سپریم کورٹ کا کردار فیصلہ کن بن گیا

سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس پر کمیشن بنانے ، ٹی او آرز طے کرنے اور عمران خان کے اظہار تشکر منانے پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمرالزمان کائرہ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدلیہ کس قانون کے تحت پانامہ لیکس کی تحقیقات کریگی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے قمرالزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی کے فیصلے سے مزید سوالات نے جنم لیا ہے کہ کیا کمیشن کے ٹی او آرز پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہوجائیگا۔ میں پی پی پی رہنما کا موقف تھا کہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ قانون کیا عدلیہ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک طاقتور کمیشن بنادے ۔ ادھر معروف قانون دان اور سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر نے مذکورہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیںہوا کہ سپریم کورٹ نے خود ٹی اوآرز بنائے ہوں۔ انھوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں اس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ پرتنقید کی جاسکتی ہے۔“
وطن عزیز کے بیشتر حلقوں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس پر کمیشن بنانے کا اعلان دراصل ملک میں جاری سیاسی محاذآرائی ختم کرنے کی کوشش ہے ۔ عدالت عظمی اس معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرکے پاکستان کے عام شہری کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ ملک کا نظام انصاف کسی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں۔ ادھر سپریم کورٹ کا درپیش تنازعہ کو حل کرنے کا عزم اپنی جگہ مگر سیاسی وقانونی حلقوں کی جانب سے جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ بھی بلاوجہ نہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ سپریم کورٹ اس اہم مقدمہ کی سماعت کے دوران جوں جوں آگے بڑھی گی سرکار کی حکمت عملی پوری طرح آشکار ہوگی۔ مثلا ایسا ہونا بعیدازقیاس نہیں کہ سرکار مختلف حیلے بہانوں سے اس اہم مقدمہ کی سماعت کو طول دے کر اپوزیشن اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشیش کی جائے۔ ہمیں کسی طور پر نہیں بھولنا چاہے کہ قبل ازیں سانحہ ماڈل ٹاون میں بنائے جانے والے کمیشن کی رپورٹ پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب پانامہ لیکس سپریم کورٹ میں آنا ایک بار پھر یہ امید پیدا کرگیا کہ ارض وطن سے بدعنوانی کے خاتمہ کی جاری تحریک اب بھی کسی طور پر کمزور نہیں پڑی۔ عدالت عظمی نے ان توقعات کو بڑھا دیا ہے کہ مستقبل قریب میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے ایسی قانون سازی خارج ازامکان نہیں جو طاقتور شخصیات کو من مانی کرنے سے روک ڈالے۔ اگر اس بات پر یقین کرلیا جائے کہ بدعنوانی اور گڈ گورنس کی عدم موجودگی کے باعث پاکستانیوں کی اکثریت کی مشکلات میں اضافہ ہورہا تو اس کا تدراک کیے بغیر بات نہیں بنے والی۔
وطن عزیز میں سیاست کا تجارت کی شکل میںر ہنا اب پاکستان کے باشعور شہریوں کو کسی طور پر گوارہ نہیں۔ خیبر تا کراچی عام پاکستانی ایک طرف اپنے حقوق بارے تیزی سے آگہی حاصل کررہا تو دوسری جانب وہ اس کے لیے بھی کوشاں ہے کہ جمہوریت کے نام پر ایسے افراد کسی طور پر مسلط نہ ہوں جو خود غرضی اور بے حسی میں اپنی مثال آپ ہوں۔
سارے منظر نامہ میں عمران خان کا کمال یہ ہے کہ اس نے ان جذبوں کو زبان دی جو کئی دہائیوں سے کہیں نہ کہیں موجود تھے مگر کھل کر کبھی سامنے نہ آئے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن، جمیت علماءاسلام ف اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی روایتی سیاسی قوتوں کا ووٹ بنک پی ٹی آئی چیئرمین نے جس طرح توڑا ہے وہ یقینا اپنی مثال آپ ہے ۔ پی ٹی آئی کے ووٹروں کا یہ دعوے غلط نہیں کہ تاحال عمران خان کسی مالی بدعنوانی میں ملوث نہیں ۔ پی ٹی آئی چیئرمین ملک کے اندار اور باہر وہ مال ودولت کے ایسے وسیع ذخائر نہیںرکھتا جو بشیتر سیاسی ومذہبی رہنماوں سے منسوب ہیں۔
کرپشن پاکستان کا نمبر ایک مسلہ اس لیے بن چکا کہ لاکھوں نہیں کروڑوں پاکستانی اس سے براہ راست متاثر ہورہے۔ سرکاری محکموں میں بدعنوانی کی بدولت حالات اس نہج کو پہنچ چکے کہ جائز وناجائز دونوں کاموں کے لیے رشوت دینا یا لینا معیوب نہیں رہا۔ سرکاری اداروں کی خراب کارکردگی بلاوجہ نہیں۔ اس کی وجہ دراصل وہ بدعنوان افسران اور اہلکار ہیں جو اپنے بڑوں کی سرپرستی میں عام شہریوں کو لوٹنے میں پوری طرح ملوث ہیں۔ یہ تجزیہ غلط نہیں کہ اگر قومی تاریخ میں کسی ایک بھی بڑی شخصیت کو بدعنوانی کے سبب نشان عبرت بنا دیا جاتا تو وہ آنے والے اس کے انجام سے خوف کھاتے۔ گزرے ماہ وسال کی مثالیںکیا دی جائیں پانامہ لیکس کی تازہ مثال سامنے ہے۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود نیب، ایف آئی اے، الیکشن کمیشن کی کارگزاری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
بظاہر قومی سیاست میں مال بنانا بیشتر سیاست دانوںکی ترجیح بن چکا۔ کروڑوں نہیں اربوں روپے کے اثاثہ رکھنے والے خاندانوں کے چشم وچراغ اگر سیاسی میدان میں متحرک ہیں تو اس کی وجہ عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ ہرگز نہیں۔ ہمارے وہ بڑے جو واقعتا اس ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں انھیں بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔سپریم کورٹ کا حالیہ اقدام خوش آئند ہے مگر اس اہم مقدمہ کا فیصلہ آنا باقی ہے جو یقینا کرپشن کے خلاف جاری مہم کی سمت کا تعین کرے گا۔ لازم ہے کہ اس اہم مقدمہ میں ملک کی سب ہی سیاسی جماعتیں عدالت عظمی کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ تاریخ میں ان کا نام بھی روشن حروف میں لکھا جائے۔

Scroll To Top