کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، آج کا دن عمران خان آزاد کشمیرمیں گزاریں گے

  • سیاسی اختلاف ہو سکتے ہیں ،لیکن اس وقت متفق ہو کر تنازع کے حل کیلئے آواز بلند کرنی چاہئے، سفارتی، سیاسی اور قانونی طور پر اپنا موقف آگے بڑھائیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں بھارت کے مقابلے میں بارے ہمارا کیس مضبوط ہے
  • وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں سیاسی قیادت، مسلح افواج، کشمیری رہنما، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سمیت آئی ایس پی آر کی نمائندگی ہے، اعلیٰ سطحی کمیٹی جائزہ لے گی کتنے معاہدے پاکستان کے حق میں اور کون سے نقصان دہ ہیں، وزیر خارجہ

مظفر آباد (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 14 اگست 2019ءکو یوم آزادی کے موقع پر آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور اسمبلی سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پر مفصل نکتہ نظر پیش کریں گے، 14 اگست کو اسلام آباد میں ریلی کا انعقاد کیا جائے گا اور ایک مشترکہ مقصد کیلئے سب کو اس میں حصہ ملانا ہوگا، ہماری سیاسی پسند، ناپسند یا اختلاف ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں لیکن اس وقت ہم سب کو متفق ہو کر آواز بلند کرنی چاہئے، سفارت کاری کو ترجیح دی اور فیصلہ کیا کہ ہم سفارتی، سیاسی اور قانونی طور پر اپنا موقف آگے بڑھائیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مضبوط کیس ہے۔ پیر کو عیدالاضحی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے وزیر خارجہ نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف تقریبات میں شرکت کی۔(باقی صفحہ 7 نمبربقیہ5 )

