رافیل طیارے، بنے مودی کے لئے دن کے تارے

  • نواز مودی یاری، ٹھگی اور نوسر بازی چھپانے کے یکساں ہتھکنڈے
  • بھارتی مقتدر بد معاشیہ، برُے دنوں کے شکنجے میں
  • 10ارب ڈالر کے مسودے میں 20کروڑ ڈالر اینٹھ لئے گئے
  • مودی نواز امیانی برصغیر میں بدی کی تکون
  • پلوامہ ڈرامہ اور پاکستان پر حملہ، معاشی جرائم سے توجہ ہٹانے کا حربہ
  • نون لیگ، بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل ایک ہی راہ کے راہی
  • رافیل طیاروں کی خریداری، ریکارڈ کانگران سکیورٹی انسپکٹر پر کاش سنگھ پر اسرار طور پر ہلاک!

یاری ہو تو ایسی
نواز مودی یاری بلکہ گٹھ جوڑ کا ایک نیا رنگ اور انگ سنگ،
جاتی عمرہ کے نا شریفون کی کرپشن کے گرد جونہی احتسابی شکنجہ تنگ اور سخت ہونے لگتا ہے تو وائٹ کا کرائم کے رسیا اور شیدا متعلقہ دستاویزی ثبوتوں اور شہادتوں کے اتلاف کے لئے چوری اور آتشزنی کے ہتھیاروں کا سہارا لینے لگتے ہیں۔
پاکستان میں نواز ناشریف اور زرداری گینگ تو ایک عرصے سے اس وطیرے پر عمل پیرا ہیں، تا ہم اب بھارت سے بھی انہی کے مماثل وارداتوں کی خبریں آنے لگی ہے۔
رافیل طیاروں کے حوالے سے مودی پر 20کروڑ ڈالر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ البتہ پچھلے 5سال سے اقتدار کے جاہ ہشم اور سیاسی سطح پر ہندو توا کی شدت پسندی کے سبب سے اس کے جرائم اور بالخصوص کرپشن جیسی سنگین وارداتوں کی بابت متعلقہ ادارے چشم پوشی کا مظاہرہ کرتے رہے 26فروری کو پاکستان کے خلاف سنگین ریاستی دہشتگردی کے تناظر میں تو مودی گینگ مطمئن ہو گیا تھا کہ اب پاکستان دشمنی کے ماحول میں کوئی مائی کا لعل اس کی کرپشن بابت سوال اٹھانے کی جرا¿ت تک نہیں کریگا۔
مگر کیا کیجئے کہ برے دن اکیلئے نہیں آتے اپنے انڈے بچے ساتھ لاتے ہیں۔ مودی نے اقتدار کے گھنڈ میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ اور مارے گھمنڈکے پاکستان میں تباہی کے لمبے چوڑے دعوے داغ دیئے۔ مگر جب خود بھارتی ذرائع ابلاغ اور آزاد عسکری ذرائع اور مغربی ماہرین فلکیات و عسکری سائنسدانوں نے تحقیق و تفتیش کے ذریعے ثابت کر دیا کہ مودی سرکار کے تمام تر دعوے سفید جھوٹ کا پلندہ ہیں تو پھر اس کے ہاتھ پر پھولنے لگے۔اس کیفیت سے نجات کے لئے مودی نے اپنی کابینہ کی مخصوص سکیورتی کمیٹی ، کچن کیبنٹ کے ارکان اور بطور خاص بی جے پی ، آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے تھابوں کے شورے سے پلوامہ ڈرامہ ، رافیل طیاروں اور اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں کئے گئے خریداری کے تمام میگا سودوں کے ان حصوں کو نذر آتش کر دیا جائے یا چوری وغیرہ کی وارداتوں کے ذریعے انہیں غتر بود کر دیا جائے ۔ چنانچہ اس تخریب کارانہ فیصلے پر کچھ روز بعد ہی عمل شروع کر دیا گیا۔
