بھارت کنٹرول لائن پر اشتعا ل انگیزی کےساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

  • بھارت نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ،بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ ،لداخ ڈیم کے بھی 3 اسپل ویز کھول دیئے ،سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا الرٹ جاری
  • مودی سرکار نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ، ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت،بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر

اسلام آباد(الاخبار نیوز) بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاو¿ں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاو¿ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔فورکاسٹنگ ڈویڑن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاو¿ بڑھنے کا امکان ہے۔گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے ا?نے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیث سے متعلق آرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا اور اپنے اقدام کے باعث مقبوضہ وادی میں پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر وہاں ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری تعینات کر کے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

Scroll To Top