شناخت کی بنیاد۔۔وطنیت شہریت یا مصطفویت ﷺ ؟ (پہلا حصہ )

میرے نزدیک کرہ ءارض کی تقسیم جب سے مختلف اقوام کے درمیان ہوئی ہے ` یعنی اس پر جب سے انسانوں کے مختلف گروہوں نے اپنی حاکمیت کے علاقے جزیرے یا ممالک قائم کئے ہیں ` ” شناخت “ کے معاملے نے خودبخود بے پناہ اہمیت اختیار کرلی ہے۔ شناخت کے بہت سارے پیمانے ہیں۔ کچھ کا تعلق حسب نسب اور نسل سے ہے۔ کچھ پیمانے لسانی اور علاقائی ہیں اور کچھ کی بنیاد وہ فرق ہے جو عقائد کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔
قرآن حکیم میں کرہ ءارض پر غلبہ پانے والی اقوام کی پہچان واضح طور پر کرائی گئی ہے۔ تاریخ میں بڑی مدت تک کرہ ءارض پر قوموں اور مملکتوں کی شناخت اُن بستیوں کی بدولت ہوا کرتی تھی جو دریاﺅں کے قرب وجوار میں آباد ہوا کرتی تھیں۔ قرآن حکیم میں قومِ عاد اور قومِ ثمود کا ذکر متعدد مقامات پر آتا ہے۔ صدوم شہر میں آباد اس قوم کا ذکر بھی ہے جس میں حضرت لوط علیہ السلام پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ قومِ اسرائیل کا ذکر تو بڑی کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کو کہا جاتا ہے جن کے والد حضرت اسحاقؑ دادا حضرت ابراہیم ؑ اور چچا حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ بنی نوع انسان کو ہدایت عطا کرنے والے تمام بڑے انبیاءکرام بنی اسرائیل میں سے تھے۔ صرف آخری نبی اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے بھیجا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی شناخت ساتویں صدی عیسوی سے لے کر آج تک اس نبی (ﷺ ) کی اُمت کی حیثیت سے ہوتی ہے۔
شناخت کا ایک اور مقبول پیمانہ علاقائیت نسلیت اور لسانیت کا امتزاج ہے ۔ جیسے یونانی ` مصری ` عراقی ` شامی ` رومی ` فرانسیسی ` جرمن ` امریکی اور برطانوی وغیرہ۔ شناخت کے اس پیمانے کی رُو سے ہم پاکستانی کہلاتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملکوں کی شناخت بھارتی ` افغانی اور ایرانی ہے۔ چاروںطرف مختلف شناختوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ روسی بھی ہیں ` چینی بھی ہیں ` کوریائی بھی ہیں ` ویت نامی بھی ہیں اور جاپانی بھی ہیں۔ میں یہاں اپنے آپ کو اپنی پاکستانی شناخت تک محدود رکھنا چاہتا ہوں ۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال مجھے ایک ٹی وی پروگرام میں ہونے والی ایک حالیہ بحث سن کر آیا ہے۔ اس بحث کا تعلق گزشتہ اتوار کو پشاور کے ایک گرجے میں ہونے والے اندوہ ناک سانحے سے تھا اس سانحے میں ہمارے درجنوں مسیحی ہم وطن دہشت گردوں کی ایک وحشیانہ کارروائی کی نذر ہوگئے۔
متذکرہ بحث میں شرکت کرنے والوں میں ایک مسلمان عالم ِ دین کے ساتھ ایک عیسائی بشپ بھی تھے۔ ناموں کے ساتھ شناخت کرانا یہاں ضروری نہیں۔
مسلمان عالمِ دین نے عزت و احترام کے اس مقام پر روشنی ڈالنے کے لئے جو مسلمان ابن مریم ؑ کے پیروکاروں کو دیتے ہیں رسول اکرم سے منسوب ایک ارشاد کا ذ کر کیا۔ اس ارشاد میں آپ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک ذِمّیوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔
ذِمّیوں کی اصطلاح پروگرام میں شریک مسیحی رہنما کو اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم ذِّمی وغیرہ نہیں ہیں۔ ہم سو فیصد پاکستانی ہیں۔ ہم نے بھی اس ملک کے قیام کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور اس کی سا لمیت اور بقاءکے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔“
اپنی اس بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے موصوف نے قائداعظم ؒ کی اسی تقریر کا حوالہ دیا جس کا حوالہ ہمارے سیکولر کرم فرما اکثر دیا کرتے ہیں اور جس میں بابائے قوم نے فرمایا تھا ” اب ہم آزاد ہیں۔ مسلمان مسجدوں میں اور عیسائی گرجاگھروں میں جاکر عبادت کرنے کے لئے اور ہندو مندروں میں جاکر۔ عبادات کا ریاستی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس تقریر کاحوالہ دیتے ہوئے محترم بشپ نے زور دے کر کہا کہ ہم خود کو پاکستان کا شہری سمجھتے ہیں ` ذِ مّی ہر گز نہیں۔
اس موضوع پر میں کئی بار قلم اٹھا چکاہوں لیکن اس مرتبہ ” ذِمّی “ کا معاملہ اٹھاہے۔ اور یہ معاملہ بھی شناخت کا ہے۔
یہ درست ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہریوں کی مشترکہ شناخت یہی ہے کہ وہ پاکستانی ہیں خواہ ان کی نسل ` ان کی زبان اور ان کا مذہب کوئی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ہم یہ بات کیسے فراموش کرسکتے ہیں کہ 14اگست 1947ءسے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نام کا کوئی ملک موجود نہیں تھا۔ ؟ ہم اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کرسکتے کہ پاکستان کا قیام کسی خانہ جنگی یا علاقوں کی بندر بانٹ کے نتیجے میں عمل میں نہیں آیا تھا۔
پاکستان کے وجود میں آنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جدا گانہ شناخت کا پرچم بلند کرکے برصغیر کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ اور اس تاریخی مطالبے کو ایک تحریک بنا کر بابائے قوم نے بھارت کی ہندو اکثریت اور اس پرحکومت کرنے والے برطانوی استعمار کو مجبور کردیا تھا کہ ”دو قومی نظریہ “ کی تاریخی حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔(جاری ہے )
(یہ کالم اس سے پہلے بھی 26-09-2013 کو شائع ہوا تھ)

Scroll To Top