انتہاپسندی کا پاکستانی معاشرے میں سرایت نہ کرنا بڑی کامیابی ہے

  • عوام کی اکثریت ایسے ماحول کی متمنی ہے جو امن ، بھائی چارے اور یگانت سے مزین ہو
  • ملک کے طول وعرض میں امن وامان کی صورت حال میں بتدریج بہتری آرہی
  • کوئٹہ میں دہشت گردوں کی موجودگی ریاستی اتھارٹی چیلنج کرنے والوں کے عزائم
  • اس میں دوآراءنہیں کہ دہشت گرد کارروائیوں کے درپردہ سیاسی مقاصد ہی کارفرما ہوا کرتے ہیں

کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی کے نتیجہ میں چھ دہشت گردوں کا مارا جانا صوبائی درالحکومت میں ریاست کی اتھارٹی چیلنج کرنے والوں کے عزائم پھر بیان کرگیا ،خفیہ اطلاعات کی بنا پر ہونی والی مذکورہ آپریشن میں ایک اہلکار شہید جبکہ 8 زخمی ہوئے تاہم ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ، قانون نافذکرنے اداروں سے مقابلے کے دوران ایک خاتون بھی جان بحق ہوئی ، بتایا گیا کہ مارے جانے والوں کا تعلق دولت اسلامیہ سے تھا،
مقام شکر ہے کہ ملک کے طول وعرض میں امن وامان کی صورت حال میں بتدریج بہتری آرہی، اب شہریوں کی جان ومال کے دشمن گرزے ماہ وسال کی طرح متحرک نظر نہیں آتے ، ضرب عضب اور پھر ردالفساد کے نتیجے میں کالعدم جماعتوںکا نیٹ ورک یوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا کہ انھیں دوبارہ اسے منعظم ہونے کا موقعہ نہیں مل رہا، درحقیقت نائن الیون کے بعد پیش آنے والے واقعات نے پاکستانی کی سیاسی ،سماجی اور معاشی حثیثت کو بری طرح متاثر کیا، ایسے دن بھی آئے جب ایک ہی روز میں دو دو خودکش حملہ کیے گے ، پاکستانی قوم کے لیے کم وبیش ستر ہزار جانوں کا نذارنہ پیش کرنا کسی طور پر آسان نہ تھا چنانچہ ہمارا دشمن سر عام یہ کہتا نظر آیا کہ پاکستان کو امن کے لیے چند سال نہیں کئی دہائیاں درکار ہیں۔ ان دنوں کالعدم تحریک پاکستان اور اس کے ہم خیال مسلح گروپوں سے ملک کا شائد ہی کوئی نمایاں شہر بچ پایا ہو مگر پھر چشم فلک نے دیکھا کہ عوام اور سیکورٹی فورسز کے باہمی تعاون کے نتیجے میں حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے گے ۔
بظاہر یہ کہنا غلط نہیں کہ وطن عزیز میں دہشت گردی کا خاتمہ تو ہوا مگر انتہاپسندی بدستور موجود ہے ،ایسے عناصر آج بھی باآسانی تلاش کیے جاسکتے ہیں جو مخالف نقطہ نظر کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، دراصل خود کو ہی حق وسچ کا داعی کہنا ایسی محدود سوچ ہے جو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شکل میں فرد یا گروہ کو انتہاپسندی کی جانب مائل کرسکتی ہے ، یہ بھی راز نہیں کہ وطن عزیز میں تشدد پسندانہ خیالات روس افغانستان جنگ کے دوران پروان چڑھے ، کہا جاسکتا ہے کہ ان اگر ان دنوں زمہ دارنہ کردار ادا کیا جاتا تو شائد حالات مختلف ہوتے ۔
اہم یہ ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود مملکت خداداد پاکستان میں عام آدمی انتہاپسندی کے عفریت سے دور رہا، آج بھی پاکستانیوں کی اکثریت ایسے ماحول کی متمنی ہے جو امن ، بھائی چارے اور یگانت سے مزین ہو چنانچہ بدخواہوںکی بھرپور کاوشوں کے باوجود عام شہری تشدد پسندانہ خیالات سے مکمل لاتعلق ہے۔
انتہاپسندی کے اسباب کا تجزیہ کریں تو چند بنیادی نکات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ، مثل کشت وخون کی بشیتر کاروائیوں کے درپردہ سیاسی مقاصد کارفرما ہوا کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ چونکہ اسحلہ سازی منافع بخش کاروبار ہے لہذا مسقبل قریب میں بھی کوئی یہ امید نہ رکھے کہ کراہ ارض پر جنگ وجدل کے بادل ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے، اس عالمی سچائی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ کوئی بھی نمایاں مذہب پرتشدد خیالات کا حامی نہیں بلکہ مذہبی جنگوں کی آڈ میں سیاسی مقاصد ہی کارفرما رہے ، نمایاں مثال مسلم ممالک کی دی جاسکتی ہے ، پچاس سے زائد اسلامی ملکوں میں اظہار رائے کی آزادی نہ دینا ایسے گھٹن ذرہ معاشروں کو وجود میں لانے کا باعث بن چکا جہاں تشدد ناگزیر ضرورت کی شکل میں ابھر ا۔القائدہ اور داعش جیسی سفاک تنظمیوں کا ظہور پذیر ہونا ایک طرف مغرب کی کارستانی ہے تو وہی نسل درنسل چلی آنے والی مسلم اشرافیہ کی بے حسی اور سنگندلی بھی اس کی بنیاد بنے ۔ دہشت گردی ایک نقطہ نظر طاقتور مغرب کا پیدا کردہ ہے ، امریکہ اور اس کے ہم خیال ملکوں نے نائن الیون سے بہت پہلے اسلام کو بطور حریف خیال کیا،یعنی یہ تصور کیا گیا کہ چونکہ روس اور افغان جنگ کو جہاد کا نام دے کر امریکہ نے سب سے بڑے دشمن کو شکست فاش دی چنانچہ مغرب کے پالیسی ساز حلقوں میں مسلمانوں کو خطرہ سمجھنا شروع کردیا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڈ کر طاقتور مغرب نے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی مثلا عراق، لیبیا اور شام میں قتل وغارت کی وجہ ان ملکوں کے قدرتی زخائر بنے ۔
اہل پاکستان یوں خوش قسمت واقع ہوئے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں پیش آنے والے حادثہ کے بعد خود کو سنھبالنے میں کامیاب رہے، بلاشبہ ایک طرف ہمارے اہل اقتدار کی کوتاہیاں تھیں تو دوسری جانب دور اور نزدیک کے دشمن بھی چالیں بھی خوفناک صورت حال پیدا کرگئیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے ہمارے ہاں مذہبی ہی نہیں لسانی اور سیاسی دہشت گردی اب بھی موجود ہے ، باخبر پاکستانی آگاہ ہیں کہ خبیر تا کراچی پرتشدد واقعات کی نوعیت مختلف ضرور ہے مگر درپردہ دشمن ایک ہی ہے۔
افغانستان میںجاری لڑائی بھی پاکستان پر اثر انداز ہوتی چلی آرہی، کالعدم ٹی ٹی پی برملا خود کو نظریاتی طور پر افغان طالبان کے قریب کہتی ہے ، پاکستان کی مشکل یہ بھی رہی کہ سالوں تک امریکہ اور کابل یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے کہ طالبان کو شکست نہ ہونے میں ان کی پالیسوںکا عمل دخل ہے چنانچہ دہشت گردی کے واقعات میں داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن اور نئی دہلی کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

Scroll To Top