سی پیک منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل اولین ترجیح ہے،عمران خان

  • مقاصد کے حصول کیلئے سی پیک اتھارٹی کا قیام انتہائی موثر ثابت ہوگا، راہداری کی تکمیل سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ مستفید ہوگا
  • پورٹ قاسم کول فائرڈ پاور پلانٹ، گوادر پاور پلانٹ، کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ، حبکو تھر کول پاور پراجیکٹ ،تھر کول پاور پراجیکٹ و دیگر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ تعاون و اشتراک کے لئے سی پیک اتھارٹی کا قیام انتہائی موثر ثابت ہوگا، پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ مستفید ہوگا۔ اس امر کااظہار انھوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت جاری مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطح کے اجلاس میں کیااجلاس وزیرِ اعظم کی زیرصدارت ہوا۔ وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اجلاس کو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، پاکستان ٹیلیویژن کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے، اورنج لائن، ایم ایل -ون، گوادر پورٹ اور دیگر اہم منصوبوں پر اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ توانائی کے شعبے میں پورٹ قاسم کول فائرڈ پاور پلانٹ، گوادر پاور پلانٹ، کوہالہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ، حبکو تھر کول پاور پراجیکٹ اور تھر کول پاور پراجیکٹ جیسے اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ انفراسٹرکچر منصوبوں کے حوالے سے سکھر ملتان موٹروے، تھاہ کوٹ حویلیاں سیکشن، ایسٹ بے ایکسپریس وے، نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ایم ایل ون اور ڈی آئی خان ژوھب منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ملتان سکھر موٹروے (ایم فائیو) مکمل کی جا چکی ہے جسکا جلد باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے چین کے تعاون سے پاکستان ٹیلی ویژن کے نشریاتی نظام کو ڈیجیٹل سسٹم میں تبدیل کرنے کے حوالے سے پائلٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی ہے ۔ اجلاس میں ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ممالک کی ہمہ جہتی اور تزویراتی پارٹنرشپ کا عملی نمونہ ہے۔ وزیرِ اعظم پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں کی مقررہ ٹائم فریم میں تکمیل اولین ترجیح ہے۔ منصوبوں پر بلا تعطل پیش رفت کو یقینی بنانے کے لئے سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل اور متعلقہ محکموں کے مابین تعاون و اشتراک کے لئے سی پیک اتھارٹی کا قیام انتہائی موثر ثابت ہوگا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ مستفید ہوگا۔

Scroll To Top