پاکستان موجودہ بحران کو بڑھانا نہیں چاہتا !

  • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان کشمیریوں اور پاکستان کے لیے بڑی حد تک حوصلہ افزاءہے
    تنازعہ کشمیر کو عالمی برداری کے سامنے رکھنے میں چین کی مدد سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا
    مبصرین متفق ہیں کہ مودی سرکار کا تازہ اقدام دہائیوں سے پچیدہ مسلہ کو فیصلہ کن پوزیشن پر لے آیا

بھارت کو طاقت سے جواب دینے کے حامی پاکستانیوں کو صبر وتحمل کرنا ہوگا
اب تک کشمیر بارے بھارتی اقدام کو شائد ہی کسی مہذب ریاست نے سراہا ہو، ایسا تنازعہ جو سالوں سے نہیں کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں حل طلب ہے محض ایک حکم کے زریعہ کیونکر حل ہوگا ،کوئی ماننے یا نہ ماننے پر مگر پاکستان اب تک سفارتی محاذ پر بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہا ہے ، تازہ پیش رفت میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان کشمیریوں اور پاکستان کے لیے بڑی حد تک حوصلہ افزاءہے ، انٹونیوگو تیرس کا دوٹوک انداز میں کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیثت تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے، نیویارک سے جاری پیغام میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا موقف تھا کہ کشمیر کے معاملہ پر فریقین صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ، ان کے بعقول بھارتی پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر میں صورت حال تشویشناک ہوسکتی ہے ۔“
ادھر وزیر خارجہ کے دورہ چین کو بھی درست سمت میں درست قدم کے طور پر دیکھا جارہا، بجینگ برملا طور پر بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کرچکا، درحقیقت چین کی اہمیت یوں ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل ممبر ہے لہذا مسلہ کشمیر کو عالمی برداری کے سامنے رکھنے میں چین کی پاکستان کی مدد سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
اقوام متحدہ میںپاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا یہ کہنا قابل غور ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370کے خاتمہ کا معاملہ ہرگز بھارت کا اندرونی مسلہ نہیں، مذید یہ کہ پاکستان اس بحران کو بڑھانا نہیں چاہتا بلکہ سفارتی اور سیاسی انداز میں تنازعہ کشمیر کا حل چاہتا ہے ، امریکی نشریاتی ادارے کو دئیے گے انٹرویو میں ملحیہ لودھی نے پاکستان کی طرف سے عسکری آپشن کے استمال کرنے کے امکان کو کلی طور پر رد کردیا۔
جمعرات کی رات بھارتی فوج کی چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کنولجیت سنگھ ڈھلون نے یہ مضحکہ خیز بیان دے ڈالا کہ پاکستان اور اس کے افواج مقبوضہ وادی میںبدامنی پھیلانے کے زمہ دار ہیں ۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت اور دوٹوک انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان دراصل مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک ”مس ایڈونیچر “کا بہانہ تراشنا ہے “۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مودی سرکار کا تازہ اقدام مسلہ کشمیر کو فیصلہ کن پوزیشن پر لے آیا، وادی میں اہل کشمیر کے متوقع شدید ردعمل کے بعد تحریک آزادی نئے مرحلہ میں داخل ہونے جارہی۔ سچائی یہ ہے کہ کوئی اور نہیں نریندر مودی ہی ہیں جو اب تک کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نئی توانائیوں سے روشناس کرتے چلے آرہے ۔ یہ آزمودہ قول ہے کہ ہر عمل کا درعمل ہوتا ہے مگر انتہاپسند مودی اور اس کے ہم خیال سمجھتے ہیں کہ جس انداز میں وہ بھارت کے اندر دیگر مسلمانوں کا جبرواستحصال کامیابی سے کررہے وہی یہ فارمولہ کامیابی سے اہل کشمیر پر بھی لاگو ہو گا۔ ٹھیک کہا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کرتا دھرتا حضرات نے خوفناک کھیل کی بنیاد رکھ دی ، ہندو اکثریت کے حامل بھارت میں اقلتیں ہرگز کم تعداد میں نہیں مگر اکھنڈ بھارت کے فلسفہ پر یقین رکھتی ہے بی جے پی غیر ہندو اس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
بھارت کو طاقت سے جواب دینے کے حامی پاکستانیوں کو صبر وتحمل کرنا ہوگا، یاد رکھا جائے کہ دنیا حقیقی منعوں میں گلوبل ویلج بن چکی لہذا ممکن نہیںکہ ایک ملک کے حالات اس کے پڑوسی یا ٰخطے کے دیگر ملکوں پر اثر انداز نہ ہوں۔ اب تو صورت حال یوں ہے کہ کوئی ایک واقعہ بھی اقوام عالم کے نقطہ نظر کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اگر مگر کے باوجود پاکستان کے لیے بہترین راستہ سیاسی اور سفارتی انداز میں جدوجہد کا ہے ،پاکستان کو پوری قوت اور سنجیدگی سے دنیا کو بتاتے رہنا چاہے کہ اسلام آباد کسی طور نئی دہلی سے تصادم نہیں چاہتا، مذید یہ کہ دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں میں کشیدگی کو ہرگز زمہ دارنہ نہیں ،پاکستان اور بھارت میںمذاکرت ہی مسائل کا حل ہیں مگر بات چیت کو وقت گزاری کو بہانہ نہیں بنا چاہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے پوری طرح متحرک ہے ، اسلام آباد امریکہ اور طالبان سے ہرگز یہ مطالبہ نہیں کررہا کہ کابل میںاس کی مرضی ومنشاءکے مطابق حکومت تشکیل دی جائے، اس کے برعکس پاکستان افغانستان میں امن اور صرف امن کا خواہشمند ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ظہور پذیر ہو، دراصل یہی پالیسی کشمیر بارے ہے، پاکستان تحریک آزادی کی چاہتا ہے وہ کسی ایسے اقدام کے لیے تیار نہیں جو تقسیم ہند سے لے کر اب تک کی کشمیریوں کی جدوجہد کو رائیگاں کردے۔
اہل کشمیر کی جدوجہد ایک نئے موڈ پر پہنچ چکی جس میں جہاں کامیابی کے امکانات روشن ہیں وہی ناکامی کے وجود سے بھی انکار ممکن نہیں لہذا کشمیری قیادت کو اپنی صفوں میںاتفاق واتحاد کو فروغ دیتے ہوئے ان عناصر پر گہری نظر رکھنی ہوگی جو چند ٹکوں کے عوض اپنی ضمیر کا سودہ کرنے ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ چانکیہ سیاست کے پیروکاروں کی چالوں کو ہرگز آسان نہ لیا جائے ۔ اب تک بھارت چالاکی ، مکاری اور جھوٹ سے کام لے کر ہی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا چلا آرہا۔ دراصل پاکستان میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں جو قومی تقاضوں کو انفرادی اور گروہی مفادات پر فوقیت دینے بارے معروف ہیں لہذا پوری طرح چوکنا رہنا ہوگا۔

Scroll To Top