ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کے قیام کیلئے اقدامات اُٹھا رہے ہیں،محمودخان

  • بے گھر اور بے سہارا افراد کیلئے ایبٹ آباد ، ڈی آئی خان اور سوات میں تین مزید پناہ گاہیں قائم ،بنوں ، مردان، کوہاٹ، قبائلی ضلع جنوبی وزیر ستان (وانا) اور ضلع خیبر میں بھی جلد قائم کردی جائیں گی
  • صوبے بھر کے سینئر سٹیزنز کو صوبے بھر میں اور خصوصی طور پر بی آر ٹی میں مفت سفری سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ریاست مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست قائم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھا رہی ہے جس کے تحت بے گھر اور بے سہارا افراد کیلئے ایبٹ آباد ، ڈی آئی خان اور سوات میں تین مزید پناہ گاہ قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ بنوں ، مردان، کوہاٹ، قبائلی ضلع جنوبی وزیر ستان (وانا) اور ضلع خیبر میں بھی بہت جلد پناہ گاہیں قائم کرلی جائیں گی ۔ سماجی فلاح و بہبود کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر بریفینگ دیتے ہوئے سیکرٹری سوشل ویلفیئر نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ اب تک 17914 بے گھر افراد کو پناگاہوں میں سہولیات فراہم کی جا چکی ہیںجبکہ سینئر سٹیزن کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جس کے تحت 2.8 ملین سینئر سٹیزنز میں سے 0.785 ملین سینئر سٹیزن کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ سینئر سٹیزن کارڈ کے ذریعے صوبے بھر کے سینئر سٹیزنز کو پورے صوبے میں اور خصوصی طور پر بی آر ٹی میں مفت سفری سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ بے گھراور نادار افراد کو پناہ گاہوں میں تمام ترسہولیات دی جائیں گی جو کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ریاست مدینہ کے قیام کی طرف ایک اہم کامیابی ہے۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کا رمضان کے مہینے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں احساس پروگرام کے تحت دسترخوان پروگرام شروع کیا تھا جس کے تحت صوبے بھر میں چار لاکھ غرباءکو سہولیات فراہم کی گئی تھی جبکہ آئندہ کے لئے بھی صوبے بھر میں احساس پروگرام کے تحت دسترخوان پروگراموں کا انعقاد ممکن بنایا جائیگاجہاں پر غرباءاور بے بس افراد کو طعام اور دیگر سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے سماجی بہبودکی یہ تمام کاوشیں ریاست مدینہ کے نظرئےے کی طرف عملی اقدامات ہےں۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت یتیموں اور مساکین بچوں کے لئے “زمونگ کور” کی طرز پر چار نئے ماڈل انسٹیٹیوٹ کا قیام جلد عمل میں لائے گی جس میں یتیم بچوں کی بہترین پرورش کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر چائلڈ پرو ٹیکشن یونٹس بنائے جائیں گے جہاں پر تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائی گی جبکہ قبائلی اضلاع تک تمام سماجی خدمات کے محکموں کی توسیع بھی ممکن بنائی جارہی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو صوبے میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی طرف سے مختلف اضلاع میں نئے پناہ گاہوں کے قیام جبکہ موجودہ پناہ گاہوں میں خدمات کی فراہمی ، احساس پروگرام کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں دسترخوان کا انعقاد اور آئندہ کے لائحہ عمل ، بزرگ شہریوں کے لئے سینئر سٹیزن کارڈز کی رجسٹریشن جس میں بزرگ شہریوں کو ہسپتالوں ، پارکس اور دیگر سفری سہولیات مفت فراہم کی جائے گی، پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ سینئر سٹیزنز کو کارڈز فراہم کئے جائیں گے جس کے تحت سینئر سٹیزن کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ صحت سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ اب تک ہپستالوں میں سینئر سٹیزن کیلئے قائم کی جانے والی خصوصی کاﺅنٹر کے ذریعے 6000 سینئر سٹیزنز سہولیات فراہم کی گئی ہیں یہ کاونٹرز صوبے کے مختلف بڑے ہسپتالوں میں خصوصی طور پر سینئر سٹیزن کیلئے قائم کئے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں باالعموم اور پشاور میں باالخصوص گداگروں ، یتیموں اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے ویگرنسی بل کی سمری منظوری کے لئے بھیج دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد صوبے میںنہ صرف پیشہ وارانہ گداگروں کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ مستحق افراد کو “زمونگ کور” میں منتقل کیا جائیگاجبکہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے 11 بحالی سنٹرز قائم کئے جا چکے ہیں جن میں بہت جلد ڈی ٹاکسیفکیشن کی سہولیات بھی میسر کر دی جائے گی۔ اسی طرح صوبے کے پانچ اضلاع میں خواتین کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کے لئے ماڈل سکل ڈویلپمنٹ سنٹرز قائم کئے جائیں گے جہاں پر خواتین کو ٹیکنیکل سکلز کی تعلیم دی جائے گی۔مزید بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع بشمول قبائلی اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کا قیام اور سماجی خدمات کی قبائلی اضلاع تک توسیع بھی جلد ممکن بنائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت سماجی خدمات کے تمام منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ صوبے کے بے بس اور بے گھر افراد کو معاشرے کے دیگر طبقے کے برابر لایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سماجی اقدامات سے ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ صو بے سے منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لئے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جلد عمل میں لایا جائیگاتاکہ منشیات جیسی لعنت کے جڑوں کو کاٹا جاسکے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ زکوٰة کے فنڈ کو معاشرے کے فلاح و بہبود اور حقیقی مستحقین کی ترقی کے لئے بہتر طریقے سے بروئے کار لایا جائیگاجبکہ اس کی صحیح سمت میں استعمال کے لئے محکمہ سوشل ویلفیئر طریقہ کار وضع کرے گی ۔

Scroll To Top