گو پ قومی اسمبلی میں ! 06-08-2015

اگر آپ 1950ءکی دہائی میں فلمیں دیکھتے تھے تو آپ کو ایک صحت مند کامیڈین گوپ اچھی طرح یاد ہوگا۔ اس کا کام روتوں کو بھی ہنسانا ہوتا تھا۔ آج میں نے تقریباً ڈیڑھ بجے دوپہر ٹی وی آن کیا تو ایکدم مجھے یوں لگا کہ گوپ زندہ ہوگیا ہو۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ ” وہ ہماری قومی اسمبلی میں کیسے پہنچ گیا۔؟“ اس کے سر پر اسلامی پگڑی کہاں سے آگئی ۔؟ اس کے چہرے پر ایسی شاندار نورانی داڑھی کیسے نمودار ہوگئی۔؟
بہرحال تفریح کی انڈسٹری میں بہروپ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس مرتبہ گوپ مولانا فضل الرحمان کا کردار ادا کرتے نظر آئے۔ وہ وزیراعظم کو ہنسانے کی پوری کوشش کررہے تھے۔ لیکن وزیراعظم نے مسکراتے رہنے پر اکتفا کیا ہوا تھا۔ ان کے پہلو میں نثار علی خان بیٹھے تھے جن کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے عاری تھا شاید انہیں اتنے سنجیدہ اور مقدس ایوان میں ایک کامیڈین کی موجودگی ناگوار گزر رہی تھی۔
سپیکر صاحب البتہ ضرور گوپ کی حرکات و سکنات اور موشگافیوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ پچھلی سیٹوں کے پاس کچھ ڈسِک بھی بار بار بج رہے تھے جس پر گوپ کی باچھیں کھلی جارہی تھیں۔
مجھے یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی اگر گوپ کی اس پرفارمنس کو دیکھیں گے تو داد دیئے بغیر نہیں رہیں گے۔ کمال یہ ہے کہ گوپ نے عمران خان کو بدمعاش دہشت گرد اور غنڈہ تک کہہ ڈالا اور ساتھ ہی لاس اینجلس کا ذکر بھی کردیا۔ یہ وہ باتیں ہیں جواگر مولانا نہ کہیں تو ان کا ” شوقِ دین داری “ پورا نہیں ہوتا۔
گوپ کو مولانا کی ہر کمزوری معلوم دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے وزیراعظم سے یہ التجا بھی کرڈالی کہ ” ہمیں تنہائی میں بلا کر ہماری تنخواہ بڑھانے کا ہی وعدہ کرڈالیں۔ آخر ہم آپ کے نمک خوار ہیں۔!!!“

Scroll To Top