مسئلہ کشمیر پرپاکستان کا موقف اصولی ہے ، تمام آپشنز زیر غور ہیں ، پاکستان

  • مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ پر مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جارہی ہے تاہم یہ معاملہ بھارت کے راضی ہونے پر ہی آگے بڑھے گا
  • ہمسائے ملک میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمدفیصل

اسلام آباد (این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے ،مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام آپشنز زیر غور ہیں،معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے پر وزارت قانون اور وزار ت خارجہ میں کوئی اختلا ف نہیں ہے ،بھارت تاحیات مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ نہیں رکھ سکتا، مقبوضہ کشمیر کے تنازع پر مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جارہی ہے تاہم یہ معاملہ بھارت کے راضی ہونے پر ہی آگے بڑھے گا،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر توجہ دے،پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ہمسائے ملک میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ہفتہ وار بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف اصولی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔کشمیر کی حالیہ صورتحال پر پاکستانی سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصب سے رابطے کیے اور عالمی رہنماو¿ں سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بند کروانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ہے لیکن مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) لے جانے پر وزارت قانون اور وزارت خارجہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر اور علاقائی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ دہرایا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر توجہ دے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں ایک ہفتے کے دوران کریک ڈاو¿ن اور سرچ آپریشنز میں 4 کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ وادی میں مزید اموات کے خدشات ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور بلیک آو¿ٹ کا جمعرات کو19واں روز تھا جبکہ اس دوران بھارتی افواج کے ہاتھوں سیکڑوں کشمیری زخمی ہوچکے ہیں اور 9 لاکھ سے زائد فوجی وادی میں موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکام کی جانب سے کشمیر میں لگائے جانے والے کرفیو کی وجہ سے وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے 20 اگست کو ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس سے ایک شہری شہید ہوا۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت تاحیات مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ نہیں رکھ سکتا۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے تنازع پر مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جارہی ہے تاہم یہ معاملہ بھارت کے راضی ہونے پر ہی آگے بڑھے گا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کرتار پور راہداری جلد کھولنے کا خواہشمند ہے۔پاک بھارت سرحد کھلے ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘پاکستان میں موجود بھارتی شہری واہگہ سے واپس جاسکتے ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانیوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسرے ہمسایہ ملک افغانستان میں ہونے والے حالیہ واقعات پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان میں داعش کی موجودگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس تنظیم کا کوئی منظم وجود ہے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر امریکی پابندی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت نے 20 اگست کو ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی جس سے ایک شہری شہید ہوا، بھارت جارحیت سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کرتارپور راہداری وقت پر کھل جائے، بھارت مانے گا تو بات آگے بڑھے گی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں ایک بھی پاکستانی پھنسا ہوا نہیں اور پاکستان میں موجود بھارتی شہری واہگہ سرحد سے واپس جاسکتے ہیں۔

Scroll To Top