طالبان کا کابل حکومت سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان تشویشناک قرار

  • جنگجوﺅں کا دعوی ہے کہ معاہدے کی شق یہ بھی ہے کہ امریکہ افغان حکومت کی حمایت نہیں کریگا
  • طے پا چکا کہ امریکہ طالبان پر حملے نہیں کریگا جبکہ طالبان امریکی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے
  • افغانستان میں دیرپا امن کی بنیاد نہ رکھی گئی تو خون خرابے کے ایک اور سلسلے کو نہیں روکا جاسکتا
  • تاریخ گواہ ہے کہ افغان دھڑے ثالثی کے بغیر محض مذاکرت سے بحران پر قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے

افغانستان میں قیام امن کے خواہشمند ہر ایک کے لیے یہ خبر تشویشناک ہے کہ طالبان امریکی فوج کے انخلاءکے بعد بھی کابل حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھیںگے ، ایک سینئر رہنما نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرت کامیاب ہونے کے بعد کابل حکومت کے ساتھ جنگ جاری رکھ کر طاقت حاصل کریں گے ، طالبان زرائع دعوی کررہے کہ امریکہ کساتھ معاہدے کی ایک شق یہ بھی ہے کہ وہ افغان حکومت کی حمایت نہیں کریگا “ ۔
امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان سال سے مذاکرتی عمل جاری ہے، اب علاقائی اور عالمی طاقتوں کی خواہش اور دباو کے نتیجے میں امریکہ طالبان بات چیت کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جارہا، پس پردہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ طالبان امریکہ سمیت سب ہی بااثر ممالک کو یقین دہانی کروا چکے کہ اقتدار ملنے کی صورت میں وہ القائدہ سمیت کسی دہشت گرد گروہ کو اپنی سرزمین استمال کرنے کی اجازت نہیں دیںگے ۔ باخبر سفارتی حلقوں کا دعوی ہے کہ فریقین میں اہم معاملات طے پاچکے ، مثلا اس کا فیصلہ کیا جاچکا کہ امریکہ طالبان پر فضائی حملے نہیں کریگا جبکہ جنجگو گروپ امریکی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
اگر یقین کرلیا جائے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ایسا معاہدہ طے پاتا ہے جس میں افغان حکومت ہی نہیں دیگر اہم گروہوں نظرانداز ہوتے ہیں تو پھر افغان سرزمین میں ایک بار پھر خانہ جنگی کے امکان کو مسترد کرنا مشکل ہوگا، ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ جب تخت کابل پر کوئی ایک گروپ براجمان ہوا تو دوسروں نے اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا ڈالا ، نائن الیون سے قبل طالبان حکومت اور شمالی اتحاد مسلسل حالت جنگ میں تھے، سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ محض اپنی جان چھڑانے کے لیے افغانستان میں دیرپا امن کی بنیاد نہیں رکھتا تو خون خرابے کے ایک اور سلسلہ کو ہرگز نہیں روکا جاسکتا۔اس پس منظر میں پاکستان ہی نہیں دیگر ہمسایہ ملکوں میں خدشات کا ابھرنا فطری امر ہے ، درحقیقت اس سچائی کو نہیں بھولنا چاہے کہ افغان دھڑے کسی ثالثی کے بغیر باہمی گفت وشنید کے زریعہ بحران پر قابو پانے کی اہلیت یا نیت ہی نہیں رکھتے ۔
2001 سے جاری جنگ کا اختیتام بین الاقوامی قوتوں سے کہیں بڑھ کر علاقائی ممالک کی خواہش ہے، وجہ یہ کہ چین اور روس ہی نہیں پاکستان اور ایران جیسے ممالک بھی نہیں چاہتے کہ افغان سرزمین پر جنگ وجدل کا بازار گرم رہے ، حقیقت ہے کہ علاقائی سطح پر عسکریت پسندی کے پھیلاو میں افغان لڑائی کا کردار راز نہیں، طالبان ، القائدہ اور داعش نے کئی ملکوںمیں اپنے خیال تشدد پسند گروپوں کی سرپرستی کا ”فریضہ “ سرانجام دیا۔ تحریک طالبان پاکستان اعلانیہ خود کو افغان طالبان کی توسیع قرار دیتی ہے چنانچہ خطے کے مسائل کا تقاضا ہے کہ لڑائی کی بجائے بات چیت کے زریعہ تنازعات حل کیے جائیں۔
ایک خیال یہ ہے کہ چین کبھی نہیں چاہے گا کہ افغان گروہ ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائیں، بجینگ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ پڑوسی میں لگی آگ سے لاتعلقی اختیار کرنا ہرگز عقل مندی نہیں۔ سی پیک کی شکل میں چینی منصوبے کے لیے بھی لازم ہے کہ جلد ازجلد افغان سرزمین پر امن کا سورج طلوع ہو، اب تک کہا جاسکتا ہے کہ بجینگ اقتصادی ترقی میں ہسمایہ ملکوں کو حصہ دینے پر یقین رکھتا چلا آرہا تاکہ علاقائی سطح پر تجارتی سرگرمیوں کا فروغ ممکن بنایا جاسکے ۔
خطے میں خرابی جس ملک کے مفاد میں ہے وہ بجا طور پر بھارت ہے، یہ راز نہیںکہ نئی دہلی کابل میں طالبان کو برسر اقتدار آتا نہیں دیکھنا چاہتا، مودی سرکار نے افغانستان میں لاکھوں نہیں کروڈ ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے جس کو محفوظ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ بی جے پی سرکار کے زیر اثر افراد یا گروہ مسقبل کی افغان حکومت میں نمایاں نظر آئیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ بھارت طالبان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے عملا پاکستان کی مشکلا ت میں اضافہ کرنے کے درپے ہے ، افغانستان میں مودی سرکار کی سرمایہ کاری کا ایک ہدف پاکستان کا اثر رسوخ کم کرنا تھا، کون نہیں جانتا کہ قابل زکر تعداد میں افغان عوام سمجھتے ہیںکہ ان کے ہاں بدامنی کے درپردہ پاکستان ہی کا کردار ہے ۔ طویل عرصہ تک امریکہ ، افغان حکومت اور بھارت واویلا کرتے رہے کہ طالبان جنگجو گروہوںکی سرحدی علاقوں میں محفوظ پناگاہیں ہیں جہاں پاکستان ان کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دے رہا، افسوس کہ اسلام آباد کا موقف کبھی پذائری حاصل نہ کرسکا کہ افغان طالبان کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں، ضرب عضب سے قبل امریکی ڈرون طیاروں کے زریعہ طالبان اور حقانی گروپ کے لوگوں کو نشانہ بناکر پیغام دیا گیا کہ لڑاکا گروپ پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ خود اسلام آباد کا ماضی کے فاٹا پر کسی قسم کا کوئی کنڑول نہ تھا۔ حالیہ دنوں میںجہاں افغانستان میں تیزی سے پیش رفت ہورہی وہی تحریک آزادی کشمیر نے پاکستان کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے چنانچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کابل میں کسی ممکنہ بحران کے اثرات سے پاکستان کب اور کیسے بچ پائے گا۔ افغانستان بارے پاکستان کی حالت حبیب جالب کے شعر میں یوں بیان کی جاسکتی ہے ،
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

Scroll To Top