افغانستان میں بات چیت اور حملے ساتھ ساتھ جاری

  • کشت وخون کی کارروائیاں افغان عوام کے ساتھ پڑوسی ملکوں میں بھی بے چینی واضطراب پیدا کررہیں
  • حالیہ طالبان حملے دراصل مذاکرتی عمل میں پوزیشن بہتر بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے
  • مسلح گروہ پیغام دے رہا کہ وہ بدستور افغانستان میںجب چاہے جہاں چاہے کارروائی کرسکتا ہے
  • بادی النظر میںافغانستان میں مسلسل عدم استحکام جس ملک کے فائدے میں ہے وہ بھارت ہے

 

قندوز کے بعد افغان صوبہ بغلان کے درالحکومت پل خمری پر طالبان کا بڑا حملہ مذاکرتی میز پر حصہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش قراردیا جارہا ، ادھر امریکی خصوصی نمائندے برائے افغانستان کا یہ دعوی سامنے آچکا کہ فریقین امن ڈیل کے قریب پہنچ گے ہیں ، زلمے خلیل زاد نے یہ بھی کہا تھا کہ دوحہ مذاکرت کے دوران طالبان حملے بارے انھیں متنبہ کیا تھا، امریکی خصوصی نمائندے کے بعقول انھوں نے جنگجو گروہ سے کہا کہ اس طرح کے تشدد کا سلسلہ رکنا چاہے“۔
افسوسناک ہے کہ ایک طرف فریقین امن کے نام پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب بدترین حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، درحقیقت یہی وہ پہلو ہے جو جنگ سے تباہ حال ملک میں امن بارے خدشات پیدا کررہا ، کشت وخون کی کاروائیاں جہاں افغان عوام میں بے چینی واضطراب کا باعث بن رہیں وہ پڑوسی ملکوں میں بھی امن عمل بارے خدشات کا پیدا ہونا قدرتی عمل ہے ۔بعض حلقوںکا خیال ہے کہ حالیہ طالبان حملے دراصل مذاکرتی عمل میں پوزیشن بہتر بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے ، مسلح گروہ پیغام دے رہا کہ وہ بدستور افغانستان میںجب چاہے جہاں چاہے کاروائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔
امریکی خصوصی نمائندے برائے افغانستان کا اصرار ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ دراصل افغانستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی موقع فراہم کریگا کہ وہ طالبان سے گفت وشنید کے زریعہ معاملات طے کریں مگر اس کے برعکس زمینی حقائق اس حقیقت پر مہرتصدیق ثبت کررہے کہ طالبان کا کسی بھی دوسرے فریق کو شریک اقتدار کرنا آسان نہیں، سچائی یہ ہے کہ طالبان 2001کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان میںمضبوط ترین پوزیشن پر ہیں، جنگجو گروہ کابل حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتا ہے چنانچہ عین ممکن ہے کہ امریکی فوج کے افغانستان سے نکلتے ہی طالبان پوری قوت سے کابل پرچڑھ دوڈیں، مذکورہ خدشات کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ امریکہ ہر صورت افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے غالب امکان ہے کہ باعزت انخلاءکا نام دے کر واشنگٹن پھر جنگ سے مفلوک حال ملک کو غیر یقینی صورت حال میں چھوڈ جائے۔
پاکستان کی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کابل میںایسی حکومت کے قیام کا خواہاں ہے جسے سب ہی فریقوں کی حمایت حاصل ہو، اسلام آباد افغانستان میں اس تاریخ کو دہرائے جانے کا خواہشمند نہیں جس کا نتیجہ افغان عوام کے ساتھ پڑوسی ملکوں کے لیے بھی برا ثابت ہوا۔ بلاشبہ افغانستان میں امن وامان کا قیام کسی طور آساں نہیں، ایک طرف طالبان ہیں تو دوسری جانب ان کے وہ حریف ہیں جو سالوں سے نہیں دہائیوں سے مخاصمت رکھتے چلے آرہے ، ستم ظریفی یہ ہے کہ خود افغان تاریخ اس بات کی کھلی گواہی دے رہی کہ اب تک کابل پر وہی برسر اقتدار آنے کا حقدار ٹھرا جو سب سے طاقتور کہلایا۔
اب تک کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ اقتدار کے کھیل میں افغانوں کی مجموعی بصیرت پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ، روس کے نکل جانے کے بعد افغان دھڑوں کے مابین خانہ جنگی فریقین کی اس روش پر مہرتصدیق ثبت کرگی کہ ان کے ہاں بات چیت کے زریعہ تنازعات حل کی روایت مستحکم نہیں، خود طالبان کا ظہور خود اس بات کی گواہی دے رہا کہ افغانستان میں طاقت کا قانون ہی فیصلہ کن حثیثت کا حامل ہے ۔
ایک خیال یہ ہے کہ شائد چین اور روس جیسے بااثر ممالک افغانستان میں امن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں وجہ یہ کہ طاقت کا توازن مغرب سے جنوبی ایشیاءکی جانب منتقل ہورہا چنانچہ معاشی اسحتکام کے لیے امن بنیادی ضرورت ہے ،مگر اس کے برعکس رائے یہ ہے کہ طالبان کبھی نہیں چاہیں گے کہ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی جیت مذاکرت کی میز پر ہار دی جائے ۔ ہفتہ اور اتوار کو طالبان نے جس طرح بڑے حملے کیے وہ بذات خود اس کا ثبوت ہیں کہ وہ طاقت سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کسی طور پر کھونا نہیں چاہیں گے۔
افغانستان میں مسلسل بے چینی جس ملک کے فائدے میں ہے وہ درحقیقت بھارت ہے ، نئی دہلی نہیں چاہے گا کہ طالبان کو اقتدار کے کیک کا بڑا حصہ ملے ، گذشتہ سالوں میں مودی سرکار نے اشرف غنی حکومت کو مستحکم بنانے کے لیے کروڈوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ، واقفان حال کے بعقول بی جے پی حکومت کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ امریکہ اور طالبان میںکبھی بات چیت یوں کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ مودی سرکار باخوبی جانتی ہے کہ افغانستان میں طالبان اقتدار سے سب سے زیادہ فائدہ چین اور پاکستان کو ہوگا چنانچہ قوی امکان ہے کہ نئی دہلی طالبان کے مخالفین کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دے ڈالے´، درحقیقت ایسا ہونا افغانستان میں پھر خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گے ۔
بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان کے کمبل سے جان چھڑانے کی جلدی میں ہے لہذا واشنگٹن دانستہ وغیر دانستہ طور پر ایسے طویل المیاد انتظامات میں دلچیپسی نہیں دیکھا رہا جس کی حقیقت میں ضرورت ہے ، یہی سبب ہے کہ افغانستان بارے امید و ناامیدی دونوں اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں جن کا فیصلہ ہونے میں شائد اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔ بعقول شاعر
دیکھے، اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

Scroll To Top