لارنس آف عریبیا کون اور کم فلبی کون ؟ (حصہ دوم)

بات کہیں سے کہیں چلی گئی ہے۔ ذکر میں اس مشورے کا کررہا تھا جو صدر اوباما نے وزیراعظم نوازشریف کو دیا۔ یعنی وہ مشورہ جو میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ سامنے آیا اورجسے ہمارے وزیراعظم نے نہایت ” خندہ پیشانی “ کے ساتھ قبول کیا۔
مشورہ یہ تھا کہ ” جناب وزیراعظم پہلے آپ اپنا گھر صاف کیجئے۔“
یہ مشورہ صدراوباما نے اس موقع پردیا جب ہمارے وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لئے امریکی کردار کے سامنے آنے کی ضرورت پرزور دیا۔ جواب میں صدر اوباما نے فوراً ممبئی کیس کو اٹھا دیا اور یہ سوال داغ ڈالا کہ پاکستان حافظ سعید کوکٹہرے میں کیوں نہیں لارہا۔
” آپ اپنا گھر صاف کریں “ کے الفاظ واضح طور پر پاکستان کی فوج )بالعموم(اور آئی ایس آئی )بالخصوص(پرلگائے جانے والے اس الزام کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسی ملک کے خلاف ” خفیہ جارحانہ سرگرمیوں “ میں ملوث ہے۔
مجھے قوی یقین ہے کہ اگر ہمارے وزیراعظم صدر اوباما کے الفاظ کی تہہ تک جاتے تو وہ ا ن کے مشورے میں” رچے بسے “ اس الزام کو سمجھ لیتے کہ برصغیر میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاک فوج اور آئی ایس آئی کی ” سرگرمیاں “ ہیں ‘ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے بھارت کا اجتناب یا فرار نہیں۔
کئی روز بعد ہمارے بعض حلقوں میں اب رونا یہ رویا جارہا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کے ” اکابرین “ یا کرتا دھرتا وزیراعظم صاحب کو ” دورہ ءواشنگٹن “ کے لئے پوری طرح تیار نہیں کرسکے تھے۔ ورنہ وہ ” اپنا گھر صاف کریں “ کے مشورے کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی بجائے فوراً بلوچستان میں بھارت کی مجرمانہ مداخلت کا معاملہ صدر اوباما کے سامنے اٹھا دیتے۔
ممکن ہے کہ تب وزیراعظم صاحب نے سوچا یہ ہو کہ واقعی اپنے گھر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ اوراِس ضرورت کا تعین انہوں نے ” پاک فوج اور آئی ایس آئی “ کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ اس ناقابلِ یقین اور ناقابلِ تصور کرپشن کو سامنے رکھ کر کیا ہو جس کا الزام گزشتہ حکومت پر ” ببانگِ دہل “ لگتا رہا ہے۔
اگرچہ ہمارے میڈیا میں ایسے ” عناصر “ بڑی کثرت کے ساتھ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ میاں صاحب ” گھر کی صفائی “ کا آغاز قومی معاملات میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کاکردار ختم کرکے کریں۔ لیکن اگر اپنے گھر کی صفائی واقعی ہمیں مقصود ہے تو اس کی ابتدا ان تمام ” عناصر “ کے خلاف بھرپور اقدامات کے ذریعے ہونی چاہئے جنہوں نے اپنی بدعنوانیوں کے ذریعے ملک کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایسے تمام عناصرکے خلاف ایک موثر ”نیشنل ایکشن “ کیا جائے جو وطنِ عزیز کے مختلف اداروں میں مورچہ بند ہو کر غیر ملکی ایجنٹوں کا کردار نہایت مہارت اور کامیابی کے ساتھ ادا کررہے ہیں۔میں نے اس تحریر کا آغاز غیر ملکی جاسوسوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کے ذکر سے کیا ہے۔اس ضمن میں دو مشہور نام میرے ذہن میں آئے بغیر نہیںرہتے۔ ایک تو جیمز بانڈکا نام ہے جومشہور مصنف ایان فلیمنگ کا تخلیق کردہ ایک فرضی کردارہے۔ دوسرا نام کم فلبی کا ہے جو ایک حقیقی ” سپائی “ اور ” کاﺅنٹر سپائی “ تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران دو مشہور نام مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا حصہ بنے تھے۔ ایک لارنس آف عریبیا تھا جسے عرب ایک عرصے تک اپنا محسن سمجھتے رہے۔ اس کا تعلق برطانوی سیکرٹ سروس سے تھا اور اسے ترکی کے مفادات کے خلاف ایک موثر کردار ادا کرنے کے لئے مشرق وسطیٰ بھیجا گیا تھا۔ دوسرا نام جان فلبی کا تھا جو کم فلبی کا باپ تھا اور جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے سعودی دربار میںاثر ورسوخ حاصل کرنے کے لئے اسلام بھی قبول کیا تھا۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے حالیہ سیاسی نقشے کی تشکیل میں بنیادی کردار لارنس آف عریبیا اور جان فلبی نے ادا کیا تھا۔یہ بات آج تک معلوم نہیں ہوسکی کہ جان فلبی کی وفاداریاں برطانیہ کے ساتھ تھیں یا امریکہ کے ساتھ۔ مگر جہاں تک جان فلبی کے بیٹے کم فلبی کا تعلق ہے اس کی وفاداریوں کے بارے میں اس روز تمام شکوک و شہبات دور ہوگئے جس روز اس نے اچانک بیروت میں نمودار ہو کر ایک سنسنی خیز پریس کانفرنس کاانعقاد کیا اور اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ درحقیقت برطانوی نہیں روسی شہری ہے اور اگرچہ وہ تیس برس تک برطانوی سیکرٹ سروس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہا ’ اس کا اصل قبلہ ماسکو ہے اور وہ اس کی تمام تر وفاداریاں شروع سے ہی کے جی بی کے ساتھ رہی ہیں۔
اس دھماکہ خیز انکشاف کے صدمے سے برطانیہ کی حکومت ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ یہ خبر بھی آگئی کہ کم فلبی مغربی دنیا سے اپنا تعلق توڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کریملن جاچکا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سیکرٹ سروس کے فرضی ایجنٹ جیمز بانڈ عرف 007کے نام کا ڈنکا دنیا بھر میں بج رہا تھا۔
آج کی دنیا میں سیکرٹ سروسز کی اہمیت پہلے سے کہیںزیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ جاننا کسی کے لئے بھی آسان نہیں کہ لارنس آف عریبیا کون ہے اور کم فلبی کا کردار کون ادا کررہا ہے۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ نائن الیون کے ساتھ ہی پاکستان میں میڈیا کے کردار نے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ” ٹی وی “ کی پہنچ اور طاقت ہے۔ یہ طاقت صرف بڑے چینلز کے مالکان کی ہی طاقت نہیں، ٹی وی چینلز کے درمیان ” ریٹنگ “ کی جاری جنگ میں مرکزی کردارادا کرنے والے میزبانوں اورمہمانوں کی طاقت بھی ہے۔
اس طاقت کوپاکستان کے دشمن اپنے دُور رس مفادات کے فروغ اور حصول کے لئے کس مہارت کے ساتھ استعمال کررہے ہیں اس کااندازہ ہم سب کوتو ہوناہی چاہئے ’ لیکن اس کا بھرپور علم اگر ہماری حکومت اور اس کے وزیراعظم کو نہیں تو اس گھر کی صفائی کبھی نہیں ہوگی۔

Scroll To Top