عمران خان کی اپیل ” میں“ کو قربان کرنا اگر آسان ہوتا تو تاریخ اسلام مختلف ہوتی! 01-08-2015

اتوارکو اسلام آباد میں تحریک انصاف کا ایک بڑا کٹھ ہورہا ہے جس میں بہت سارے پرانے چہروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ میں بہت زیادہ پرانا چہرہ تو نہیں ہوں لیکن گزشتہ تین برس سے میں نے تحریک کی سرگرمیوں میں کوئی حصہ نہیں لیا اور میری وابستگی صرف کپتان کی ذات تک رہی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ تحریک انصاف میں بھی آج کل وہی کچھ ہورہا ہے جو کچھ تیزی سے مقبولیت اور طاقت حاصل کرنے والی پارٹیوں میں ہوتا چلا آیا ہے۔ یعنی طاقتور عہدوں کے لئے رسہ کشی ۔ دوسروں پر سبقت حاصل کرنے اور دوسروں سے ممتاز نظر آنے کی خواہش یا بھوک۔ عمران خان کو اس فطری عمل سے شدید الجھن ہوتی ہوگی۔ یہ الجھن انہیں 2011ءمیں ہی ہونی شروع ہوگئی تھی جب پارٹی میں ” نوواردوں “ اور ” پرانوں“ کے درمیان کھنچاﺅ کا آغاز ہوا تھا۔
میں نے اپنے آپ کو اس کھنچاﺅ سے دور رکھا۔ بلکہ میں باہر ہی نکل آیا۔ میں پرانوں کے احساسات کو سمجھتا تھا لیکن یہ بھی جانتا تھا کہ جب تک پارٹی کے دروازے سب پر نہیں کھلیں گے اس کی سیاسی قوت محدود رہے گی۔
مجھے یاد ہے کہ عمران خان کہا کرتے تھے۔
” میر ی اپیل ہے کہ آپ سب اپنی ” میں “ کو پارٹی اور قوم کے مفاد پر قربان کردیں۔ “
لیکن ” میں “ کو قربان کرنا آسان ہوتا تو آنحضرت کے بعد ہماری تاریخ میں جو کھنچاﺅ شروع ہوا وہ شروع نہ ہوتا۔
میں کپتان کے حکم پر اس اجتماع میں شرکت کروں گا اور اپنی آج کی بات کا اختتام میں ایک بڑے ” اعتراض “ کا جواب دے کر کروں گا جو عمران خان کے قریب جانے والے لوگوں کے ماضی کے پروفائل کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اس اعتراض کی زد میں جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی اور دیگر کئی اصحاب آجاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ ” سٹیٹس کو “ کی علامتیں نہیں۔۔۔؟
میں یہاں آنحضرت کے دور کی مثال دوں گا۔ میرا مقصد خدانخواستہ مواز نہ کرنا نہیں۔ ہم آپ کی خاک پا کہ برابر بھی نہیں۔ لیکن کیا آپ کے صحابی ؓ آسمانوں سے وارد ہوئے تھے۔ ؟ کیا سب کے سب مکہ کے اس ” سٹیٹس کو “ کا حصہ نہیں تھے جسے آپ نے للکارا تھا۔ ؟ ان میں اکثریت نے جب اسلام قبول کیا تو وہ اسلام کے سپاہی بن گئے۔ میں یہاں بطور خاص حضرت خالد بن ولید ؓ کی مثال دوں گا۔ خالد بن ولید ؓ نے احد کے میدان میں مسلمانوں کو زک پہنچائی تھی لیکن ان کے ہی مقدر میںسیف اللہ کا خطاب لکھا تھا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ہمارا آج کا اور آنے والے کل کا عمل زیادہ اہمیت رکھتا ہے !

Scroll To Top