دفتر خارجہ: مسئلہ کشمیرانسانی حقوق کونسل اور او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اٹھانے کا فیصلہ

  • مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے، ہر گھر کے سامنے ایک فوجی کھڑا ہے
  • بھارت معاملے کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کررہاہے اس کےلئے پلوامہ 2 کرنا چاہ رہاہے،ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل

اسلام آباد(این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں سینیٹ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے، ہر گھر کے سامنے ایک فوجی کھڑا ہے، بھارتی فوج نے 4 ہزار سے زائد لوگوں کو جیلوں میں منتقل کردیا ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا ہمارے لئے حیران کن نہیں تھا۔ بھارت معاملے کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کررہاہے اس کےلئے پلوامہ دو کرنا چاہ رہاہے، لائن آف کنٹرول پر حالات بہت کشیدہ ہیں ، روزانہ فائرنگ کی جارہی ہے ہمارے کچھ جوان شہید ہوئے، پاک فوج نے بھی بھرپور جواب دیا ہے کئی بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی روشنی میں بھارت سے سفارتی تعلقات محدود کیے۔ انسانی حقوق کونسل اور او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں معاملہ اٹھایا جائے گا۔پاک بھارت حالیہ صورت حال کے سندھ طاس معاہدے پر پڑنے سے اثرات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دفتر خارجہ کے دائرہ کار میں نہیں اسے ارسا دیکھ رہا ہے، بھارت نے ستلج میں پانی چھوڑدیا ہے، ٹیکنیکل معاملات کو دیکھ رہے ہیں، اس معاملے پر اجلاس بلایا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے۔

Scroll To Top