اولین ترجیح کے طور پر پلوامہ ڈرامہ اور رافیل طیاروں کی خریداری کے سلسلے میں 20کروڑ ڈالر کی کرپشن کے ثبوت اور شہادتیں ضائع کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔
اس ضمن میں جو خفیہ وارداتیں وضع کی گئیں ان کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔
بھارتی کابینہ کی خصوصی سکیورٹی کمیٹی کے اس خفیہ اجلاس کی کارروائی کی تمام جزائیات جلادی جائیں یا انہیں غائب کر دیا جائے ۔ جس میں پلوامہ ڈرامہ تیار کیا گیا تھا۔ اس سکیم کے بڑے حصوں پر عمل کی اطلاعات ہیں۔
14فروری پلوامہ ڈرامہ کے دن گردونواح کے تمام علاقوں میں متعین سکیورٹی اہلکاروں کے تبادلے جموں تحصیل سے دور علاقوں میں کر دیا جائے۔
اگر کوئی اہلکار مشکوک کارروائیوں میں ملوث پایا جائے تو اسے فی الفور گرفتار کر لیا جائے۔
پلوامہ ڈرامہ بابت اپنی عسکری کامیابیوں کے جھوتے دعوو¿ں پر کی جانے والی مقامی و بین الاقوامی سطح پر جاری مخالفانہ سرگرمیوں کے توڑ کے لئے مہنگی فیسوں کی ادائیگی پر غیر ملکی لا بسٹ فروری کے ساتھ معاہدات کر لئے جائیں۔ ان اقدامات پر بھی عمل شروع ہو جانے کی اطلاعات ہیں۔
اور اب آتے ہیں رافیل لڑاکا طیارون کے میگا سکینڈل کی طرف۔
بھارت کے دفاعی ماہرین ایک عرصے سے اپنی حکومت پر دباو¿ ڈالتے آرہے تھے کہ پاکستان کے ایف16لڑاکا طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت کو فرانس سے جدید ترین جنگی جہاز رافیل خرید لینے چاہئے جو وہاں کی ڈیزالٹ ایوی ایشن فرم تیار کرتی ہے، اسی دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کے گرگوں نے مودی کو رام کیا کہ اپنی حکومت کے تسلسل کے لئے آئندہ بھاری فنڈز درکار ہوں گے اس لئے رافیل طیاروں کا سودا ضرور کیا جائے۔ مودی کو یہ تجویز پرکشش لگی چنانچہ10اپریل 2015کو مودی اور اس وقت کے فرنچ صدر فرانکوس ہولاندے کے مابین10ارب ڈالر کے رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ طے پا گیا۔ ابتدا میں 12جہاز خریدنے کا ارادہ تھا مگر فرغ کمپنی نے اتنی بڑی لاٹ کی فرہامی سے معذرت کر لی چنانچہ 26جہازوں کی فراہمی پر رضا مندی ہوگی۔اس ضمن میں مودی کے دست راست انیل امبانی کی فرم ریلائنس ایوی ایشن کو بروکر کے طورپر شامل کیا گیا۔ کانگرسی قیادت اور آزاد صحافتی ذرائع کے مطابق اس سودے میں مودی کو20کروڑ ڈالر کی کمیشن ادا ہوئی۔ طیارے ابھی بھارت کو فراہم نہیں ہوئے مگر اس سودے پر لی گئی 20کروڑ ڈالر کمیشن کی بازگشت سپریم کورٹ میں ضرور سنائی دے گئی۔ ادھر ملک کی سب سے بڑی عدالت میں کمیشن اور رشوت خوری کے اس میگا سکینڈل کی سماعت جاری تھی کہ ایک روز نئی ولی عہد میں سی جی او کا مپلیکس میں وزارت دفاع کے دفاتر میںواقع ایرفورس سیکشن میں آگ بھڑک اٹھی۔ باقی ریکارڈ تو محفوظ رہا البتہ 26رافیل لڑاکا طیاروں سے متعلقہ دستاویزات جل کر راکھ ہو گئیں اس واقعے کا ایک عینی شاہد سکیورٹی انسپکٹر پرکاش سنگھ بھی پراسرار طورپر مردہ پایا گیا ۔(جاری ہے)

Scroll To Top