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جب کشمیر سے آواز اٹھی گی تو اس کا وزن بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان 14 اگست کو کشمیر کے دورہ کے دوران اسمبلی سے خطاب کریں گے اور تنازعہ کشمیر کے حوالہ سے اپنا تفصیلی نکتہ نظر پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو اسلام آباد میں ایک ریلی ہوگی، وہاں سب کو اس میں شامل ہونا چاہئے اور ایک مشترکہ مقصد کیلئے ہم سب کو حصہ ملانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سیاسی پسند، ناپسند یا اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم کو اس وقت ایک مشترکہ مقصد کیلئے متفق ہونا ہوگا تاکہ آواز بلند کر سکیں۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے حوالہ سے ہم بہت محتاط رہے ہیں، ہمیں اندازہ تھا اور ہے کہ اس حوالہ سے غلط فہمیاں پیدا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان میں کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جس سے تاریخی مسئلہ کشمیر کی حیثیت میں کوئی فرق آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو بااختیار بنایا ہے، اس حوالہ سے بعض طبقات کا مطالبہ تھا کہ اس کو صوبہ بنایا جائے لیکن ہم نے اس کو کشمیر کے تنازعہ میں دیکھا۔ شملہ معاہدہ کے حوالہ سے انہوں نے کہاکہ یہ معاہدہ 1972ءمیں ہوا جس میں تنازعہ کشمیر کے دوطرفہ حل پر زور دیاگیا لیکن بھارت نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے حلف سے قبل قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر بھارت امن کی جانب ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے لیکن بھارت نے بالاکوٹ میں جو کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ اس تناظر میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جتنے بھی دوطرفہ معاہدے ہیں، ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا میں سربراہ ہوں۔ کمیٹی میں سیاسی قیادت، مسلح افواج، کشمیر کی قیادت، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سمیت آئی ایس پی آر کی بھی نمائندگی ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی ان معاہدوں کا جائزہ لے گی تاکہ ہم یہ جان سکیں گے ان معاہدوں کو چھیڑنے سے ہمیں فائدہ یا نقصان ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ حکومتیں جذبات کی بجائے ہمیشہ تاریخ کے تناظر میں فیصلہ کرتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے بارے میں انہوں نے کہاکہ حالات میں تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے لیکن آپ کو خود پر اعتماد رکھنا چاہئے۔ وزیراعظم نے امریکا میں تنازعہ کشمیر پر اپنا بھرپور موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے حالیہ اقدامات کو سلامتی کونسل میں پیش کریں گے، اس حوالہ سے کوئی پریشانی نہیں۔ ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم سب کشمیر کاز اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں، پاکستان نے بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد سفارت کاری کو ترجیح دی اور فیصلہ کیا کہ ہم سفارتی، سیاسی اور قانونی طور پر اپنا موقف آگے بڑھائیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مضبوط کیس ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے جبکہ بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس تنازعہ کو خود تسلیم کیا تھا اور اب اس سے رائے فرار اختیار کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ یہ میں نہیں کہتا لیکن بھارت کے عوام اور پڑھا لکھا طبقہ کہہ رہا ہے کہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی سے بھارت نے خود اپنے آئین سے غداری کی ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے اس نے سیکورٹی کونسل کا بند دروازہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازعہ کا فوجی حل نہیں ہے، یہ خودکشی ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دنیا یہ دیکھنا چاہتی ہے ؟۔ انہوں نے کہاکہ ہم جنگ نہیں چاہتے، جنگ ہمارا آپشن نہیں ہے لیکن ہم اپنا دفاع کریں گے۔ تنازعہ کشمیر اب عوام کی تحریک بن چکی ہے جس کو پرامن طریقے سے آگے بڑھائیں گے۔ وزیراعظم کے دورہ نیویارک کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم خود نیویارک جا کر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، ان کے ساتھ ملک کی دیگر قیادت بھی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے اقدامات کے حوالہ سے عالمی برادری سے رابطے کیلئے خصوصی وفود بھیجے جائیں گے، اس حوالہ سے جو حکمت عملی ہوگی آپ کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر پر ملک میں کوئی اختلاف نہیں، ہم سب اکٹھے ہیں جس کا آج عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر میں سیاست کو نہ پروئیں، یہ سیاست سے الگ ہے، ہم کو ملکر آگے بڑھنا ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یٰسین ملک کا بے پناہ احترام کرتے ہیں، ہمیں ان کی حالت پر تشویش ہے جو اس وقت دہلی کی جیل میں قید ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی اہلیہ ان کی صحت کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں مطلع کر چکی ہیں، بھارت ان کو ویزہ دے اور اپنے خاوند سے ملاقات کی اجازت دے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کلبھوشن کی قونصلر رسائی کا تو مطالبہ کرتا ہے، اس لئے اس کو یٰسین ملک کی اہلیہ کو بھارت آنے کی اجازت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں کشمیر کے حوالہ سے اپنی آواز پہنچانے کیلئے ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ بھارت کے منصوبے کو ملکر ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ آج مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے، ان سے ریلی میں ملاقات ہوئی جو یکجہتی کا اظہار ہے۔ خواتین کی گرفتاری کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سیاسی ایجنڈے کو کشمیر کے ایجنڈے میں نہ ملایا جائے اور اس کو کشمیر کے ایجنڈے میں نہ لپیٹیں، ہم سب کشمیر کاز پر متفق ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم پاکستان میں سیاست کریں اور یہ جمہوری حق بھی ہے، سیاسی سوالوں کا ہم جواب بھی دیں گے لیکن کشمیر کے مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کوئی ایک جماعت کسی فرد کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ سوچ اور نظریے کی پابند ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج یکجہتی کے اظہار کیلئے میرے ساتھ صدر آزاد کشمیر موجود ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے، ان کا یہاں بیٹھنا کشمیر کاز کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے پاکستان کی سیاست کشمیر کے جھنڈے تلے کی تو اس سے کشمیر کاز کو فائدہ نہیں ہوگا، کشمیر پر متفق رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دواﺅں اور غذا کی قلت ہو سکتی ہے، وہاں پر میڈیا پر پابندی ہے اور اطلاعات تک رسائی نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ کل یہاں الجزیرہ اور ترکش ٹی وی سے وابستہ افراد آئے تھے اور ہم نے ان سے سوال کیا تھا کہ ایل او سی اور مظفرآباد میں آپ لوگوں سے مل رہے ہیں، ہم اس کیلئے حاضر ہیں اور جوابدہ بھی ہیں لیکن کیا یہ کوشش بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ الجزیرہ سرینگر میں جے شنکر کا انٹرویو کرے، ٹی آر ٹی سرینگر میں ہندوستان کے وزیر خارجہ سے یہی سوال کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں تو اس نے میڈیا پر اپنے دروازے کیوں بند کئے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ بھارت لوگوں کو اب بولنے کا حق تو دے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت خود ہی انسانی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے اداروں کو انسانی مسائل کے تناظر میں کشمیر میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں تو انٹرنیشنل این جی اوز کے بارے میں سوال ہوتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ آج کشمیری فاشزم کا سامنا کر رہے ہیں اور مودی کی حکومت نازی سوچ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو جاگنا ہوگا اور اس حوالہ سے ہماری حکومت بھی دنیا کو باخبر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کور کو مدعو کیا اور ہر سفیر تک اپنی تشویش پہنچائی اور کہا کہ اپنے اپنے دارلخلافوں کو پیغامات بھجوائیں کہ وہاں پر خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ سویڈن نے اس حوالہ سے تشویش کا اظہار کیا ہے، یورپی یونین کی سربراہ کے بیان میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کے ایوان نمائندگان کے 45 اراکین نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنی پٹیشن ارسال کی ہے، سیکرٹری جنرل بھی متنازعہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنے کے بارے میں بیان دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ ہم نے یہ اقدام کشمیریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا ہے، کیا پہلے وہاں پابندی تھی اور کونسا بھارتی قانون مقبوضہ کشمیر میں ترقی کی مخالفت کرتا تھا، یہ سب ایک ناٹک ہے جو مقبوضہ علاقہ میں اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کا فوجی حل اجتماعی خودکشی ہے۔

Scroll To Top