی تمام تر امیدیں وہاں سنائے جانے والوں فیصلوں کے ساتھ ہی دفن ہوجائیں۔
بہرحال پھر بھی دہشت گردی کے خلاف قوم کی جنگ کو موثر بنانے کا ایک بڑا راستہ کھل گیا ہے۔ آئندہ دوسرے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔
یہاں یہ بات یاد رکھی جانے کے قابل ہے کہ دہشت گردی قوم کے خلاف زندگیوں کے اتلاف کے ذریعے ہی نہیں وسائل پر ڈاکہ زنی کے ذریعے بھی ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے۔
قومی معیشت کو کرپشن کے ذریعے تباہی و بربادی کی طرف لے جانے والے ” مالیاتی ڈاکو “ بھی اپنے انجام کو پہنچنے کے منتظر ہیں۔ شاید میں غلط بات لکھ گیا ہوں۔ وہ خود منتظر نہیں ` قوم ان کا انجام دیکھنے کی منتظر ہے۔

Scroll To Top