(صدیوں پرانی دشمنی (حصہ دوم

 

صدیوں پرانی دشمنی
(حصہ دوم1999ءمیں نیوکون تحریک کی سرکردہ شخصیات کا ایک خفیہ اجلاس ہوا تھا جس کا ذکر ایک فرانسیسی مصنف تھائری میسین نے اپنی تصنیف ”9/11ایک عظیم جھوٹ“ میں کیا ہے۔اس اجلاس میں تین بڑی اہم تقاریر کی گئیں۔ ایک رچرڈ سٹیل کی ` دوسری پال وولفووٹز کی` اور تیسری ڈک چینی کی۔ ان تقاریر کا لب لباب یہ تھا کہ اگر بین الاقوامی نقشے پر مغربی تہذیب کے سب سے بڑے دشمن اسلام کی پیش قدمی نہ روکی گئی اور وقت ضائع کئے بغیرPolitical Islam کو لگامیں نہ ڈالی گئیں تو وہ دور زیادہ دور نہیں جب ہمیں اس فتنے کوکچلنے کے لئے تیسری جنگ عظیم لڑنی پڑے گی۔ اس اجلاس میں جو کچھ کہا گیا اس پر عملدرآمدنائن الیون کے ذریعے کیا گیا۔ اس سازش یا منصوبے کی تکمیل امریکہ کے نئے صدر جارج بش کی عملی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ڈک چینی کے لئے جارج بش کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔
اس منصوبے کا ” مرکزی خیال “ یہ تھا کہ ” پولٹیکل اسلام “ کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ اس شدت اور مہارت کے ساتھ نتھی کردیاجائے کہ جب بھی بات اسلام کی ہو تو فوراً چشمِ تصور کے سامنے وحشت و بربریت کے مناظر گھومنے لگیں۔اس سلسلے میں سب سے اہم ذمہ داری رمسفیلڈ نے اٹھائی جو جار ج بش کے وزیر دفاع تھے۔ انہوں نے ” طالبان “ اور القاعدہ کی اصطلاحوں کو ” گالی “ کا درجہ دلانے کے لئے اپنے طالبان اور اپنی القاعدہ بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے انہیں کروڑوں ڈالروں کا فنڈ مہیا کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے عسکری خدمات مہیا کرنے والی پرائیویٹ امریکی تنظیم بلیک واٹر کی خدمات بھی بڑے پیمانے پر حاصل کیں ۔ پینٹاگون اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کے لئے دو ” وار تھیٹر “ تھے۔ ایک افغانستان اور ملحقہ پاکستانی علاقہ ۔ اور دوسرا عراق۔
اس دور میں ضمیروں ` وفاداریوں اور خدمات کی خریداری اور فروخت جتنے بڑے پیمانے پر ہوئی اس کا اندازہ مشہور امریکی مصنف باب ووڈورڑکی ان تصانیف کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے جو ” وارآن ٹیرر“ کے حوالے سے لکھی گئیں۔
آج کا پاکستان متذکر ہ منصوبے کی کامیاب پیش رفت کی منہ بولتی تصویر بناہوا ہے۔
جناب آصف علی زرداری کے دور میں اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے واشنگٹن اور لندن کو حسین حقانی اور رحمان ملک جیسے موثر اور نتائج آفرین آپریٹو(Operative)بھی میسر ہوگئے۔ اس ضمن میںان ہزاروں ” سفارت کاروں“ کو جاری کردہ ویزوں کا ذکر کرنا ہی کافی ہے جن کے لئے پاکستان نہایت خطرناک اور پراسرار سرگرمیوں کا اڈہ بن گیا۔ آج بھی نجانے کتنے ریمنڈڈیوس کس کس پلیٹ فارم سے کیسی کیسی خدمات کی ادائیگی میں مصروف ہوں گے !
اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کے نام غیر ملکی ہوں۔ ہمارے اپنے ملک میں اور ہماری اپنی صفوں میں ایسے ” خدمات فروش “ کثرت کے ساتھ موجود ہیں جن کے نام تو اسلامی ہیں لیکن جن کی تمام تر قوتیںاور صلاحیتیں اس ” موقف “ اور ” تاثر “ کو پھیلانے پر صرف ہورہی ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ریاست اور سیاست سے اسلام کا لفظ خارج کرنا لازمی ہے۔ یہی وہ ” خدمات فروش “ ہیں جو جانے پہچانے امریکی فرمان ) Do Moreکچھ بڑھ کر کرو(کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
میں یہاں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔ لیکن اس امریکی تنظیم کا ذکر ضرور کروں گا جس نے (Islam Bashing اسلام پر فکری یلغار)کے لئے خاصے بڑے قلمکاروں اور دانشوروں کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔
دو نام اس ضمن میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ایک تو سیم ہیرس جس نے اپنی مشہور تصنیف The End of Faithمیں لکھا تھا ۔
” دہشت گردی اسلام کی گھٹی میں شامل ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ تہذیب و تمدن کو خطرہ صرف اسلام کے انتہا پسندوں سے ہے۔ انتہا پسند تو بے نقاب ہوچکے ہیں۔ حقیقی خطرہ ان مسلمانوں سے ہے جنہوں نے اعتدال پسندی کا لبادہ اوڑھ رکھاہے۔ جس دین کی بنیادی کتاب دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہو اس میں اعتدال پسند کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟ مغرب کو اعتدال پسندی کے نعرے سے متاثرنہیں ہونا چاہئے۔ ہمارا اصل دشمن اسلام ہے۔“
دوسرا نام ملٹن ویورسٹ کا ہے جس نے اپنی تصنیف The Shadow of the Prophetمیں لکھا ہے۔
اگر اسلام کو مہم جوئی اور دہشت گردی سے روکنا ہے تو اس کی بنیادی کتاب قرآن کو نظرثانی کے عمل سے گزارنا ضروری ہوگا۔ دنیا کے امن کے لئے قرآن کو ” ری رائٹ “ کرنا ضروری ہے۔
کیا یہ حقیقت المناک نہیں کہ ہماری صفوں میں سیم ہیرس اور ملٹن ویورسٹ کے ہم خیال دندناتے پھررہے ہیں ؟
حقیقت یہی ہے کہ جس جنگ کا ہمیں سامنا ہے اس کے پس منظر میں صدیوں پرانی دشمنی کا رفرما ہے۔ ہمارے مشرق میں بھارت اور مغرب میں مغرب واقع ہے!
(اشاعتِ مکّرر)

Scroll To Top