کشمیر کے حامی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند کیے جا رہے ہیں، میجر جنرل آصف غفور

  • اکاو¿نٹس کی مبینہ بندش کا معاملہ فیس بک اور ٹوئٹر صارفین کے سامنے اٹھایا ہے، سماجی رابطے کی ان بڑی ویب سائٹس کے ریجنل ہیڈکوارٹرز میں زیادہ تر بھارتی کام کرتے ہیں اور یہی بندش کی بڑی وجہ ہے
  • گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں پاکستانی صارفین نے جن اکاو¿نٹس سے پیغامات جاری کیے انہیں بند کردیا گیا، قومی انگریزی اخبار کے نمائندے کا اکاو¿نٹ اس وقت بلاک ہوا جب بھارتی وزیر دفاع کے ٹوئٹ پر رد عمل دیا

راولپنڈی(الاخبارنیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی حمایت میں بولنے والے اکاو¿نٹس کو بند کیا جارہا ہے’انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام نے ان اکاو¿نٹس کی مبینہ بندش کا معاملہ فیس بک اور ٹوئٹر صارفین کے سامنے اٹھادیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سماجی رابطے کی ان بڑی ویب سائٹس کے ریجنل ہیڈکوارٹرز میں زیادہ تر بھارتی کام کرتے ہیں اور یہی ان اکاو¿نٹس کی بندش کی بڑی وجہ ہے۔ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے پیغام میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے صارفین سے کہا کہ وہ بندش کے شکار اکاو¿نٹس کی معلومات اس ٹوئٹ کے جواب میں بھیجیں۔ خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹوئٹ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹوئٹر صارفین ویب سائٹ کے غیر منصفانہ فیصلوں پر سراپا احتجاج کرتے ہوئے #StopSuspendingPakistanis کو ٹاپ ٹرینڈ بنادیا۔مذکورہ ہیش ٹیگ کے ساتھ صارفین نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں پاکستانی صارفین نے جن اکاو¿نٹس سے پیغامات جاری کیے انہیں بند کردیا گیا۔پی ٹی اے کی تجویزرواں ہفتے کے ا?غاز میں ہی پاکستان کے انگریزی زبان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے نمائندے کا اکاو¿نٹ اس وقت بند کردیا گیا تھا جب انہوں نے بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا۔متعلقہ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق بھارتی حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہی یہ اعتراف کیا کہ وہ کشمیر کی حمایت میں بولنے والے اکاو¿نٹس کی بندش کے لیے متعلق ویب سائٹس پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔پوئینٹر انسٹیٹیوٹ کے مطابق فیس بک کے حقیقت جانچنے کے شراکت دار سب سے زیادہ بھارت میں ہی موجود ہیں جبکہ امریکا دوسرے نمبر پر ہے۔ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ شراکت داروں کی یہ تعداد بتاتی ہے کہ کہاں فیس بک کے سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ بھارت میں 25 کروڑ صارفین فیس بک استعمال کرتے ہیں۔فیس بک کے مطابق بھارت میں موجود حقیقت جانچنے والے اس کے شراکت داروں میں اے ایف پی انڈیا، بوم، فیکٹ کریسینڈو، فیکٹلی، انڈیا ٹوڈے فیکٹ چیک، نیوز موبائل فیکٹ چیک، دی کوئنٹ اور وشواس نیوز شامل ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں فیس بک کا فیکٹ چیکنگ شراکت دار صرف اے ایف پی پاکستان ہی ہے۔

Scroll To Top