بدخواہ میرے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں 04-01-2010

کرپشن انگریزی کا لفظ ہے۔ اور اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہے کہ اردو میں اس کا نعم البدل کم ازکم میں تو آج تک تلاش نہیں کرسکا۔بدعنوانی ایک معقول اصطلاح ہے لیکن یہ کرپشن کا صرف ایک پہلو ہے۔ رشوت ستانی بھی ایک مقبول اصطلاح ہے لیکن اس سے بھی کرپشن کے صرف ایک پہلو کا احاطہ ہوتا ہے۔ اگر ان دونوں اصطلاحوں کو ملا دیا جائے اوردونوں کے مرکب میں بدکرداری `بے ضمیری اور بے حسی مناسب مقدار میں شامل کردی جائے تو شاید ” کرپشن “ کی ایک اصطلاح میں پوشیدہ ” بحربے کراں“ جیسا مفہوم سمجھ میں آسکے۔
آپ سوچیں کہ اگر آپ کی قیادت بدعنوانی کو ایک ” معمول “ ` رشوت کوایک ” حق“ اور بدکرداری کو ایک ’ ’ فطری حقیقت“ سمجھتی ہواور بے ضمیری اور بے حسی کے بارے میں اس کا موقف یہ ہو کہ اس طرح کی قدریں زمینی حقائق کی نفی کرتی ہیں ` تو آپ کا فکری ردعمل کیا ہوگا۔؟
ہمارے اکابرین میں وافر تعداد ایسے ” دلیروں“ کی یقینا موجود ہے جن پر ” حدود“ کا اطلاق کیاجائے اور جن کی ” نجی زندگی“ آپ کی نظروں کے سامنے آجائے تو آپ ” قوم عاد“ یا ” قوم ثمود“ یا ” قوم لوط“ کویاد کرکے لرزہ براندام ہوئے بغیر نہ رہیں۔
لیکن اس ” ضمن“ میں روشنی کا پہلو یہ ہے کہ ہنوز بدی کو بدی ` برائی کو برائی اور کرپشن کو کرپشن قرار دینے والے لوگوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی کمی نہیں۔
کرپشن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کرپشن کبھی نہیں سمجھتی۔ وہ ببانگ دہل یہ کہنے کی ” ہمت“ رکھتی ہے کہ بدخواہ میرے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

Scroll To Top