تقدیر ساز لوگ جن کے خواب تاریخ بن گئے (حصہ دوم)

سکندر اپنے خوابوں پر سوار ہو کرہی ایک بپھری ہوئی موج کی طرح اٹھاتھا اور کرہ ءارض کی وسعتیں اس کے گھوڑے کی ٹاپوں کے سامنے سمٹتی چلی گئی تھیں۔
یہی بات سائرس دی گریٹ کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ اس عظیم فاتح کو ہم کیخسرو کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ اور اسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دیوار چین بنوائی تھی مولانا ابو الکلام آزاد کی تحریر کردہ تفسیرکے مطابق اسی عظیم فاتح کا ذکر قرآن حکیم میں ذوالقرنین کے نام سے ہوا ہے۔ سیزر اٹیلا اور ہنی بال بھی عظیم فاتحین کی اسی کلب کے ممبر قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ ان سب کے درمیان مشترک خصوصیات شاید بہت کم ہوں لیکن ایک قدر یقینی طور پر مشترک تھی۔ ان سب نے اپنے اپنے انداز میں خواب دیکھے اور اپنے اپنے انداز میں اُن کی تعبیریں تلاش کیں۔
اسلامی دنیا کے فاتحین کا ذکر میں الگ طور پر کروں گا۔ اگر یہاں بلادِمشرق کے دو فاتحین کا ذکر ضرور ہونا چاہئے۔ایک تو تیمور لنگ اور دوسرا اس کا غیر مسلم تاتاری پیش رو چنگیز خان ۔ یہ دونوں خاندانی بادشاہ نہیں تھے۔ انہوں نے زندگی کا سفر عام اور معمولی حیثیت کے آدمیوں کے طور پر شروع کیا۔ تموجن نام کا ایک چرواہا چنگیز خان کیسے بنا؟ اور تیمور نام کا ایک لنگڑا سپاہی اپنے دور کا اقلیم شکن کیسے بن گیا ؟ ان سوالات کے جواب میں بہت لمبی داستانیںلکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہاں یہی کہہ دینا کافی ہے کہ دونوں نے اپنی ” قوتِ تسخیر“ اپنے خوابوں سے حاصل کی۔ دونوں نے اپنی زندگیاں گھوڑوں کی پیٹھ پر گزاریں۔ اور ان کے خوابوں کی اڑان انہیں کرہءارض کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جاتی رہی۔ اسی صف میں محمود غزنوی اور محمد غوری کو بھی کھڑا کیا جاسکتاہے۔ان کی اسلامی شناخت سے ہٹ کر بھی ان کی شخصیت کو جانچا او ر پرکھا جائے تو وہ ہر لحاظ سے سکندر اور سیزر کے پائے کے فاتحین نظر آتے ہیں۔ دونوں نے برصغیر ہند کی تاریخ تبدیل کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ محمود غزنوی سے تو یہ جملہ منسوب ہے کہ ” سومنات تک پہنچنا میرا ایک خواب تھا جو حقیقت میں ڈھل گیا۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی سومنات ہوگا ` میں وہاں تک پہنچوں گا۔“
خوابوں کے حوالے سے تین بہت بڑے نام سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ` سلطان بیبرس ؒ اور جلال الدین خوارزم ؒ کے ہیں۔ لیکن ان کا تفصیلی ذکر میں اپنی اگلی تحریر میں کروں گا۔
یہاں سرسری ذکر ارطغرل ` الپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی کے ساتھ ساتھ سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان کا ضروری ہے۔ یہ سب وہ فاتحین تھے جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے خواب کی قوت کے ساتھ دنیا کی تاریخ کا رُخ موڑا۔ اسی فہرست میں یوسف بن تاشفین کا نام بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ اس عظیم فاتح کو بھی ہسپانیہ پر دوبارہ نصرانی قبضے کو روکنے کا خواب جبل الطارق کے اُس پارلے گیا تھا۔
یہاں تاثر یہ ملتا ہے کہ دنیا کی تاریخ واقعی کچھ اور نہیں ` عظیم خوابوں عظیم فاتحین اور عظیم جنگوں کی ” داستانِ مسلسل “ ہے۔ جنگیں صرف تلواروں اور توپوں سے نہیں خوابوں اور سوچوں سے بھی لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ جنگیں صرف دو مملکتوں کے درمیان نہیں ہوا کرتیں ` دونظاموں کے درمیان بھی ہوتی ہیں ۔ اس ضمن میں میںلینن ماﺅ اور محمد علی جناح ؒ کا نام لوں گا۔چند برس قبل جمین میگریگر بزنس نے اس موضو ع پر ایک بڑی دلچسپ کتاب لکھی تھی۔
“Leaders Who Changed The World”
(لیڈر جنہوں نے دنیا کو تبدیل کیا)
اگرچہ شخصیات کے انتخاب میں جمین میگریگر کی سوچ جانبدارانہ بلکہ متعصبانہ تھی لیکن اس نے بھی ایچ جی ویلز کی اس تھیوری سے اتفاق کیا کہ تاریخ بڑے آدمیوں کے بڑے خوابوں کی کوکھ سے جنم لیا کرتی ہے۔
آج کے پاکستان کو بھی ضرورت ایک بڑے خواب کی ہے۔ ایسا خواب جو کوئی بڑا آدمی دیکھے۔
چھوٹے آدمیوں کے خواب ہمیشہ چھوٹے ہوا کرتے ہیں ۔
ہوسکتا ہے کہ ایک بڑا خواب دیکھنے والا عمران خان اُس تقدیر ساز بطلِ جلیل کا پیش رو ہو جس کا خواب تاریخ بنے گا۔۔۔

Scroll To Top