یارب ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے دشمنوں اور اپنے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کرسکیں ! 05-08-2015


روایت ہے کہ جب قادسیہ سے آنے والے قاصد نے مدینہ کے نواح میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کو بتایا کہ مسلمانوں نے ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل کرلی ہے تو پہلے خلیفہ ءدوم نے سجدہ شکر ادا کیا اور پھر دُعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا: ” رب العالمین مسلمانوں کو اسی طرح فتح و نصرت سے ہمکنار کرتا رہ ` مگر انہیں مفتوحین کی تہذیب و ثقافت کی ریشہ دوانیوں سے بھی محفوظ رکھ۔ کاش میں عرب اور عجم کے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کرسکتا۔“
عجم اس زمانے میں ہر غیر عرب کو کہا جاتا تھا لیکن اس کا اطلاق زیادہ تر ایران پر ہوتا تھا جس کے حکمران کو کسریٰ کہتے تھے اور جو عیش و عشرت کا گہوارہ تصور کیا جاتا تھا۔
میرے نزدیک فاروق اعظم ؓ کا متذکرہ بیان ایک تاریخی صداقت کا عکاس ہے۔ اسلام میں ملاوٹ کا سلسلہ مسلمانوں کی فتوحات کے بعدشروع ہوا تھا۔ اس ملاوٹ نے اصل اسلامی روایات کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔
حضرت عمر ؓ جانتے تھے کہ جب تہذیبوں کا ملاپ شروع ہوتا ہے تو ان کے درمیان آگ کے پہاڑ تو کیا آگ کی لکیر بھی نہیں کھینچی جاسکتی۔ آپ کی متذکرہ دُعا میں ایک طرح کا یاس بھی شامل تھا۔ آپ کو اندازہ تھا کہ اسلام اپنی اصل شکل میں برقرار نہیں رہ سکے گا اور عجمی رنگ ضرور قبول کرے گا۔
بڑے ہی مختلف معنوں میں میرا خیال ہے کہ ہمیں یعنی اہلِ پاکستان کو اجتماعی طور پر مل کر یہ دُعا کرنی چاہئے کہ ” اے رب العزت بھارت اور پاکستان کے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کردے۔ ایک زمانے میں ہم نے بھارت کو فتح کرلیا تھا اور صدیوں تک بھارتی تہذیب کی زبردست یلغار کے باوجود ہم اپنے تشخص کو بڑی حد تک قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اب بھارت پر غالب آنے کے لئے ہمیں کسی بڑے معجزے کی ضرورت ہوگی۔پر ہمارے اندر یہ احساس زندہ رکھ کہ بھارت ہمارا بھی اور ہماری تہذیب کا بھی دشمن ہے۔“
میں یہ باتیں ایک بڑے واضح مقصد کے لئے لکھ رہا ہوں۔ ہماری تہذیب اور روایات پر بھارتی سوچ اور ثقافت کی یلغار جس انداز میں ہو رہی ہے اس کی نشاندہی کے لئے میں بھارتی فلم ” بجرنگ بھائی جان “ کانام لے کر کروں گا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ بھارتی سوچ اور ثقافت کے علمبردار آج کے پاکستان پر قائم حکومت کے چہیتے بنے ہوئے ہیں۔ میں یہاں نجم سیٹھی اور امتیاز عالم کانام بے دھڑک لوں گا۔ اور بھی بہت سارے نام ہیں لیکن میری رائے میں اصل ذمہ داری ملک کے وزیراعظم میاں نوازشریف کی ہے جنہیں اپنے فرزند اور اپنے خاندان کے باقی افراد سے کہنا پڑے گا کہ ” تجارت کرنے کے لئے باقی ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔ صرف بھارت کیوں ؟“

Scroll To Top