حکومت کو خارجہ محاذ پر محترک ہونا ہوگا

ایسے میں جب پاکستان میں جاری سیاسی صورت حال پر ملکی پرنٹ والیکڑانک میڈیا کی پوری توجہ مبذول تھی پڑوسی ملک بھارت کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کرنے پر کسی صورت باز نہ آیا۔ حالیہ چند دنوں میں بھارتی گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد پاکستانی جان بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ اس دوران پاک فوج اور ریجنرز کی جانب سے بھارتی کاروائیوں کو منہ توڈ جواب دینے کا سلسلہ جاری رہا ۔ اطلاعات کے مطابق اب تک کئی بھارتی چیک پوسٹوں کو تباہ کیا جاچکا ہے۔ بھارتی اشتعال انگیزی کے جواب میں حالیہ دنوںمیں تین بار بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر کی خلاف وزری پر احتجاج بھی ریکارڈکرایا گیا۔ ادھر مقبوضہ وادی میں بھی صورت حال کسی طور پر تسلی بخش نہیں۔ بھارت نے کمشیر میں سکولوں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔سکولوں کے بند کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وادی میں جولائی سے لے کر اب تک 30 سکولوں کو نذر آتش کیا جانا ہے مگر اس گھناﺅنے جرم کے نتیجے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ادھر پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے 8 افسران کی را اور بھارتی آئی بی کے خفیہ ایجنٹس ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے رابطہ تھا جس کے سبب وہ ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت کرنے میںملوث تھے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں تخریب کاری کارروائیوں کو بڑھانے کے لیے دہشت گردوں کی مدد کررہا بلکہ اپنے سفارتی عملے کو بھی مجرمانہ کارروائیوں کے لیے استمال کرنے میں مصروف ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ اداروں کے اہکار حکومت کو نقصان پہنچانے ،فرقہ واریت پھیلانے اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میںملوث پائے گے۔“
بلاشبہ وطن عزیز کے حالات خراب کرنے میں بھارت کا کردار کئی بار کھلا کر سامنے آچکا مگر افسوس اس پر ہے کہ پڑوسی ملک کو پاکستان سے ایسے افراد باآسانی مل جاتے ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر قومی مفادات کے لیے استعمال ہونے میں تاخیر نہیں کرتے۔مثلا کراچی میں ایم کیوایم بانی اعلانیہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ساتھ اپنے روابط کا اعتراف کرتے ہیں۔ سندھ میں لسانی بنیادوں پر کئی دہائیوں تک جو قتل وغارت گری ہوتی رہی اس میں برطانوی شہریت کا حامل ایک شخص کا کردار نمایاںرہا۔ سات سمندر پار موجود ایم کیوایم بانی نے تعصب کی سیاست کی اور کراچی کو تقسیم درتقسیم کرنے کا عمل جاری رکھا۔ ستم ظریفی یہ کہ ہر دور کے حکمران نے الطاف حسین کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس کے سیاہ کارناموں سے چشم پوشی برتی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ آج پاکستان بارے اعلانیہ ہرزہ سرائی کرتا پھر رہا ۔ ایم کیوایم کے کارکنوں کی بھارت میں عسکری تربیت ہونا ثابت ہوچکا۔ جنوبی افریقہ ، افغانستان ، لندن اور ہانگ کانگ کے راستہ ایم کیوایم کے کارکنوں کو را تربیت فراہم کرکے شہر کراچی میں بدامنی پھیلانے کا ٹاسک دیتی ہے ۔ کہنے کو بانی ایم کیوایم نے پاکستان دشمنی میں ساری سرحدیں عبور کرلیں مگر ہمارے ذمہ داروں نے اب تک سرکاری طور پر الطاف حسین کو غدار قرار نہیں دیا گیا۔
افسوس کہ بھارت میں ایسی لابی گذشتہ ستر سال سے متحرک ہے جو پاکستان دشمنی میں بڑی حد تک اندھی ہوچکی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نفرت کے بیوپاریوں کا وہ سیاسی گروہ ہے جو پاکستان ، اسلام اور مسلمان دشمنی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ دفتر خارجہ کا یہ کہنا قابل فہم ہے کہ کالعدم تحریک طالبان اور” را“ کے درمیان موثر روابط موجود ہیں جس کے سبب ملک کی سیکورٹی فورسز پر ایسے ہولناک حملے ہوچکے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اگرچہ یہ گٹھ جوڈ سامنے آچکا مگر اس کے خاتمے کے لیے تاحال بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں ایسے مرد وخواتین موجود ہیں جو مختلف حیلے بہانوں سے ملک کے دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کی مہم میںپیش پیش ہیں۔ چنانچہ ماضی کے مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر نت نئے مفروضہ پیش کرکے سادہ لوح پاکستانیوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان دشمنی پر مبنی کسی بھی منصوبہ کا گہرائی میں جاکر جائزہ لیتے ہی یہ سچائی پوری طرح نقاب ہو جاتی ہے کہ اس کے پیچھے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کا روایتی حریف ہی ملوث ہے۔
یہ اطمینان ہے کہ دفتر خارجہ نے بھارتی ہائی کمیشن میں موجود ان عناصر کو بے نقاب کیا جو کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے میںملوث پائے گئے۔ ایک طرف جہاں ملکی دفاعی ادارے اس کارنامے پر خراج تحسین کے مستحق ہیں تو وہی اب یہ منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجود شوائد کی بنا پر عالمی برادری کے سامنے مقدمہ پیش کرے کہ کیسے بھارت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے متحرک ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا یہ مطالبہ غلط نہیں کہ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی میں فوری طور پر اصلاحات لانا ہونگی ۔ وزیرخارجہ کا منصب حکمران جماعت کسی موزوں شخص کے سپرد کرتے ہوئے بدلی ہوئی علاقائی اور عالمی صورت حال کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دینا ہونگی ۔ حیرت انگیز طور پر حکمران جماعت تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود خارجہ محاذ پر درکار توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ناکامیوںکا بوجھ دوسروں کے سر لادنے کی بجائے پی ایم ایل این کو آگے بڑھ کر اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرنا ہونگی۔

Scroll To Top