تقدیر ساز لوگ جن کے خواب تاریخ بن گئے (حصہ اول)

یہ کہنا بادی النظر میں عجیب سا لگتا ہے کہ تاریخ ایک ایسی عمارت ہے جو بڑے بڑے خوابوں اور ان کی عہد ساز تعبیروں پر کھڑی ہوتی ہے، مگر جب ایچ جی ویلز نے اپنی تصنیف ” دنیا کی مختصر تاریخ “ کے دیباچے میں یہ بات لکھی تھی شاہراہِ وقت پر انسانی تہذیبوں کا احاطہ کرنے کے بعد ہی لکھی تھی ۔
ایچ جی ویلز کے اس نظریے کے ساتھ ٹائن بی سمیت تقریباً تمام بڑے مورّخوں نے اتفاق کیا ہے ۔
بڑے بڑے خواب تہذیبیں یا قومیں نہیں دیکھا کرتیں ، تہذیبوں کے معمار اور قوموں کے رہنما دیکھا کرتے ہیں ۔
ماضی میں جانے سے پہلے میں دورِ حاضر کی دو تین عظیم مثالیں دینا چاہتا ہوں ۔ایسے رجالِ عظیم کی مثالیں جنہوں نے بڑے بڑے خواب دیکھے اور جن کے خوابوں نے عہد ساز تعبیریں پائیں۔گزشتہ صدی کے آغاز میں لینن نے روس میں ایک ایسے انقلاب کا خواب دیکھا جو دنیا بھر کے غریبوں اور محروم طبقوں کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال بن گیا ۔یہ بات کون نہیں جانتا کہ سوویت یونین کا قیام عمل میں آنا اور دنیا کی ایک بڑی سپر پاور بننا اسی خواب کی تعبیر تھا۔ اور کون یہ بات نہیں جانتا کہ جدید چین کے بانی اور معمار ماﺅزے تنگ نے بھی ایسا ہی ایک خواب دیکھا جو مشہورِ عالم لانگ مارچ اور چینی انقلاب کا باعث بنا۔۔؟
تاریخ کے کم و بیش اِسی عہد میں ویانا کے ایک گم نام شہری ایڈولف نے بھی ایک خواب دیکھا کہ وہ پہلی جنگ عظیم میں راکھ کا ڈھیر بن جانے والی جرمن قوم کی رگ و پے میں ایسی بجلیاں دوڑا دے گا کہ اس کی قیادت میں جرمنی کو ایسا عروج حاصل ہوگا کہ جرمن قوم کے دشمنوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی۔ کون نہیں جانتا کہ 1933ءاور1939ءکے درمیانی عرصے میں نازی جرمنی کے معمار ہٹلر نے کیا کچھ کردکھایا؟
عہد ساز شخصیتوں کے اسی دور میں علامہ اقبالؒ نے کیا خواب دیکھا اور محمد علی جناح ؒ نے اس خواب کو کس طرح اپنایا اور کس تعبیر کی طرف بڑھایا یہ کوئی بڑا راز نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی عمارت ایک خواب کی بنیاد پر ہی کھڑی کی گئی تھی اور آج بھی کھڑی ہے۔ 23مارچ1940ءکو اسی خواب کے لئے قرارداد پاکستان کا نام منتخب کیا گیا۔بیسویں صدی میں آپ کو کرہ ءارض پر جگہ جگہ خواب بکھرے نظر آئیں گے۔ ایسے خواب بھی جنہیں عہد ساز تعبیر یں ملیں اور ایسے خواب بھی جو شرمندہ ءتعبیر نہ ہوسکے۔
” اگر فرانس عظیم نہیں تو اسے فرانس کہنا فرانسیسی خون کی توہین ہوگی۔“ یہ الفاظ جنرل چارلس ڈیگال کے تھے۔ اِن الفاظ میں وہ خواب پنہاں تھا جوڈیگال نے 1956ءمیں دیکھا اور جس نے دس برس کے اندر فرانس کو ایک سپر پاور بنادیا۔
کیوبا فیڈل کا سترو اور شی گویرا نے بھی ایک خواب کے دوش پر ہی انقلاب کا سفر طے کیا تھا۔
انڈونیشیا کی آزادی بھی احمد سوئکارنو کے خواب کی ہی تعبیر تھی۔ وہ بھی احمد بن بیلا اور یوسف بن خذہ جیسے جنونیوں کا ایک خواب ہی تھا جس کے ایندھن نے الجزائر کی جنگِ آزادی کو آگے بڑھایا۔ ہوچی سہنہ کے خواب کی تعبیر کو دنیا ویت نام کے نام سے جانتی ہے۔ جدید سنگاپور اور جدید ملائیشیا کو ہم یوکوانگ لی اور مہاتیر محمد کے خوابوں کی تعبیر یں قرار دے سکتے ہیں۔
غرضیکہ کہ عہد ساز افراد کے دیکھے ہوئے خواب ہی تاریخ کے پہیوں کو آگے دھکیلتے رہے ہیں اور دھکیلتے رہےںگے۔
یہ سلسلہ بقول ایچ جی ویلز کے ` قدیم زمانوں سے چلا آرہا ہے۔
اس ضمن میں سب سے بڑی مثال مقدونیہ کے سکندر اعظم کی دی جاسکتی ہے۔ میں یہاں ایچ جی ویلز کے ہی الفاظ دہراﺅں گا۔ اگر سکندر اعظم پیدا نہ ہوا ہوتا تو تاریخ میں مقدونیہ کا نام تک کوئی نہ جانتا۔ اُس دور کا یونان ایک بڑی طاقت ضرور تھا لیکن یونان میں بھی کوئی شخص دائرہ ءتصور میں بھی یہ بات نہیں لاسکتا تھا کہ بہت جلد دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں مقدونیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والی ہیں۔(جاری ہے)

Scroll To Top