بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی گھٹیا حرکت کر سکتا ہے،شاہ محمود قریشی

  • وزارت خارجہ میں کشمیر سیل قائم کرنے اور پاکستانی سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسکس قائم کرنے کا فیصلہ
  • ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہےں، مسئلہ کشمیر پر طویل سفارتی لڑائی لڑنا ہوگی ، ہر آپشن زیر غور رہے گا، وزیرخارجہ


اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان نے مسئلہ کشمیر میں بھر پور پیش رفت کے لیے وزارت خارجہ سمیت دنیا کے اہم اور کلیدی ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں کشمیر سیل و کشمیر ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کر دیا ۔پاکستان نے بھارت قیادت اور فوجی کمانڈروں کے بیانات اور الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دنیا کی توجہ مبذول کروائی ہے کہ بھارت کوئی بھی مہم جوئی کر سکتا ہے۔پاکستان ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔پاک فوج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت دیتی ہے۔بھارتی وزیر دفاع کا دماغ سٹھیا گیا ہے۔مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے جلد وزیر اعظم کو کمیٹی کی طرف سے پلان آف ایکشن پیش کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور،معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے حکومتی کشمیر کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ہمارے نزدیک 370 کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔آبادیاتی تبدیلی کے لیے بھارت کشمیریوں کی نسل کشی سمیت ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کمیٹی کے پہلے اجلاس کے فیصلوں اور مشاورت سے میڈیا کو آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر صورتحال کو مزید بگاڑنے کے لیے کوئی بھی اقدام کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ روز جمعہ کو دنیا بھر نے دیکھا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے کشمیری کسی قسم کی رکاوٹ کی پروا نہ کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلے۔بھارت کی طرف سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ وہ کوئی مخصوص آپریشن کر سکتا ہے بروقت عالمی برادری کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔پاکستانی قوم اور ادارے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مزید لابنگ کو بڑھائیں گے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی کشمیریوں کو بدترین بربریت کا سامنا ہے۔ہر آپشن زیر غور ہے۔دنیا کے ہر فورم پر جا سکتے ہیں۔وزارت خارجہ میں خصوصی کشمیر سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وسیع سوچ کے تحت یہ سیل قائم کیا جا رہا ہے اور سیکرٹری خارجہ سے جلد اس سیل کے ڈھانچے کے بارے میں رپورٹ مانگ لی گئی ہے۔دنیا کے بڑے اور اہم دارالحکومتوں میں پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز میں کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔باقاعدہ فوکل پرسنز موجود ہوں گے کشمیر کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کے سیاسی کے ساتھ عسکری پہلو کو بھی دیکھا ہے اس موقع پر جی ڈی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا دیا ہے انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کی جارہی ہے اور مصنوعی کور کے ذریعے اسے دنیا سے چھپایا جا رہا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ جب صورتحال تھوڑی بہت بھی معمول پر آئی تو شدید بڑھے گا۔بھارتی آرمی کمانڈرز کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں پاکستان صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے۔بھارت کوئی بھی بہانہ بنا سکتا ہے مسلح افواج تیار ہیں دفاع وطن کے لیے ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بھارت نے مہم جوئی کی کوشش کی تو ایسے بھر پور جواب دیا جائے گا وہ ایل او سی کے قریب بھی فوجی دستوں میں اضافہ کر رہا ہے حالات پر پوری طرح نظر ہے۔ہم ایک ذمہ دار ملک ہیں اور کوئی ایسی کوشش نہیں کیا جائے گا جس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے۔بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کا بیان بھی آ گیا ہے۔ریاست پاکستان کا یہ بیانیہ درست ثابت ہو رہا ہے کہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔دنیا کو ایسے سمجھنے کی ضرورت ہے یہ کسی علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق اور نسل کشی کا معاملہ ہے جس کی وجہ سے دو ایٹمی ممالک میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اتنی بڑی پیشرفت ہوئی ہے ابھی اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا ۔اگر اتفاق رائے نہ ہوتا تو اجلاس نہ ہوتا ہے کوئی بھی بڑی طاقت رکاوٹ بن جاتی بھارت کے موقف کو مسترد کیا گیا ہے اگرچہ اس نے بڑی طاقتوں سے رابطے بھی کیے۔پاکستان کے 13 اگست کے خط کے مطابق اجلاس ہوا۔سلامتی کونسل نے تشویش کا اظہار ہے آبزرویشن اور مانیٹرنگ کی بات کی گئی پوری پاکستانی قوم بھارتی اقدامات کو مسترد کر چکی ہے اب تو بھارت میں بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور 200 افراد بھارتی سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔5 دہائیوں کے بعد مسئلہ کشمیر اس طرح اجاگر اور اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ایک لمبی لڑائی لڑنی ہے ہر محاذ پر لڑنا ہے ہر آپشن زیر غور ہے عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے اس بارے میں وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اپنی رائے دیں گے سلامتی کونسل سے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔کشمیر کمیٹی پلان آف ایکشن مرتب کرے گی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا اور کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان آگے بڑھے گا ایک سوال کے جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مغربی سرحد پر بھی ہماری توجہ ہے مشرقی سرحد پر جو ضرورت ہوگی جواب دیا جائے گا دفاع وطن کے لیے پاک فوج مکمل طور پر تیار ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب کسی کے دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو وہ 5اگست جیسا اقدام کرتا ہے جو بھارت نے کیا اور جب کسی کا دماغ سٹھیاتا ہے تو وہ ایسا بیان دیتا ہے جیسا بھارتی وزیر دفاع نے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کوئی دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ ضمیر کی آواز ہے دنیا کی مضبوط جمہورتوں کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے اور مزید سننا ہوگی کیونکہ یہ ان کے جمہوری اقدار کے لیے انتہائی اہم ہے دنیا اگر خاموش رہتی ہے کہ یہ اس کی مجرمانہ غفلت ہوگی مودی نے نہرو کے بھارت کو دفن کر دیا ہے دریں اثنا کشمیر کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، چیئرمین قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی برائے امور خارجہ مشاہد حسین سید، چیئرمین سینٹ کمیٹی برائے امور خارجہ سید فخر امام ، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، سید نوید قمر ،ممبران خصوصی کمیٹی ،اٹارنی جنرل آف پاکستان سول و عسکری قیادت شریک ہوئے ۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سکیورٹی کونسل کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس اور اس کے ثمرات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی ،واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔qa/aa/ah

Scroll To Top