کشمیر اور افغان پالیسی میں جنرل باجوہ کا کردار ڈھکا چھپا نہیں

  • ایسے میں جب خارجہ محاذ پر معاملات نازک موڑ پر ہیں عسکری قیادت کی تبدیلی بہتر نتائج نہ دیتی
  • طالبان کو مذاکرت پر لانا پاکستان کی ایسی کامیابی ہے جس کا واشنگٹن میں برملا اعتراف کیا جارہا
  • سپہ سالار کو مذید تین سال دینے کے معاملہ پر سیاسی و سماجی حلقوں کا خیر مقدم کرنا بلاوجہ نہیں
  • ناممکن نہیں کہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کو دشمن قوتیں پروپیگنڈے کے لیے استعمال کریں

 

وزیراعظم عمران خان کا جنرل قمر جاوید باجوہ کو مذید تین سال کے لیے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے میںتوسیع دنیا سمجھ میں آنے والی بات ہے ، ایسے میں جب پاکستان افغانستان اور کشمیر جیسے مماملات میں نازک موڈ پر ہے تو عسکری قیادت میں تبدیلی شائد بہتر نتائج نہ دے پاتی ۔ معاملہ یہ نہیںکہ مسلح افواج میں اعلی ترین عہدوں پر فائز دیگر صلاحیت یا اہلیت کے اعتبار کسی طور پر کم ہیںمسلہ یہ ہے کہ جنرل قمر باجوہ تین سالوں سے اندورنی اور بیرونی محاذ پر اہم معاملات جس طرح آگے بڑھا رہے یہ دراصل ان ہی کی آگہی اور تجربہ کا مرہون منت ہے ۔ اب پاکستان ایک طرف مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے پوری قوت سے میدان عمل میں آچکا تو دوسری طرف افغانستان میں دیرپا امن اس کی ترجیح اول ہے ، اسلام آباد نے امریکہ اور افغان قیادت کو دو ٹوک انداز میں پیغام دے چکا کہ تخت کابل کے لیے کوئی بھی اس کا پسندیدہ نہیں بلکہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت کا قیام عمل میں آئے جس میں سب ہی سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی موجود ہو۔ طالبان کو مذاکرت کی میز پر لانا پاکستان کی ایسی کامیابی ہے جس کا اعتراف واشنگٹن میں برملا کیا جارہا ، درحقیقت نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک اسلام آباد کا موقف یہی رہا کہ مسائل بات چیت کے زریعہ حل کیے جائیں، کہا جاسکتا ہے کہ اگر ورلڈ ٹریڈ سنیٹر میں حملے کے بعد واشنگٹن اور طالبان حکومت مذاکرت کی راہ اختیار کرتے تو آج افغانستان ہی نہیں خطے کی سیاست بھی مختلف ہوتی۔ یہ کھلا راز ہے کہ امریکہ اور طالبان میں بات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے ہماری عسکری قیادت پوری طرح متحرک ہے، ادھر یہ بھی سچ ہے کہ مسلہ کشمیر کو خارجہ پالیسی کا محور ومرکز بنانے کے درپردہ جنرل قمر جاوید کا کردار نمایاں ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ وادی میں مودی کے ظلم وستم کے ردعمل میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھل کر جس طرح تحریک آزادی کی حمایت کی وہ بھی ریکارڈ پر ہے۔
کشمیر میں مودی کی نئی پالیسی نے پاکستان اور بھارت ہی نہیں خطے کے امن کو بھی داو پر لگادیا۔ پاکستان کے لیے دیرینہ تنازعہ زندگی اور موت کی حثیثت رکھتا ہے ، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں بہنے والے بشیتر دریاوں کا پانی جنت نظیر ہی سے آتا ہے ، وادی کا جعغرافیائی محل وقوع خود اس کی گواہی دے رہا کہ وادی کا قدرتی الحاق پاکستان سے ہی بنتا تھا ، الحاق پاکستان کے لیے کشمیریوں کی طویل جدوجہد کا سیاسی و اخلاقی تقاضا ہے کہ ملک کا ہر عام وخاص تحریک آزادی میں مخلصانہ کردار ادا کرے۔ سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان کی حد تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی دہلی سے تصادم تو دور محاذآرائی کا بھی خواہشمند نہیں، ملکی معیشت کی زبوں حالی اسلام آباد کے لیے بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڈا البتہ اگر بھارتی سرکار پھر کسی جارحیت کی مرتکب ہوئی تو پاکستان کے پاس بھرپور دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
یہی وہ زمینی حقائق ہیں جن کی بدولت جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت میں توسیع کامختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔ باشعور پاکستانی ایک طرف یہ امید کررہے کہ وطن عزیز اندرونی وبیرونی محاذ پر درپیش چیلنجز سے کامیابی سے سرخرو ہوگا تو وہی پڑوس میں چانکیہ کے پیروکار روایتی حریف کی کسی نئی متوقع سازش سے بھی خوف ذدہ ہیں۔ اب ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس بار جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع میرٹ کی بنیاد پر ہوئی۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیںہونی چاہے کہ داخلہ یا خارجہ محاذ پر تمام چیلنجز سے کامیابی سے اسی وقت نمٹا جاسکتاہے جب اندرونی استحکام موجود ہو۔ سیاسی اور مذہبی قیادت کی زمہ داری ہے کہ وہ صرف اور صرف قومی کردار ادا کرے، دشمن کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں، مودی سرکار جس انداز میں کشمیر میں پھنس چکی اس سے نکلنے کا راستہ آساں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باخبر حلقے تو یہاں تک دعوی کررہے کہ اگر چند ہفتے مقبوضہ کشمیر میں حالات قابو میں نہیں آئے تو بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل کی منسوخی کا حکم کالعدم قرار دے سکتی ہے،یہ خوش فہمی میں کسی کو نہیں ہونی چاہے کہ نئی دہلی سرکار اور بھارتی عدالت عظمی ایک دوسرے کے خلاف جاسکتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کا مسلہ کشمیر کے تناظر میں چین اور ترک صدر کو خط اپوزیشن کے تعمیری کردار کے طور پر پیش کیا جارہا، آئندہ بھی یہ امید رکھنی چاہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اندرونی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کے لیے آگے بڑھیں گی۔ چند روز قبل کشمیر پر پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، دراصل دنیا کو تواتر سے یہ پیغام جانا چاہے کہ پاکستانی قیادت ملکی مفاد کے لیے یک جان ہے ، اب بطور قوم چوکنا رہنا ہوگا، ایسا ہونا بعیدازقیاس نہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں دی جانے والی توسیع کو ملک دشمن قوتیں قومی ادارے کی خلاف پروپیگنڈا کے لیے استمال کریں ، سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ نامکمنات می سے نہیں کہ کسی مخصوص معاملہ کو اس خاص انداز میں عوام کی سامنے پیش کیا جائے جس سے عملا ان ہی کا نقصان کرنا مقصود ہو۔

Scroll To Top