پاکستانی موقف کی تائید ’مسئلہ کشمیر یواین چارٹر ، سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق حل ہوگا‘

  • بند کمرہ اجلاس کے بعد پوزیشن واضح ، سیکرٹری جنرل کے بیان کا بھی حوالہ جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اقوام متحدہ کے مبصرین ایک لمبے عرصے سے متنازعہ علاقے میں موجود ہیں اور ایل او سی کی خلاف ورزیوں کو رپورٹ کرتے ہیں، یو این اعلامیہ
  • بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرزا مریکہ، روس اور برطانیہ نے بھی کشمیر معاملے پر اجلاس کے حوالے سے اوپن سیشن بلائے جانے کے چین کے مطالبے کی حمایت کی ، جبکہ ڈومنیک ریپبلک اور فرانس نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے اوپن سیشن کی مخالفت کی

نیو یارک (صباح نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے دعوﺅں کی نفی کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے حوالہ سے بیان جاری کر دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔ عالمی ادارے نے کہا ہے کہ کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادو ں کے مطابق حل ہو گا۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے 1972میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ دیا تھا ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پر امن طریقہ سے ہو گا۔ اقوام متحدہ کے مبصرین ایک لمبا عرصہ سے متنازعہ علاقہ میں موجود ہیں جو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا، بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی کشمیر کے معاملے پر اجلاس کے حوالے سے چین کی درخواست کی حمایت کر دی ہے۔ چین نے پاکستان کی ایما پر سلامتی کونسل میں درخواست دی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر اوپن سیشن بلایا جائے جس کی بھارت نے مخالفت کی تھی۔ اوپن سیشن بلانے کے لیے سلامتی کونسل کے اراکین کی حمایت حاصل کرنا ضروری تھا اورپی 5 میں سے تین ممالک نے چین کی حمایت کی ہے۔بھارت کے 3سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی کشمیر کے معاملے پر اجلاس کے حوالے سے چین کی درخواست کی حمایت کی ہے۔ امریکہ، روس اور برطانیہ نے چین کی حمایت کی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر اوپن سیشن بلایا جانا چاہیے جبکہ ڈومنیک ریپبلک اور فرانس نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے اوپن سیشن کی مخالفت کی ہے۔سلامتی کونسل کے 15اراکین ہیں جن میں سے 12اراکین نے اوپن سیشن کی حمایت کر دی ہے۔روس نے کہا ہے کہ معاملہ گمبھیر ہے اس لیے اوپن سیشن بلایا جائے۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں ہیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا گیا ہے اور حالیہ اجلاس ان قراردادوں کی توثیق تھا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میں قوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ پچاس سال میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دنیا کے اعلی ترین سفارتی فورم نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی 11 قراردادیں ہیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

Scroll To Top